پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)نے مختلف مواقع پر احتجاجات کا سلسلہ جاری رکھا ہے، لیکن ان احتجاجات کے نتائج زیادہ تر ناکام رہے ہیں۔ جماعت کے حامی اور خیر خواہ پے در پے ناکام احتجاجات کے اسباب اور نتائج پر غور و فکر کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔ ناکامی کے اسباب جانے بنا کامیاب حکمت عملی بنانا ممکن نہیں۔ پی ٹی آئی کی حکمت عملی اور سیاسی تحرک کے بعض نقائص بہت واضح ہیں ۔ اول ، جماعت مسلسل احتجاج اور طویل مزاحمتی تحریک کے لئے منظم نہیں ہے ۔پی ٹی آئی کی احتجاجات میں اکثر نظم و ضبط کی کمی دیکھی گئی ہے، جس کی وجہ سے احتجاجات کا مقصد واضح نہیں ہوتا۔ دوم ، ناقابل عمل مطالبات کی وجہ سے پی ٹی آئی کے احتجاجات اکثر عوام کو اپنی طرف متوجہ نہیں کرپاتے۔ یہی وجہ ہے کہ پی ٹی آئی کے اکثر احتجاج عوامی حمایت کی کمی کے باعث خاطر خواہ نتائج حاصل نہیں کر پارہے۔ سوئم ، بانی چئیرمین کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کی صفوں میں قیادت کا خلا بہت گہرا ہو گیا ہے۔ کارکنان اور دوسرے درجے کی قیادت میں رابطے کا فقدان بہت نمایاں ہے۔ چہارم ، سوشل میڈیا پہ اشتعال انگیز بیانیہ سازی کے بڑھتے ہوئے رجحان کی بدولت پی ٹی آئی کی صفوں میں ہیجان بھی بڑھ گیا ہے اور سنجیدہ سیاسی سوچ کے حامل افراد کا اثر و رسوخ ختم ہوتا جارہا ہے۔
بیرون ملک مقیم مفاد پرست سوشل میڈیا انفلوئنسرز کے ریاست مخالف پروپیگنڈے کی بدولت پی ٹی آئی کی سیاسی ساکھ برباد ہو رہی ہے۔ اس ڈالر مافیا نے عملی طور پر پارٹی کے سیاسی بیانئیے کو ہائی جیک کر رکھا ہے۔ پنجم ، کچھ عرصے سے پی ٹی آئی کی صفوں میں تقسیم کی دراڑ گہری ہوتی جا رہی ہے۔ اس دھڑے بندی کی وجہ سے جماعت کسی بیانئے پر یکسوئی سے جدوجہد نہیں کر پا رہی۔ پارٹی کے مخلص کارکنان قیادت کی باہمی تقسیم اور منافرت کی وجہ سے مایوسی اور سیاسی ابہام کا شکار ہیں۔ درج بالا کمزوریوں کی وجہ سے پی ٹی آئی کے احتجاج حکومت کی توجہ حاصل کرنے اور اسے پچھلے قدموں پر دھکیلنے میں ناکام رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کے زیر اثر حزب اختلاف کی کمزوریوں کی بدولت حکومت بغیر کسی دبائو کے اپنی پالیسیوں پر عمل پیرا دکھائی دے رہی ہے۔ مبہم اور ناقابل عمل ہیجانی مطالبات کی وجہ سے پی ٹی آئی کے احتجاجات عوامی عدم دلچسپی کا شکار ہو کر کوئی مقصد حاصل نہیں کر پارہے۔ پی ٹی آئی کے مسلسل ناکام احتجاجات سے پارٹی کا سیاسی تشخص اور ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔ بانی چیئرمین کی جیل میں صحت کی خرابی کا حالیہ معاملہ بھی پی ٹی آئی کی قیادت کے لئے ایک ایسا سیاسی امتحان بن کر ابھرا ہے جس میں تا حال کوئی متاثر کن حکمت عملی پیش نہیں کی جاسکی۔ جماعت کے مختلف دھڑے اپنا اپنا راگ الاپ رہے ہیں۔ اسلام آباد میں اراکین پارلیمان کے دھرنے کے حوالے سے سامنے آنے والی بعض خبروں نے عوام میں قیادت کے دعویداروں کے حوالے سے بد دلی پھیلائی ہے۔ جیل میں طبی معائنے کے لئے معالجین کی نامزدگی کے معاملے پر پارٹی قیادت اور سابق وزیر اعظم کے اہل خانہ کے درمیان عدم اتفاق رائے نے سارے معاملے کو مزید مبہم بنا دیا ہے۔
کے پی صوبے کے سابق وزیر اعلیٰ گنڈا پور کے حالیہ تنقیدی بیانات نے تنازعات اور پس پردہ سازشوں کا نیا پنڈورا باکس کھول دیا ہے۔ صوبہ کے پی میں ملک کے دیگر حصوں سے رابطے قائم کرنے والی شاہراوں کی جبری بندش نے عوام کو تحریک انصاف سے متنفر کیا ہے۔ یہ عجیب و غریب احتجاجی حکمت عملی فہم سے بالا تر تھی۔ عوام نے پہلی بار کسی صوبائی حکومت کو اپنے ہی زیر حکومت علاقے میں عوام کی نقل و حرکت کو بند کرنے کی حماقت کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ پی ٹی آئی کی ناکام احتجاجوں کے اسباب اور نتائج سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پارٹی کو اپنی حکمت عملی میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ پی ٹی آئی کو منظم احتجاجات، عوامی حمایت حاصل کرنے، اور سیاسی مطالبات پر زور دینے کی ضرورت ہے تاکہ احتجاج کے طے شدہ اہداف بھی حاصل ہو سکیں اور ملک میں عدم استحکام بھی نہ پھیلے۔ ایک قومی سیاسی جماعت کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ ملک کے مجموعی مفادات کو متاثر کرنے والے معاملات کو نظر انداز کر کے ایک فرد واحد کی ذات کے ارد گرد بیانیہ بنانے تک محدود ہو کر رہ جائے۔ یہ امر بہت افسوس ناک ہے کہ پارلیمان میں قابل ذکر نمائندگی اور ایک صوبے میں حکمرانی کے باوجود پوری جماعت کی ڈوریں عدالتوں سے سزا یافتہ بیرون ملک مقیم مٹھی بھر مفرور سوشل میڈیائی مداری ہلا رہے ہیں ۔ وقت نے ثابت کر دیا ہے کہ پی ٹی آئی کو فی الفور اپنی صفوں کی تطہیر کر کے سنجیدہ سیاسی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