Search
Close this search box.
جمعه ,19 جون ,2026ء

اعلان اور انجام کا فاصلہ

پاکستانی سیاست میں الفاظ سستے اور اشتہارات مہنگے ہوتے ہیں لیکن سب سے مہنگی چیز عوام کا اعتماد ہوتا ہے۔ جب اعتماد ٹوٹتا ہے تو صرف حکومت نہیں گرتی بلکہ ریاست کی اخلاقی بنیادیں بھی دراڑوں سے بھر جاتی ہیں۔ عمارتیں اینٹوں سے کھڑی ہوتی ہیں مگر ریاستیں اعتماد سے قائم رہتی ہیں۔ آج اسی اعتماد کے بکھرنے کا منظر ہمارے سامنے ہے۔ سوال یہ نہیں کہ کس نے کیا کہا بلکہ سوال یہ ہے کہ کہا کیا گیا اور کیا کیا گیا۔ اعلان اور انجام کے درمیان جو خلا پیدا ہو جائے وہی سیاسی زلزلوں کی بنیاد بنتا ہے۔یہ بحث اپنی جگہ غیر اہم ہے کہ عمران خان بطور وزیراعظم کیا کرتے رہے یا نہ کرتے رہے۔ وہ ایک ماضی ہے اور آج وہ جیل میں اپنے ناکردہ گناہوں کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ اصل سوال حال سے ہے۔ اصل سوال ان حکمرانوں سے ہے جو مارچ 2024 ء میں اقتدار سنبھالتے ہوئے قوم کے سامنے کھڑے ہوئے اور ایک مانوس مگر دلکش جملہ دہرایا کہ ملک قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے، معیشت کمزور ہے لہذا کفایت شعاری ناگزیر ہے۔ کہا گیا کہ وفاقی کابینہ تنخواہ نہیں لے گی، بزنس کلاس میں سفر نہیں ہوگا، فائیو اسٹار ہوٹلوں میں قیام نہیں ہوگا، ذاتی اور لگژری جہازوں سے گریز کیا جائے گا۔ ایک سادہ طرز حکمرانی کا وعدہ کیا گیا۔ اشتہارات کی بارش ہوئی۔ کروڑوں روپے خرچ کر کے اس سادگی کو قومی بیانیہ بنا دیا گیا۔ عوام نے بھی دل کو تسلی دی کہ شاید اس بار ایوان اقتدار سے قربانی کا آغاز ہوگا۔مگر اقتدار کی کرسی پر چند ماہ بیٹھنے کے بعد منظر بدلنے لگا۔ 2025 ء کا آغاز ہوا تو تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کی خبریں آنے لگیں۔
جنوری 2025ء سے اراکین اسمبلی اور سینیٹرز کی ماہانہ تنخواہ دو لاکھ اٹھارہ ہزار روپے سے بڑھا کر پانچ لاکھ انیس ہزار روپے کر دی گئی۔ مئی 2025ء میں صدارتی آرڈیننس کے ذریعے وفاقی وزرا کی تنخواہ بھی دو لاکھ سے بڑھا کر پانچ لاکھ سے زائد کر دی گئی۔ یہ اضافہ تقریباً ایک سو انسٹھ فیصد بنتا ہے۔ جون 2025 ء میں چیئرمین سینیٹ اور سپیکر قومی اسمبلی کی بنیادی تنخواہ ڈھائی لاکھ روپے سے بڑھا کر تیرہ لاکھ روپے کر دی گئی۔ بنیادی تنخواہ میں پانچ سو پینتیس فیصد اضافہ ہوا۔ اس کے ساتھ پچاس فیصد سمپچری الانس شامل کریں تو ماہانہ رقم انیس لاکھ سے تجاوز کر جاتی ہے۔یہ سب کچھ اس ملک میں ہوا جہاں عام آدمی اپنے بچوں کی فیس بھرنے کے لئے دوستوں سے ادھار مانگتا ہے۔ یہ وہی ملک ہے جہاں سرکاری ملازم اپنی محدود تنخواہ میں مہنگائی کے طوفان کا سامنا کر رہا ہے۔ یہ وہی معاشرہ ہے جہاں ایک سفید پوش باپ مہینے کے آخری دنوں میں بجلی کا بل دیکھ کر پریشان ہو جاتا ہے۔ ایسے میں جب ایوانوں میں بیٹھے افراد اپنی مراعات میں کئی سو فیصد اضافہ کر لیں تو سوال صرف معاشی نہیں رہتا بلکہ اخلاقی ہو جاتا ہے۔یہ اضافہ صرف تنخواہوں تک محدود نہیں رہا۔ سرکاری گاڑیوں کے بیڑے میں وسعت آئی۔ سفری الانسز میں اضافہ ہوا۔ پروٹوکول کے حصار مزید مضبوط ہوئے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے اربوں روپے کی لگژری گاڑیوں کی خریداری کی خبریں آئیں۔ اسی دوران Gulfstream G500 جیسی جدید لگژری جیٹ کی خریداری کی اطلاعات سامنے آئیں جس کی مالیت تقریبا ًدس سے سولہ ارب روپے کے درمیان بتائی گئی۔ اسے کبھی صوبائی ایئر لائن کا حصہ قرار دیا گیا کبھی انتظامی ضرورت کہا گیا مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ سترہ نشستوں پر مشتمل ایگزیکٹو طیارہ ہے جو دنیا بھر میں امیر ترین افراد کی نجی آمدورفت کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ یہ جہاز جدید ہے یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ ترجیح کیا ہے۔جب ایک طرف عوام سے کہا جائے کہ ملک مشکل میں ہے قربانی دیں، سادگی اختیار کریں اور دوسری طرف حکمران طبقہ اپنی آسائشوں میں اضافہ کرے تو پیغام واضح ہو جاتا ہے کہ قربانی صرف عوام کے لیے ہے۔
