Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

سیاست سے بڑی انسانیت

کچھ لمحے محض سیاسی نہیں ہوتے وہ اخلاقی کسوٹی بھی بن جاتے ہیں۔ ایسے لمحات میں ایوانِ اقتدار سے زیادہ اہم انسان کا ضمیر ہوتا ہے۔ آج پاکستان ایک ایسے ہی موڑ پر کھڑا ہے جہاں فیصلے صرف آئینی اور انتظامی نہیں بلکہ انسانی بھی ہیں۔ سیاسی کشمکش اپنے عروج پر ہے۔ بیانیے ایک دوسرے سے برسرِ پیکار ہیں اور معاشرہ تقسیم کی لکیر پر چل رہا ہے۔ ایسے میں اگر عمران خان کی صحت کے حوالے سے تشویش کی خبریں سامنے آئیں تو یہ معاملہ محض ایک سیاسی رہنما کا نہیں رہتا یہ ریاستی کردار اور قومی اخلاقیات کا امتحان بن جاتا ہے۔سیاست میں اختلاف فطری ہے۔ جمہوریت اسی اختلاف سے زندہ رہتی ہے۔ مگر اختلاف اور انتقام میں ایک واضح فرق ہوتا ہے۔ جب بیماری کو سیاسی ہتھیار بنایا جائے۔ جب علاج کو انسانی حق کے بجائے کسی رعایت یا سودے بازی کا حصہ سمجھا جائے تو یہ محض سیاسی رویہ نہیں رہتا یہ اخلاقی زوال کی علامت بن جاتا ہے۔ ایک رہنما سے اختلاف کیا جا سکتا ہے اس کی پالیسیوں پر شدید تنقید ہو سکتی ہے مگر بیماری پر سیاست کرنا کسی مہذب قوم کا شیوہ نہیں۔یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ اگر خدانخواستہ عمران خان کی صحت کو کوئی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا تو اس کے اثرات صرف ایک فرد یا ایک جماعت تک محدود نہیں رہیں گے۔ بہت سوں کی طاقت اور اقتدار کا بوریا بستر گول ہو سکتا ہے۔ سیاسی توازن بگڑ سکتا ہے۔ عوامی ردعمل ایک ایسے طوفان کی صورت اختیار کر سکتا ہے جسے قابو کرنا آسان نہیں ہوگا۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب عوام کو یہ احساس ہو جائے کہ ان کے رہنما کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے تو ردعمل محض سیاسی نہیں رہتا وہ جذباتی ، سماجی صورت بھی اختیار کر کے ذاتی انتقام کی صورت بھی اختیار کر سکتا ہے۔ اس وقت ملک کو جس سمت دھکیلا جا رہا ہے وہ ایک بند گلی کا منظر پیش کرتی ہے۔ معیشت پہلے ہی دبا میں ہے سماجی ہم آہنگی کمزور ہو چکی ہے اور سیاسی تقسیم گہری ہوتی جا رہی ہے۔ قوم کو تقسیم در تقسیم کیا جا رہا ہے۔ ایک طبقہ دوسرے کو غدار کہتا ہے دوسرا پہلے کو فتنہ قرار دیتا ہے۔ یہ تقسیم اگر اسی طرح بڑھتی رہی تو خدانخواستہ کسی بڑے سانحے کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ اور ایسے سانحات کبھی صرف ایک فریق کو نہیں لپیٹتے وہ پوری قوم کو اپنی گرفت میں لے لیتے ہیں۔طاقتور حلقوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ طاقت دائمی نہیں ہوتی۔ اقتدار کا سورج بھی ڈھلتا ہے۔ جو آج اختیار میں ہیں کل انہیں بھی جواب دینا ہوگا۔ اس لیے دل و دماغ کو ٹھنڈا رکھ کر انسانیت کا سبق یاد کرنا ضروری ہے۔ عوام کو گدھے گھوڑے نہیں بلکہ باشعور انسان سمجھنا چاہیے۔ وہ دیکھ رہے ہیں وہ پرکھ رہے ہیں وہ یاد رکھ رہے ہیں۔ ان کی رائے کا احترام ہی جمہوریت کی اصل بنیاد ہے۔جمہوریت کا حسن انتقام نہیں بلکہ برداشت ہے۔ برداشت ہی وہ قوت ہے جو معاشروں کو ٹوٹنے سے بچاتی ہے۔ آج اگر عمران خان علیل ہیں تو ریاست کی ذمہ داری ہے کہ انہیں مکمل شفاف اور بروقت علاج فراہم کرے۔ یہ کسی احسان کا نام نہیں یہ ایک بنیادی انسانی اور آئینی حق ہے۔ قانون کی عملداری اپنی جگہ مگر انسانی جان کی حرمت سب سے مقدم ہے۔