برِصغیر پاک وہند کوکھانوں اور ذائقوں کی سرزمین کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔پشاور سے لے کر ہندوستان کے آخری کونے تک چلے جائیں، ذائقے کا ایک سفر ہے جو جگہ جگہ سے گزرتا ہوا اپنے رنگ روپ اور خوشبو بدلتا رہتا ہے۔ یہاں کے رہنے والے لوگ صدیوں سے کھانے پینے کے رسیا رہے ہیں اور بلا شبہ کھانے پینے کی ان رنگا رنگ نعمتوں نے انسان کی زندگی کو بھی ایک لذت اور جینے کا مزہ دے رکھا ہے۔قدرت کی مہیا کردہ ان نعمتوں کا مقصد انسان کو مختلف ذائقوں سے مستفید کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے اندر چھپی ہوئی غذائیت سے جسم کو ایندھن اور وہ ضروری اجزاء مہیا کرنا بھی ہے جس سے جسم کی نشوو نما بھی ہو اور وہ فعال طریقے سے اپنا کردار ادا کرتا رہے۔ اس خطے کے لوگ مگر ذائقہ، خوشبواور کھانے کی ظاہری دلکشی ہی کو اہمیت دیتے ہیں۔ کھانوں کے ارتقاء پر نگاہ ڈالیں تو اسی مرکزی نُقطے کو بنیاد بنایا جاتا ہے اور یہ سوالات نظر انداز کر دیئے جاتے ہیں کہ کس کھانے میں کون سی غذائیت ہے، ان غذائی اجزا سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لئے کھانے کو کیسے تیار کرنا اور کس طریقے سے کھانا ہے اور ہمیں کن اجزا کی ضرورت ہے ۔
پچھلی تحریر میں آٹو فیجی( جسم کو از خود مرمت کرنے کا نظام) کے حوالے سے یہ بتایا گیا تھا کہ کس طرح یہ نظام روزہ رکھنے سے حرکت میں آکر افطار کے وقت تک اپنے عروج پر ہوتا ہے اور کیسے ہماری عادات اس نظام کے ثمرات کو محدود کر رہی ہیں۔آج ذکر ہو گا کہ ہم کیا کھا رہے ہیں اور کیا کھانا چاہیئے ۔ہمارے افطار دستر خوان کا جائزہ لیں تو چکنائی اور تیل میں بنی ہوئی اشیاء گھر گھر نظر آئے گی وہ افطار ہی کیا سمجھی جاتی ہے جس کو پکوڑوں اور سموسوں سے سجایا نہ جائے، جہاں تیل میں نہائی ہوئی کچوری اور جلیبی موجود نہ ہو۔ اس کے علاوہ رمضان میں مرغن غذائوں کا استعمال بھی بڑھ جاتا ہے۔ گھروں میں اور سحرو افطار کے بازاری بوفے میں نہاری، حلیم، قورمے اور رنگا رنگ تلی ہوئی اشیاء کی طرف لوگوں کی رغبت دیدنی ہوتی ہے۔ یہ سب کھانے اپنے ذائقوں، خوشبو اوررنگت سے سب کو اپنی طرف کھینچتے ہیں اور یہ ہماری ثقافت اور تہذیب کی پہچان بھی ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب یہ مرغن غذائیں صحت کے لئے مضر نہیں تھیں جس کی بنیادی وجہ اُس وقت کا متحرک طرزِ زندگی بھی تھا اور دوسری بڑی وجہ خالص کشید کردہ بیجوں کا تیل یا دیسی گھی کا استعمال ہوتا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ نہ صرف طرزِزندگی میں وہ حرکت و سرعت رہی اور نہ ہی خالص تیل یا دیسی گھی کا استعمال عام رہا۔ صنعتی ترقی کا ایک دور شروع ہوا اور ہماری خوراک میں بھی صنعتوں کا تیار کردہ تیل شامل ہوگیا۔ اس کے علاوہ بڑی حکمت عملی کے ساتھ دیسی گھی اور مکھن کے نقصانات ہمارے ذہنوں میں پیوست کر دئے گئے۔ یہ سمجھایا گیا کہ یہ دیسی چکنائیاں تو دل کے لئے زہرِ قاتل ہیں اور یوں آہستہ آہستہ ہر طرف، ہر جگہ کارخانوں کا ہی تیار شدہ تیل اور وناسپتی گھی استعمال ہونا شروع ہو گیا جو ہماری صحت کے لئے انتہائی نقصان دہ ہے۔صنعتوں میں تیار شدہ تیل کی معیاد بڑھانے کے لئے اُسے ایک عمل سے گزارا جاتا ہے جسے جزوی ہائیڈروجینیشن کہا جاتا ہے۔ اس عمل کے دوران تیل میں ٹرانس فیٹی ایسڈز (Trans Fatty acids) پیدا ہوتے ہیں جو ہماری صحت کے لئے انتہائی مضر ہیں۔ یہ مضر اجزاء دل سے متعلق بہت سے عارضوں اور پیچیدگیوں کا سبب بنتے ہیں اور دل کے دوروں اور اچانک حرکت قلب بند ہونے کے عوامل میں سے ایک ہیں۔ ان کا مسلسل استعمال کینسر کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ اس کے علاوہ خواتین میں ہارمونز کی بے اعتدالی کا باعث بن کر بہت سی بیماریوں کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ ان اجزاء کے حوالے سے عوام کو آگاہ کرنا اس لئے بھی ضروری ہے کہ ان ٹرانس فیٹی ایسڈز کی مقدار ہمارے طریقہ استعمال سے مزید بڑھ جاتی ہے جس سے یہ کہیں ذیادہ نقصان دہ شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ جب ہم اس تیل کو بار بار تلنے کے لئے استعمال کرتے ہیں تو ان کی مقدار بڑھنا شروع ہو جاتی ہے۔ رمضان اور غیر رمضان میں بھی ہمارے گھروں میں پکوڑوں اور دوسری اشیاء کے تلنے کے لئے ایک کڑاہی مخصوص ہوتی ہے جس میں تیل ڈال دیا جاتا ہے اور بار بار وہی تیل تلنے کے لئے استعمال ہوتا رہتا ہے۔ہمیں چاہیئے کہ اگر کوئی چیز تلنا ضروری ہے تو تھوڑی مقدار میں تیل لیں اور ایک بار استعمال کر کے اس کے تلف کر دیں ورنہ ہر بار وہ پہلے سے ذیادہ زہریلا ہوتا چلا جائے گا ۔ بازاروں اور گلی کوچوں میں لگنے والے ٹھیلوں سے تلی ہوئی اشیاء لینے سے گریز کرنا ہوگا کہ ان جگہوں پر تو تیل کو استعمال کر کر کے سیاہ کر دیا جاتا ہے۔ ایسے تیل میں تلی ہوئے پکوڑے سموسے ہمارے لئے ذائقے اور پیٹ بھرنے کا ذریعہ تو بن سکتے ہیں مگر ہماری صحت کے لئے کسی تباہی سے کم نہیں۔
تیل کے علاوہ جو چیز ہماری صحت کو برباد کر رہی ہے وہ بناسپتی گھی کا استعمال ہے۔ جو مضر اجزاء زیرِبحث ہیں، بناسپتی گھی میں ان کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے کیونکہ بناسپتی گھی کو جزوی نہیں، مکمل ہائیڈروجینیشن کے عمل سے گزار کر تیار کیا جاتا ۔یہ گھی کسی طور پر بھی صحت کے لئے مفید نہیں لیکن ہمارے ہاں گھروں میں بھی اور باہر بھی اس کا کمرشل استعمال کثرت سے کیا جا رہا ہے۔ دنیا کواب آکر تیل اور بناسپتی گھی کی ان بربادیوں کا اچھی طرح ادراک ہو چکاہے ۔ دنیا بھر میں اب خوراک کے نظام کو تبدیل کرنے پر بات چل رہی ہے ۔ طبی اور غذائی ماہرین اب دیسی گھی اور مکھن کو صحت کے لئے مفید قرار دے کر ان کو استعمال کرنے کی ترغیب دیتے نظر آتے ہیں۔عا لمی ادارہِ صحت نے اس حوالے سے پوری دنیا کے لئے رہنما اصول وضع کر دئیے ہیں جس کے مطابق صنعتی تیل سے آنے والے ٹرانس فیٹی ایسڈزکی مقدار تمام غذائی اشیاء میں 2 گرام فی100 گرام کل چربی سے زیادہ نہیں ہونی چاہئے اور یہ ممکن نہ ہو تو عالمی ادارہ صحت صنعتی ٹرانس فیٹی ایسڈز اور بناسپتی گھی پرمکمل پابندی کی سفارش کرتا ہے تاکہ ٹرانس ٖفیٹی ایسڈز کا ماخذ ہی بند ہو جائے۔ ڈنمارک، کینیڈا، امریکہ اور برازیل اس پر مکمل پابندی لگا چکے ہیں۔ یورپین یونین بھی اس حوالے سے قانون سازی کر چکی ہے۔پاکستان بھی 2025ء میں عالمی اداروں کے وضع کردہ معیار اور سفارشات کو اپنا توچکا ہے مگر صنعتوں کو ہائیڈروجینیشن سے ہٹا کر نئی تکنیک اور عمل کی طرف لانے کے لئے وقت اور کثیر سرمایہ بھی درکار ہے۔ یہ صورت حال فالحال تیل اور تیل کی دھار دیکھنے والی بات ہے۔
اس بات سے قطع نظر کچھ ذمہ داریاں بطور صارف ہم پر بھی عائد ہوتی ہیں کہ ہم اپنی عادات و اطوار کو تبدیل کریں۔صنعتی تیل کو خوراک کی تیاری کے وقت کم سے کم مقدار میں استعمال کریں ، بار بار ایک ہی تیل کو تلنے کے لئے زیرِاستعمال نہ لائیںاور بناسپتی گھی کا استعمال مکمل ترک کر دیں۔ بازاروں اور ہوٹلوں میں کھانے پینے سے اجتناب کریں۔ اپنی خوراک میں خالص دیسی گھی اور مکھن کو رواج دیں ۔ جب تک ہم اپنی ان عادات کو بدل کر خوراک کو معتدل غذا میں تبدیل نہیں کریں گے ہم نہ تو اپنی صحت کو بہتر بنا سکتے ہیں اور نہ ہی روزوں سے منسلک طبی ثمرات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
(جاری ہے)