اصل بحران معیشت کا نہیں بلکہ بیانیے اور عمل کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے کا ہے۔ جب کفایت شعاری کا اعلان کیا گیا تو حکومت کو ایک اخلاقی برتری حاصل ہوئی،مگر جب عملی اقدامات اس کے برعکس سامنے آئے تو عوامی اعتماد کو شدید دھچکا پہنچا۔ اشتہارات کے ذریعے سادگی کی تصویر دکھانا آسان ہے مگر زمینی حقیقت زیادہ دیر پردے میں نہیں رہتی۔پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے۔ عالمی مالیاتی اداروں کا دبا ہے۔ملک ایک سو اڑتیس ارب ڈالر کی دلدل میں پھنسا ہے۔ قرضوں کی واپسی کا بوجھ ہے۔ مہنگائی ایک مسلسل عفریت کی طرح سر اٹھائے کھڑی ہے۔ یہ سب مسائل حقیقی ہیں۔ مگر انہی حالات میں قیادت کا امتحان ہوتا ہے۔ اگر مشکل وقت میں بھی حکمران طبقہ اپنے لیے آسانیاں پیدا کرے اور عوام پر بوجھ ڈال دے تو پھر قیادت اور مراعات یافتہ اشرافیہ میں کیا فرق رہ جاتا ہے۔آج عام شہری کی زندگی ایک مسلسل جدوجہد بن چکی ہے۔ بجلی، گیس، پیٹرول، آٹا، چینی، دال ہر چیز کی قیمت آسمان کو چھو رہی ہے۔ متوسط طبقہ جو کسی بھی ریاست کی ریڑھ کی ہڈی ہوتا ہے سب سے زیادہ پس رہا ہے۔ نہ وہ اتنا غریب ہے کہ سرکاری امداد کا مستحق قرار پائے نہ اتنا امیر کہ مہنگائی کا اثر محسوس نہ کرے۔ یہی طبقہ ٹیکس بھی دیتا ہے اور نظام بھی چلاتا ہے۔ اسی کے بچوں کے خواب سب سے پہلے ٹوٹتے ہیں۔ اسی کے گھر میں سب سے پہلے بجٹ کا توازن بگڑتا ہے اور بھوک ناچتی ہے۔پنجاب کے بعض علاقوں میں غربت سے تنگ آ کر خاندانوں کے اجتماعی المیے سامنے آ رہے ہیں۔ مائیں اپنے بچوں سمیت خود کشی پر مجبور ہو رہی ہیں۔ یہ واقعات صرف خبریں نہیں بلکہ معاشرتی شکست کی علامت ہیں۔ ایک طرف ایسے المیے ہیں اور دوسری طرف ایوانوں میں لاکھوں اور کروڑوں کی مراعات۔ تضاد اتنا واضح ہے کہ کسی وضاحت کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔کچھ لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ حکومتی نمائندوں کو بین الاقوامی سطح پر ملک کی نمائندگی کے لیے معیاری سہولیات درکار ہوتی ہیں۔ یہ دلیل مکمل طور پر غلط نہیں۔ مگر سوال سہولت کا نہیں بلکہ وقت اور ترجیح کا ہے۔ کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ حکومت کم از کم چند سال تک واقعی کفایت شعاری اختیار کرتی تاکہ اخلاقی جواز برقرار رہتا اور عوام کو یہ پیغام ملتا کہ قربانی سب کے لیے برابر ہے۔حکمران طبقہ اگر واقعی ملک کو بحران سے نکالنا چاہتا ہے تو سب سے پہلے اسے اپنے طرز زندگی میں تبدیلی لانی ہوگی۔ مراعات کم کرنی ہوں گی۔ غیر ضروری اخراجات روکنے ہوں گے۔
سرکاری اشتہارات پر کروڑوں روپے خرچ کرنے کے بجائے وہ رقم تعلیم، صحت اور روزگار کے منصوبوں پر لگانی ہوگی۔ ایوان اقتدار کو یہ پیغام دینا ہوگا کہ قربانی صرف تقریروں کا لفظ نہیں بلکہ عملی حقیقت ہے۔اعلان اور انجام کے درمیان جو فاصلہ پیدا ہو چکا ہے اسے کم کرنا ناگزیر ہے۔ اگر یہ خلا بڑھتا گیا تو صرف معیشت نہیں بلکہ سیاست بھی عدم استحکام کا شکار ہوگی۔ عوامی بداعتمادی وہ زہر ہے جو آہستہ آہستہ ریاستی جسم میں سرایت کرتا ہے اور پھر کسی ایک واقعے پر پھٹ پڑتا ہے۔فیصلہ اب بھی حکمرانوں کے ہاتھ میں ہے۔ وہ چاہیں تو سادگی اختیار کر کے مثال قائم کریں۔ وہ چاہیں تو مراعات کی دیواروں کے پیچھے چھپ کر وقتی آسائشیں سمیٹ لیں۔ مگر یاد رکھنا چاہیے کہ اقتدار عارضی ہے اور کردار کا حساب دائمی۔ تاریخ اشتہارات نہیں دیکھتی وہ عمل دیکھتی ہے۔ اور جب تاریخ فیصلہ سناتی ہے تو اس میں نہ پروٹوکول کام آتا ہے نہ لگژری جہاز۔ وہاں صرف یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ اعلان کیا تھا اور انجام کیا نکلا۔

یہ بھی پڑھیں