یہ بھی یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ سیاسی اختلاف کے باوجود انسانیت کا دامن نہیں چھوڑا جاتا۔جب نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز شدید علالت میں تھیں تو شدید سیاسی کشیدگی کے ماحول میں بھی ان کے لیے دعا کی گئی اختلاف اپنی جگہ مگر بیماری کو سیاسی ہتھیار نہیں بنایا گیا۔ یہی وہ اخلاقی معیار ہے جو قوموں کو بڑا بناتا ہے۔ سیاسی معرکے اپنی جگہ مگر بیماری پر سیاست قوموں کو چھوٹا کر دیتی ہے۔سوال یہ نہیں کہ کون کس جماعت سے تعلق رکھتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم ایک مہذب معاشرہ ہیں۔ کیا ہم اس قابل ہیں کہ اپنے سیاسی مخالف کے لیے بھی انصاف اور علاج کا مطالبہ کر سکیں۔ اگر ہم یہ نہیں کر سکتے تو پھر ہماری سیاست محض اقتدار کی کشمکش رہ جائے گی جس میں اخلاق اور اصول کا کوئی مقام نہیں ہوگا۔ریاست کا اصل کام صرف نظم و نسق چلانا نہیں بلکہ اعتماد قائم کرنا بھی ہے۔ جب عوام یہ دیکھتے ہیں کہ قانون سب کے لئے برابر ہے اور بنیادی انسانی حقوق کا احترام کیا جا رہا ہے تو ان کا اعتماد مضبوط ہوتا ہے۔ لیکن اگر انہیں یہ محسوس ہو کہ سیاسی بنیادوں پر امتیاز برتا جا رہا ہے تو بے چینی بڑھتی ہے اور جب بے چینی اجتماعی شکل اختیار کر لے تو اسے روکنا آسان نہیں رہتا۔پاکستان اس وقت ایک نازک دور سے گزر رہا ہے۔
ہمیں جذباتی نعروں سے زیادہ سنجیدہ حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ محاذ آرائی کی سیاست ہمیشہ نقصان دیتی ہے۔ اگر حالات کو مزید کشیدہ کیا گیا تو یہ آگ سب کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ معاملے کو انسانیت کے دائرے میں رکھا جائے نہ کہ سیاسی انتقام کے خانے میں۔قومیں صرف آئین اور قوانین سے نہیں چلتیں بلکہ اخلاقی اقدار سے بھی چلتی ہیں۔ جب اخلاقی معیار گر جائے تو قانون بھی بے اثر ہو جاتا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ آنے والی نسلیں ایک مستحکم اور پرامن پاکستان دیکھیں تو ہمیں آج برداشت، انصاف اور احترام کا راستہ اپنانا ہوگا۔ دروازے بند کرنے سے راستے ختم ہو جاتے ہیں۔ مکالمہ ہی وہ پل ہے جو تقسیم کو کم کر سکتا ہے۔انسانیت کا تقاضا ہے کہ بیماری کو ہتھیار نہ بنایا جائے۔ ایک بیمار شخص سب سے پہلے مریض ہوتا ہے سیاست دان بعد میں۔ اگر ہم اس بنیادی اصول کو تسلیم کر لیں تو کشیدگی کی شدت خود بخود کم ہو سکتی ہے۔ طاقتوروں کو یاد رکھنا چاہیے کہ عوام کو کمتر سمجھنا یا ان کی رائے کو نظرانداز کرنا پائیدار حکمت عملی نہیں۔ عوام کی عزت ہی ریاست کی عزت ہے۔آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ سیاست وقتی ہے مگر انسانیت دائمی۔ اقتدار آتا جاتا رہتا ہے مگر کردار تاریخ میں ثبت ہو جاتا ہے۔ آج اگر ہم نے برداشت اور انسانیت کا راستہ اختیار کیا تو یہی فیصلہ ہمیں بند گلی سے نکال سکتا ہے اور اگر ہم نے بیماری پر بھی سیاست کی تو وقتی فائدہ شاید مل جائے مگر قومی نقصان ناقابلِ تلافی ہوگا۔سیاست سے بڑی انسانیت ہے۔ یہی اصول ہمیں تقسیم سے بچا سکتا ہے، یہی ہمیں ٹکرا کے راستے سے نکال کر استحکام کی شاہراہ پر لا سکتا ہے۔ فیصلہ آج کے طاقتوروں کو کرنا ہے کہ وہ تاریخ میں کس نام سے یاد رکھے جانا چاہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں