انسانیت ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑی ہے۔ صدیوں سے انسان غیب کو جاننے کی کوشش کرتا رہا ہے اگلا قدم کیسا ہوگا؟ یہ سفر محفوظ ہے یا نہیں؟ یہ فیصلہ کامیاب ہوگا یا ناکام؟ قدیم زمانوں میں لوگ نجومیوں، پامسٹوں، درویشوں، یوگیوں اور مختلف روحانی شخصیات کی طرف رجوع کرتے تھے۔ کچھ مخلص تھے، کچھ اندازوں پر مبنی بات کرتے تھے۔ مذہبی حلقوں نے اکثر ایسی پیش گوئیوں کو رد کیا، مگر مستقبل کو جاننے کی انسانی خواہش کبھی ختم نہ ہوئی۔قابیل اور ہابیل سے لے کر آج تک خیر اور شر، خوف اور ایمان ساتھ ساتھ چلتے رہے ہیں۔ انسان کی بنیادی بے چینی ہمیشہ یہی رہی ہے: کیا میرا اگلا قدم درست ہے؟ کیا یہ مبارک ہے یا نامبارک؟صنعتی انقلاب کے بعد پیش گوئی کا انداز بدل گیا۔ اب ستاروں کی بجائے اعداد و شمار تھے۔ موسم کی پیش گوئی، سیلاب کا اندازہ، زلزلوں کی نگرانی، منڈیوں کا تجزیہ انسان پام، ہاتھ کی لکیروں سے ڈیٹا لائنوں تک پہنچ گیا۔ طریقہ بدل گیا، مگر بے چینی باقی رہی۔اب ہم مصنوعی ذہانت کے دور میں داخل ہو چکے ہیں۔
اے آئی ایسے پیمانے پر پیٹرن پڑھتی ہے جو ماضی میں ممکن نہ تھا۔ یہ سیلاب کی پیش گوئی کرتی ہے، طبی تشخیص میں مدد دیتی ہے، معاشی رجحانات کا اندازہ لگاتی ہے، جغرافیائی سیاسی خطرات کا تجزیہ کرتی ہے اور حکومتوں کے فیصلوں کو متاثر کرتی ہے۔ عام افراد سے لے کر دانشوروں، حکمرانوں، افواج اور حتیٰ کہ مذہبی حلقوں تک ہر سطح پر اے آئی اثر انداز ہو رہی ہے۔پہلی بار انسان کو محسوس ہو رہا ہے کہ پیش گوئی قابلِ اعتماد ہوتی جا رہی ہے۔ اس سے انسانی نفسیات بدل رہی ہے۔ اعتماد بڑھ رہا ہے۔ انحصار بھی بڑھ رہا ہے۔ہم گویا پیش گوئی کے ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جسے بظاہر مشینوں نے کامل بنا دیا ہے۔ مگر ایک گہرا سوال سامنے آتا ہے: کیا یہ انسانی اقتدار کی انتہا ہے؟ کیا یہ مادی تہذیب کی آخری منزل ہے؟جب طاقت بڑھتی ہے تو آزمائش بھی بڑھتی ہے۔ قرآن میں قابیل اور ہابیل کی داستان ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اصل مسئلہ ٹیکنالوجی نہیں بلکہ نیت ہے۔ اللہ تعالی نے انسان کو عزت دی، اختیار دیا اور ذمہ داری سونپی۔ ٹیکنالوجی انسانی انتخاب کو وسیع کرتی ہے، اسے پاک نہیں کرتی۔جب ذہانت مصنوعی ہو جائے اور نظام غالب آ جائیں تو انسان کو یہ خطرہ لاحق ہوتا ہے کہ وہ فنی صلاحیت کو حتمی اختیار سمجھ بیٹھے۔مختلف روحانی روایات ایک ایسے دور کا ذکر کرتی ہیں جب فریب اپنے عروج پر ہوگا، پھر حق کی بحالی ہوگی۔ دینی زبان میں اس مرحلے کو دجال سے تعبیر کیا جاتا ہے دجال صرف ایک فرد نہیں بلکہ دجال کاایک ایسا نظام جو ظاہری چمک، طاقت اور جھوٹی یقین دہانی سے انسانوں کو مسحور کر دے۔ ایک ایسی دنیا جہاں طاقت ہو مگر ضمیر نہ ہو، کارکردگی ہو مگر رحم نہ ہو، پیش گوئی ہو مگر حکمت نہ ہو۔لیکن فریب کے بعد بحالی آتی ہے۔
حضرت عیسیٰ ابنِ مریم علیہ السلام کی واپسی حق انصاف، عاجزی اور خدا مرکز حکمرانی کی علامت ہے۔ یہ علم کا انکار نہیں بلکہ نیت کی تطہیر ہے۔ یہ ٹیکنالوجی کی تباہی نہیں بلکہ اس کی اخلاقی اصلاح ہے۔یوں ہم بڑھتے ہیں مصنوعی ٹیکنالوجی کے دور سے روحانی دور کی طرف، پیش گوئی کے زمانے سے حضوری کے زمانے کی طرف، دجال کے فتنہ سے رہائی خدائی امر سے حقیقی مقدس مسیح کی طرف ایک بابرکت آخری دور کی طرف، جہاں حق ، سچائی، محبت اور امن غالب ہوں گے۔مصنوعی ذہانت کا دور ہر چیز کا حساب لگاتا ہے بازار، موسم، روئیے، جنگ، یہ امکان اور کنٹرول کا زمانہ ہے۔ مگر روحانی دور پیش گوئی کا نہیں، حضوری اور رحمت خدا کا ہوگا خدا کے حضور، ضمیر کی بیداری، اخلاقی وضاحت کی حضوری۔پیش گوئی اضطراب سے آگے دیکھتی ہے۔حضوری قلب اعتماد کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے۔انسانیت کی اصل ترقی زیادہ درست اندازے نہیں بلکہ زیادہ گہرا روحانی شعور ہے۔
یہاں ایک اصول واضح طور پر بیان کرنا ضروری ہے،ٹیکنالوجی روحانیت کی خدمت کرے۔ اس کی جگہ نہ لے۔اگر یہ ماڈل عام ہو جائے جہاں اے آئی ضمیر کی مددگار ہو، اس پر حاوی نہ ہو تو شاید یہ دور انسانیت کا خاتمہ نہیں بلکہ ایک زیادہ باشعور آغاز ہو۔مصنوعی ذہانت مادی ذہانت کی انتہا ہو سکتی ہے،مگر روحانی بیداری اخلاقی ذہانت انسانی معراج ہے۔اصل تبدیلی مشینوں سے تصوف کی طرف نہیں بلکہ تکبر سے عاجزی کی طرف ہے۔ خود مرکز اقتدار سے خدا کے سامنے جواب دہی کی طرف ہے۔مصنوعی ٹیکنالوجی کا دور انسانی ایجاد کا عروج ہو سکتا ہے،مگر روحانی دور انسانی تطہیر کی تکمیل ہوگا۔ قابیل اور ہابیل سے لے کر الگورتھمز، سیٹلائٹس اور دجال تک، اصل ڈرامہ کبھی نہیں بدلا: انتخاب، ذمہ داری اور خدا کے حضور جواب دہی۔جب حق، محبت اور امن خدائی رہنمائی کے تحت غالب آئیں گے تو انسانیت بلند کی جائے گی۔