Search
Close this search box.
جمعه ,19 جون ,2026ء

جنت عدن سے دورحاضر تک

انسانی داستان قرآن کی نظر میں کوئی افسانوی حکایت نہیں بلکہ ایک اخلاقی نقشہ ہے۔ یہ سفر جنتِ عدن سے شروع ہوتا ہے جہاں انسان کو محض زندگی گزارنے کے لئے نہیں بلکہ شعوری انتخاب کے لئے پیدا کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے آدم کو علم عطا فرمایا: اور اس نے آدم کو تمام نام سکھا دئیے (البقرہ 2:31) اور ان میں اپنی روح پھونکی، اور میں نے اس میں اپنی روح پھونکی (الحجر 15:29) اور اعلان کیا: میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں (البقرہ 2:30) اس طرح انسان کو صرف وجود نہیں دیا گیا بلکہ تاجِ خلافت، علم اور روحانی ذمہ داری عطا کی گئی۔ مگر جہاں اختیار ہوتا ہے وہاں امتحان بھی لازمی ہوتا ہے۔پہلی لغزش سیاسی یا نسلی نہیں بلکہ اخلاقی تھی۔ ابلیس نے تکبر کے ساتھ کہا: میں اس سے بہتر ہوں (الاعراف 7:12)۔ یہی ’’انا‘‘ پہلی بغاوت تھی۔ اس کے بعد قابیل نے ہابیل کو قتل کیا۔ انسانی تاریخ کا پہلا خون حسد اور نفس کی آمادگی سے بہا، نہ کہ زمین یا اقتدار کی کشمکش سے۔ اسی لمحے سے تاریخ خیر اور شر کے درمیان مسلسل کشمکش بن گئی۔
قرآن ہمیں ایک مستقل نمونہ دکھاتا ہے، ہدایت نازل ہوتی ہے، انسان تقسیم ہوتا ہے، طاقت بگڑتی ہے، انبیا اصلاح کرتے ہیں، پھر آزمائش کا چکر دوبارہ شروع ہو جاتا ہے۔جب اقوام اور تہذیبیں وجود میں آئیں تو اخلاقی زوال اجتماعی صورت اختیار کر گیا۔ قومِ نوح نے طویل دعوت کے باوجود انکار کیا، عاد نے اپنی قوت پر غرور کیا، ثمود نے مادی مہارت کو کمال سمجھ لیا، اور فرعون نے سیاسی طاقت کو خدائی کا درجہ دے دیا۔ ہر تہذیب خود کو ناقابلِ شکست سمجھتی تھی، مگر قرآن ہر بار ایک ہی بیماری کی نشاندہی کرتا ہے: تکبر، ظلم اور غفلت۔ کوئی قوم نسل کی بنیاد پر نہیں گرتی بلکہ اس وقت گرتی ہے جب انصاف مٹ جاتا ہے اور طاقت جواب دہی سے آزاد ہو جاتی ہے۔بنی اسرائیل کا ذکر قرآن میں عزت اور تنبیہ دونوں انداز میں آتا ہے۔ یاد کرو میری وہ نعمت جو میں نے تم پر کی اور تمہیں جہانوں پر فضیلت دی (البقرہ 2:47) مگر فضیلت کے ساتھ بھاری ذمہ داری بھی تھی۔ کچھ نے عہد نبھایا، کچھ نے انکار کیا، کچھ نے توبہ کی، کچھ نے سرکشی کی۔ قرآن کسی قوم کو ہمیشہ کے لیے مجرم نہیں ٹھہراتا بلکہ عروج و زوال کا اخلاقی قانون بیان کرتا ہے۔ یہی نمونہ عیسائی تاریخ میں بھی ملتا ہے اور مسلمان تاریخ میں بھی۔ اخلاقی احتساب سب کے لئے یکساں ہے۔حضرت عیسیٰؑ کو باطن کی اصلاح اور روحانی بیداری کے لئے روح اللہ اور کلمۃ اللہ بنا ر بھیجا گیا۔
