چین کی حکومت نے نیکڈ آفیشلز Naked Officials کی پالیسی کو اپنی انسدادِ بدعنوانی اور قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مرکزی حصہ بنایا ہے۔یہ اصطلاح کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے اعلیٰ افسران کے لیے استعمال ہوتی ہے جن کے شریک حیات اور بچے بیرون ملک خاص طور پر مغربی ممالک جیسے امریکہ، برطانیہ، کینیڈا یا آسٹریلیا میں رہائش پذیر ہوتے ہیں جبکہ افسران خود چین میں رہتے اور کام کرتے ہیں۔ اس پالیسی کا مقصد کرپشن کو روکنا، وفاداری کو یقینی بنانا اور غیر ملکی دبائو سے بچا ہے۔ صدر شی جن پنگ کی قیادت میں یہ پالیسی 2010 ء کی دہائی سے شروع ہوئی اور 2025 ء تک اب یہ مزید سخت ہو گئی ہے۔نیکڈ آفیشلز کی اصطلاح 2010 ء کے آس پاس مقبول ہوئی جب چین کی حکومت نے محسوس کیا کہ ایسے افسران کرپشن کے ذریعے حاصل شدہ پیسہ بیرون ملک منتقل کر کے بھاگنے کا پلان رکھتے ہیں۔ یہ افسران نیکڈ Naked ہیں،کیونکہ ان کے خاندان پہلے ہی اثاثوں اور رہائش کے انتظام کے ساتھ بیرون ملک منتقل ہو چکے ہوتے ہیں۔ 2014 ء میں چین کی کمیونسٹ پارٹی نے پہلی بار اس مسئلے پر منظم کارروائی کی۔ گوانگ ڈونگ صوبے میں تقریباً 900 مڈ لیول افسران کو نوکری سے ہٹایا گیا یا ڈیموٹ کیا گیا کیونکہ ان کے خاندان بیرون ملک تھے۔ ملک میں سروے سے پتہ چلا کہ 3 ہزار دو سو سے زیادہ ایسے نیکڈ آفیشلز موجود تھے جن میں سے ایک ہزار سے زائد افسران کو سزا دی گئی کیونکہ انہوں نے خاندان کو واپس لانے سے انکار کیا تھا۔ یہ پالیسی شی جن پنگ کی اینٹی کرپشن مہم کا حصہ تھی جو 2012 ء میں شروع ہوئی تھی۔ 2014ء میں پارٹی کے آرگنائزیشن ڈیپارٹمنٹ نے حکم جاری کیا کہ ایسے افسران کو پروموشن نہیں ملے گی اور انہیں حساس عہدوں سے ہٹایا جائے گا۔
مثال کے طور پر جون 2014 میں گوانگ ڈونگ نے 8سو 66 افسران کو استعفیٰ یا ریٹائرمنٹ پر مجبور کیا۔ اسی سال چین نے ایک قانون کا مسودہ تیار کیا جس میں نیکڈ آفیشلز کو ہائی رسک گروپ قرار دے کر ان پر پابندیاں لگائی گئیں۔ 2022ء میں سی سی پی سینٹرل کمیٹی نے پالیسی کو مزید سخت کیا۔ وزارتی سطح کے افسران اور ان کے خاندانوں پر پابندی لگائی گئی کہ وہ بیرون ملک کوئی رئیل اسٹیٹ نہ رکھیں یا اوورسیز کمپنیوں میں شیئرز نہ خریدیں۔ انہیں بیرون ملک مالیاتی اکائونٹس کھولنے کی بھی ممانعت ہے سوائے تعلیم یا کام کی جائز وجوہات کے۔ وائس منسٹریل رینک یا اس سے اوپر کے افسران کو حکم دیا گیا کہ یا تو خاندان کو واپس لائیں یا نوکری چھوڑ دیں۔2025میں20 سینئر افسران کو لیڈرشپ عہدوں سے ہٹا دیا گیا۔نومبر 2025ء میں پارٹی نے اعلان کیا کہ یہ افسران سنگین خلاف ورزیوں کی وجہ سے ہٹائے گئے لیکن اصل وجہ ان کے خاندانوں کا بیرون ملک ہونا تھا۔ چین کی حکومت کے مطابق نیکڈ آفیشلز تین بڑے خطرات پیدا کرتے ہیں۔ پہلا خطرہ بدعنوانی،دوسرا مسئلہ قومی سلامتی اور تیسرامشکوک وفاداری سے جڑا ہوا ہے۔ جماعت کے نزدیک ایسے افسران ملک کے ساتھ پوری طرح مخلص نہیں رہ سکتے کیونکہ ان کی اولین ترجیح اپنے خاندان کا تحفظ ہوتا ہے۔ اس پالیسی کے ذریعے جماعت اپنے نظریاتی نظم و ضبط کو مزید مضبوط بناتی ہے۔اس پالیسی کے نتیجے میں ہزاروں افسران متاثر ہوئے۔ 2014 ء سے اب تک کئی ہزار کو ڈیموٹ کیا گیا یا ہٹایا گیا۔ 2025ء میں یہ تعداد مزید بڑھی۔ مثبت طور پر یہ کرپشن کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوئی ہے اور پارٹی کی صفائی کا حصہ ہے۔ تاہم تنقید یہ ہے کہ یہ ذاتی آزادیوں پر حملہ ہے اور اعلی افسران کے بچوں کو بیرون ملک تعلیم سے روکتی ہے۔ کچھ رپورٹس کے مطابق اب اعلیٰ افسران کے بچے چین میں آئرن رائس بال یعنی مستقل سرکاری نوکریوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔
پاکستان کی سیاسی اور انتظامی تاریخ میں بھی یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو بار بار سامنے آتا رہتا ہے لیکن اس پر کوئی ٹھوس کارروائی نہیں ہوتی۔ حال ہی میں قومی اسمبلی کی ایک کمیٹی کو بتایا گیا کہ ملک میں 22ہزارسے زیادہ بیوروکریٹس دوہری شہریت کے حامل ہیں۔ یہ اعدادوشمار نہ صرف قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں بلکہ یہ سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ ایسے لوگ جو دو ملکوں کی شہریت رکھتے ہیں پاکستان کے ساتھ کس حد تک مخلص ہو سکتے ہیں؟ ان کے بچے اکثر بیرون ملک پڑھتے ہیں۔ ان کے اثاثے مغربی ممالک میں ہیں اور وہ پاکستان کا پیسہ لوٹ کر وہاں منتقل کر دیتے ہیں۔ یہ لوگ کرپشن کے مرکزی کردار ہیں اور ملک کے سسٹم کو تباہ کرنے میں ملوث ہیں۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 2011ء میں دوہری شہریت والوں کو انتخابات لڑنے سے روک دیا تھا۔ لیکن اس کے باوجود کئی سیاستدان جیسے فیصل واڈا نے جھوٹ بول کر دوہری شہریت چھپائی اور سینیٹ کا الیکشن لڑا۔ ایسے کیسز سے پتہ چلتا ہے کہ نظام کتنا کمزور ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرپشن کی شرح 2025 ء میں مزید بڑھ گئی ہے اور اس کی وجہ یہ لوگ ہیں جو فلائٹ رسک ہیں۔ یعنی اگر پکڑے گئے تو ملک سے باہربھاگ جائیں گے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں پاکستان کرپٹ ممالک میں شامل ہے اور اس کی ایک وجہ دوہری شہریت والے افسران ہیں جو منی لانڈرنگ میں بھی ملوث ہیں۔ یہ لوگ پاکستان کے سسٹم کو تباہ کر رہے ہیں۔ ٹیکس چوری کرتے ہیں اور عوامی عہدوں کا ستعمال کر کے عوامی فنڈز کو ذاتی استعمال میں لاتے ہیں۔دوہری شہریت پاکستان کے لیے ایک زہر ہے جو کرپشن کو پروان چڑھاتی ہے اور سسٹم کو تباہ کرتی ہے۔ 22ہزار بیوروکریٹس کا یہ مسئلہ قومی سلامتی کا بحران ہے۔ چین کی مثال سے سیکھتے ہوئے پاکستان کو سخت اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو ملک مزید کمزور ہو جائے گا۔ اب وقت ہے کہ وفاداری کو ترجیح دی جائے اور کرپٹ عناصر کو نکالا جائے۔