(گزشتہ سے پیوستہ)
رمضان المبارک میں اپنا نظام الاوقات مرتب کریں، جس میں صبح اٹھ کر تہجد، ذکر، دعائیں، سحری، نماز فجر اور تلاوت سے لے کر افطاری، تراویح ودیگر معمولات تک کے لیے مناسب وقت متعین ہو اور نیند و آرام کی بھی بھر پور رعایت رکھی جائے۔رمضان المبارک کی آمد سے قبل نوکر وملازمین سے محنت طلب اور مشکل کام کروالیں تاکہ روزے کی حالت میں ملازمین پر کام کا بوجھ ہلکا رہے، رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا جو شخص رمضان کے مہینے میں اپنے غلام (خادم،ملازم) کے بوجھ کو ہلکا کردے تو حق تعالیٰ شانہ اس کی مغفرت فرماتے ہیں اور اسے آگ سے آزادی عطا فرماتے ہیں۔ (مشکوٰۃ شریف) رمضان میں عمرے کا ثواب حج کے برابر ہے، صاحب ثروت لوگ ابھی سے عمرے کی ترتیب بنائیں، اسی طرح مسجد حرام اور مسجد نبوی میں اعتکاف اور نمازوں کا ثواب دیگر مساجد سے بہت زیادہ ہے، یہ ثواب حاصل کرنے کی ابھی سے کوشش کریں۔زیادہ سے زیادہ وقت مسجد میں گزاریں۔عموماً ہمارا دل مسجد میں نہیں لگتا، لہٰذا ابھی سے نمازوں کے بعد کچھ دیر مسجد میں نفلی اعتکاف کی نیت سے ٹھہریں اور مسجد میں دل لگانے کی مشق کریں تاکہ رمضان کے آخری عشرے کے مسنون اعتکاف میں بیٹھنا آسان ہوجائے۔نیند کم کرنے کی عادت ڈالیں اگر آپ 8گھنٹے سونے کے عادی ہیں تو6 گھنٹے سونے کی عادت ڈالیں تاکہ رمضان میں دقت کا سامنا نہ کرنا پڑے، البتہ تھکاوٹ سے بچنے کے لئے دن میں تھوڑی دیر قیلولہ کرلینا مسنون بھی ہے اور تہجد پڑھنے میں معین و مددگار بھی۔چالیس دن تک تکبیر اولی کے ساتھ نمازیں پڑھیں،اس کی بڑی فضیلت وارد ہوئی ہے، نیز ماہ شعبان کے آخری عشرے اور رمضان المبارک کے تیس دنوں میں اس کا اہتمام نسبتاً زیادہ آسان ہے، لہذا تکبیر اولی کے ساتھ پنج وقتی نمازیں باجماعت پڑھنے کی ترتیب بنائیں۔
سگریٹ، نسوار، پان ودیگر نشہ آور اشیاء کا استعمال ابھی محدود کر کے کوشش کریں کہ ان سے جان چھڑالی جائے تاکہ روزے کی حالت میں کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے، رمضان المبارک نشہ آور اشیاء سے جان چھڑانے کا بہترین موقع ہے اوراس میں ہمت، حوصلہ اور اللہ سے مدد مانگتے ہوئے ان آفات سے باآسانی جان چھڑائی جاسکتی ہے۔ملاقاتوں کا سلسلہ محدود کریں،رمضان میں تقاریب، ملاقاتوں اور دعوتوں کا سلسلہ بھی محدود کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ وقت عبادت میں صرف ہوسکے، البتہ بیمار کی عیادت اور تیمارداری اسی طرح میت کی تجہیز وتکفین اور نماز جنازہ میں شرکت کے مواقع جتنے مل سکیں، غنیمت سمجھیں۔ چھوٹی چھوٹی سورتیں زبانی یاد کریں،قرآن کریم کی چھوٹی چھوٹی سورتیں ابھی سے یاد کرنا شروع کریں تاکہ نوافل اور تہجد میں انہیں پڑھا جاسکے، عام طور پر صرف ایک یا دوسورتیں یاد ہوتی ہیں، اور انہی کو بار بار دہرایا جاتا ہے، جو مثالی طرز عمل نہیں۔بچوں کو روزے کی عادت ڈالیں۔سات سال یا اس سے بڑے بچوں کو روزے کے حوالے سے خصوصی ترغیب دیں اور ان کی ذہن سازی کریں تاکہ رمضان میں انہیں روزے رکھنے کی عادت پڑجائے اور بچوں کے زندگی بھر کے روزے آپ کے لئے صدقہ جاریہ ہوں۔کم کھانے کی عادت ڈالیں، کھانے کی مقدار خاص تناسب سے کم کریں، غذا میں سبزی، پھل اور کھجور کا استعمال زیادہ رکھیں تاکہ صحت وتوانائی برقرار رہے اور رمضان میں زیادہ کھانے کا بوجھ، بد ہضمی اور سستی عبادات میں رکاوٹ نہ بنے۔اس رمضان کو گزشتہ سے ممتاز کریں،کسی ایسی عبادت کی ترتیب بنائیں جو آپ کے نامہ اعمال میں اس رمضان کو گزشتہ رمضانوں سے ممتاز کردے مثلاً تیسواں پارہ زبانی یاد کرلیں، یا سورہ رحمن، سورہ یٰسین، سورہ الملک، سورہ الم سجدہ زبانی یاد کرلیں، یا کسی یتیم کو ڈھونڈ کر اس کی کفالت کا بندوبست کرلیں، یا جیلوں میں قید لوگوں کی تعلیم وتربیت کی ترتیب بنائیں، یا پانی کی اشد ضرورت ہو تو ٹیوب ویل، کنواں یا ٹھنڈے پانی کا پلانٹ لگوادیں، یا مساجد ومدارس کے ساتھ پر خلوص تعاون کریں، یا مستحق طلبہ کے لئے فیسوں اور یونیفارم وغیرہ کا بندوبست کرلیں، یا کسی غریب لڑکی کی رخصتی کے اخراجات کا بندوبست کردیں وغیرہ وغیرہ۔
عام طور پر رمضان المبارک میں مالی حقوق جیسے زکوٰۃ، عشر، صدقہ الفطر، نذر وغیرہ کی ادائیگی کی جاتی ہے، لہٰذا ضروری ہے کہ ان سے متعلق تفصیلی احکامات پہلے سے معلوم کرلئے جائیں، اسی طرح جو مالی حقوق ذمہ میں ہوں (جیسے بیوی کا مہر یا کسی کا قرض وغیرہ)اور ادا کرنے کی صلاحیت بھی ہو تو رمضان میں ہی ادا کر لیں، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ مالدار آدمی کا قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔ (بخاری شریف) رات جلدی سونے کی عادت ڈالیں،دوستوں کی فضول مجالس، گپ شپ کی محافل اور رات گئے تک سر انجام دی جانے والی سرگرمیوں سے کنارہ کشی اختیار کریں تاکہ آپ رمضان میں تراویح کے فورا ً بعد بلا تاخیر سوسکیں، یاد رکھیں تہجد اور سحری میں ہشاش بشاش اٹھنے کا دارو مدار بروقت سونے پر ہے۔