حضرت محمد ﷺ کو ’’ رحمت للعالمین ‘‘ بنا کر بھیجا گیا، اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا (الانبیا 21:107) مکہ نے انکار کیا تو انہوں نے صبر کیا، مکہ فتح ہوا تو انہوں نے معاف کیا۔ اقتدار نے انتقام کو جنم نہیں دیا بلکہ عدل اور درگزر کو۔ حضرت عمر ؓکے دور میں بیت المقدس بغیر قتل عام کے فتح ہوا اور یہودی و عیسائی برادریوں کو تحفظ دیا گیا۔ اسلامی تاریخ کامل نہیں تھی مگر اس کا نظریاتی معیار واضح تھا: عدل ہی اقتدار کی مشروعیت کی بنیاد ہے۔جدید دور میں عثمانی خلافت کے خاتمے نے عالمی توازن بدل دیا۔ نوآبادیاتی تقسیم، مصنوعی سرحدیں اور سیاسی کشمکشوں نے مشرقِ وسطیٰ کو نئی شکل دی۔ مگر قرآنی زاویے سے دیکھا جائے تو مسئلہ صرف جغرافیہ کا نہیں بلکہ اخلاق کا ہے۔ طاقت جب عاجزی سے جدا ہو جاتی ہے تو وہی پرانا نمونہ دہراتی ہے۔ فرعون کی بیماری کسی ایک زمانے تک محدود نہیں۔ تکبر ہر دور میں نئے چہرے اختیار کرتا ہے۔ تاریخ اچھے اور برے لوگوں کی سادہ تقسیم نہیں بلکہ انصاف اور ناانصافی کے درمیان جھولتی ہوئی انسانی داستان ہے۔ آج کا میدان سلطنتوں سے بڑھ کر نظاموں اور الگورتھم تک پہنچ چکا ہے۔ ہم مصنوعی ذہانت، نگرانی، معلوماتی جنگ اور ٹیکنالوجی کے ارتکاز کے دور میں جی رہے ہیں۔ مگر اصل کشمکش وہی ہے جس کا اعلان ابلیس نے کیا تھا: میں زمین میں ان کے لئے (گناہوں کو) خوشنما بنا دوں گا (الحجر 15:39)
ہر دور کی اپنی خوبصورت برائیاں ہوتی ہیں۔ کبھی ظلم کو عظمت کہا گیا، آج کنٹرول کو کارکردگی کہا جاتا ہے۔ ٹیکنالوجی بذاتِ خود شیطانی نہیں، مگر اخلاق کے بغیر طاقت نظام ظلم میں بدل سکتی ہے۔جنتِ عدن سے آج تک انسان دو آوازوں کے درمیان کھڑا ہے: انا کی آواز جو برتری اور تسلط کی طرف بلاتی ہے، اور ہدایت کی آواز جو عاجزی، احتساب اور انصاف کی دعوت دیتی ہے۔ شیطان کی دشمنی نسلوں کے خلاف نہیں بلکہ اخلاقی بلندی کے خلاف ہے۔ اصل جنگ پہلے انسان کے اندر برپا ہوتی ہے، پھر دنیا میں نمودار ہوتی ہے۔ ہر تہذیب اس وقت بلند ہوتی ہے جب طاقت کو انصاف کے تابع رکھتی ہے، اور ہر تہذیب اس وقت گرتی ہے جب انا کو مقدس بنا لیتی ہے۔قرآن مایوسی کی کتاب نہیں۔ وہ اعلان کرتا ہے، اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اندر تبدیلی نہ لائے (الرعد 13:11) اصلاح اندر سے شروع ہوتی ہے۔ جنت کھوئی نہیں گئی بلکہ امتحان میں بدل دی گئی۔ انسان کو چھوڑا نہیں گیا بلکہ آزمایا گیا۔جنتِ عدن سے آج تک کہانی ایک ہی ہے، انسان کو علم اور روح دی گئی، شیطان نے تکبر کو جنم دیا، اور تاریخ امتحان بن گئی۔ قومیں اٹھتی ہیں، قومیں گرتی ہیں، سلطنتیں بنتی ہیں، سلطنتیں ٹوٹتی ہیں، مگر اخلاقی قانون ثابت رہتا ہے۔ قرآن دنیا کو مستقل دشمنوں اور مستقل نیکوکاروں میں تقسیم نہیں کرتا بلکہ اسے انصاف کے علمبرداروں اور انصاف کے غداروں میں تقسیم کرتا ہے۔ آدم کا بیٹا آج بھی تاج پہنے ہوئے ہے، شیطان آج بھی وسوسہ ڈالتا ہے، امتحان آج بھی جاری ہے اور فیصلہ ہمیشہ کی طرح انسانی دل ضمیر میں ہونا ہے۔

یہ بھی پڑھیں