Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

ہماری زندگی کا مقصد

ہماری زندگی کا مقصد کیا ہونا چاہیے؟ ہم میں سے بیشتر لوگ آج تک اس سے غافل ہیں۔سراغ زندگی میں جن کا کوئی مقصد نہیں ہوتا وہ حیات میں بے ثمر رہتے ہیں۔اسلامی نقطہ نظر سے ہماری زندگی کا اصل مقصد اللہ تعالیٰ کی معرفت،اس کی عبادت یعنی بندگی اور اس کی خوشنودی حاصل کرنا ہے۔درحقیقت یہ ایک عارضی زندگی ہے،جو ایک امتحان بھی ہے۔ہم اچھے مقصد اور نیک اعمال کے ذریعے آخرت کی ابدی کامیابی یعنی جنت حاصل کر سکتے ہیں۔یہ بات بھی طے ہے کہ انسان کو اللہ نے زمین پر اپنا نائب بنا کر بھیجا ہے تاکہ یہاں وہ عدل اور انصاف قائم کرے۔اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں بار بار زندگی کا مقصد بیان کرتا ہے۔مختلف مقامات پر اس کا ذکر موجود ہے کہ اس نے انسان کو آزمائے جانے کے لئے پیدا کیا۔سورہ ملک میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے اس نے موت اور زندگی اس لئے پیدا کی تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ عمل میں تم میں سے زیادہ بہتر کون ہے (الملک 67:3 ) جبکہ سورہ انعام سمیت دیگر کئی اور سورتوں میں بھی اس بات کو دہرایا گیا ہے۔پہلے ہم یہ سمجھ لیں کہ آزمائشوں کا مقصد کیا ہے؟ قرآن کے مطابق جن و انسان کو صرف اللہ کی عبادت کے لیئے پیدا کیا گیا ہے جس کا مطلب صرف نماز روزہ نہیں بلکہ پوری زندگی احکام الہی کے مطابق گزارنا ہے۔دنیا کو ایک امتحان گاہ بنایا گیا ہے کہ دیکھا جائے کہ بہتر عمل کون کرتا ہے۔عبارت کا وسیع مفہوم یہ ہے کہ انسان ناصرف اپنے خالق و مالک سے تعلق مضبوط کرے،بلکہ دنیاوی دھندوں میں پڑ کر اپنے مقصدِ حیات کو کبھی فراموش نہ کرے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو جب زمین پر بھیجنے کا ارادہ ظاہر کیا تو اس مقصد سے فرشتوں کو آگاہ کرتے ہوئے فرمایا میں انسان کو زمین پر اپنا خلیفہ بنا کر بھیجنا چاہتا ہوں۔ اس فرمان سے ہمیں انسان کی تخلیق کا پتہ چلتا ہے کہ انسان کو زمین پر کس لیئے بھیجا گیا۔اس تخلیق کے ہماری زندگی پر کیا اثرات ہیں؟
سوچنے کی بات ہے کہ ایک خلفیہ یا حکمران کس بنیاد پر بنایا جاتا ہے۔اس میں ایسی کیا اہلیت ہوتی ہے کہ باقیوں پر اس کو فضیلت دی جاتی ہے اور وہ اللہ کا خلیفہ یا نائب بن کر دوسروں کی زندگی کو کس طرح متاثر کر سکتا ہے اور اس میں بہتری لا سکتا ہے۔ہم اگر خلیفہ کے بارے میں سوچیں تو معلوم ہو گا کہ جب کسی کو خلیفہ کا منصب دیا جاتاہے تو خلیفہ وہی کام کرتا ہے جو اسے اس کا مالک یعنی بادشاہ کہتا ہے۔وہ تمام کام اپنی مرضی کی بجائے اپنے مالک کی مرضی کے مطابق کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو کس لیئے بھیجا؟ تو اس کے لیئے ہمیں پہلے یہ سمجھنا ہو گا کہ اللہ تعالیٰ کی کیا خصوصیات ہیں اور وہ اس کائنات سے کیا چاہتا ہے؟ قرآن پاک میں اللہ نے اپنی خصوصیات کا کئی مرتبہ ذکر کیا ہے۔اگر ہم صرف اسما حسنہ کو دیکھ لیں تو ہر نام اللہ کی الگ خصوصیت کو ظاہر کرتا ہے۔ویسے تو ہم اللہ تعالیٰ کی خصوصیات اور انعامات کو شمار نہیں کر سکتے کہ کتنی ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا تم اگر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو گننے لگو گے تو تم ان کا شمار نہیں کر سکو گے- ایک بادشاہ جب کسی کو اپنا نائب یا خلیفہ بناتا ہے تو اس سے چاہتا ہے کہ وہ ایسے کام کرے جو وہ چاہتا ہے۔اب اللہ تعالیٰ انسان اور کائنات سے کیا چاہتا ہے؟ اس پر غور کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ اللہ تعالیٰ اپنی خصوصیات انسان میں پیدا کر کے صالح معاشرے کا قیام چاہتا ہے جہاں انسان امن و آزادی سے اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کے احکام کی اتباع میں اپنی زندگی گزار کر دنیا کو جنت بنائے۔مثلاً اللہ تعالیٰ رحیم ہے تو انسان میں رحمیت کی خاصیت ہونی چاہیئے تاکہ عام انسانوں کے لئے وہ رحمت بن جائے۔چونکہ یہ کائنات اللہ تعالیٰ نے خود بنائی ہے تو جو چیز بنانے والا ہوتا ہے وہ ہر طرح سے اس کی بہتری چاہتا ہے لیکن انسان کا ایک کھلا دشمن شیطان ہے کہ جس نے انسان کو جنت سے نکالا تھا۔
اللہ تعالیٰ نے جب حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا تو سب سے پہلے ان کی جان پہچان فرشتوں اور شیطان سے کرائی کہ آدم اور ان کی اولاد کو ان دونوں سے واسطہ پڑنا تھا۔ایک نے ان کی مدد کرنی تھی جبکہ دوسرے نے برائی یا مخالفت میں رہنا تھا۔یہ بھی حقیقت ہے کہ دونوں قوتوں کی کشمش اس وقت تک جاری رہے گی جب تک انسان کا وجود ہے۔اسی لیئے کہا گیا ہے کہ انسان کو ہر وقت شیطان سے بچنا چاہیے۔ورنہ وہ خسارے میں رہے گا۔اسے اس کے عمل کے مطابق جزا اور سزا دی جائے گی۔ہر عمل کا ایک نتیجہ ہے جو ہر انسان کو اس کے اچھے اور برے عمل کے مطابق مل کر رہنا ہے۔آیئے دیکھیں کہ ہم اور ہمارے حکمران کیا انسانی تخلیق کے مقصد کو پورا کر رہے ہیں۔ہم جو وعدے کرتے ہیں منشور اور نظریہ دیتے ہیں اس پر عمل بھی ہوتا ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو سمجھ لیجئے ہم مقصد حیات کو پورا نہیں کر رہے۔ ساری صورت حال ہمارے سامنے ہے۔ہمیں دیکھنا ہو گا کہ اللہ تعالیٰ نے جس مقصد کے لیئے کائنات تخلیق کی اور حضرت آدم علیہ السلام کو دنیا میں بھیجا ہم اس تکمیلِ مقصد کے لیئے کیا کر سکتے ہیں۔کچھ ایسا کریں کہ ہم سے ہمارا اللہ راضی ہو جائے۔رمضان کا مہینہ فضیلت اور برکتوں کا مہینہ ہے۔جو ہمیں صبر،برداشت اور دوسروں کی مدد کی تلقین کرتا ہے۔اس مہینے میں کوشش کریں کہ ہم سب مل کر شیطانی قوتوں کو ناکام بنا دیں۔اس طرح ہم مقصدِ تخلیق کو پایہ تکمیل تک پہنچا سکتے ہیں۔ہمارے لیئے جنت کا حصول ممکن ہو سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا کرنی چاہیئے کہ ہمیں شعور اور علم عطا فرمائے تاکہ ہم اس کے فرمودات پر صدقِ دل سے عمل کر سکیں۔انسانیت کی معراج ہی محبت اور دوسروں کے کام آنا ہے۔اس میں کامیاب ہو گئے تو دنیا کے ساتھ ساتھ اپنی آخرت بھی سنوار لیں گے۔ہمیں ہر صورت اسی راستے پر چلنا چاہئیے جس کی قرآن اور ہمارے پیارے نبیؐ نے ہدایت کی ہے۔ہم نے جس دن اللہ اور اس کے رسولؐ کی ہدایت کو سمجھ لیا،سمجھ لیں سب ہی کچھ پا لیا۔

یہ بھی پڑھیں