Search
Close this search box.
جمعه ,19 جون ,2026ء

ناقابل فہم حکمت عملی اور ڈالر مافیا کا تسلط

ایک جانب دہشت گردی کی لہر صوبہ کےپی کو اپنی گرفت میں لے رہی تو دوسری جانب صوبائی حکومت نے اپنی تمام توانائیاں سیاسی ہیجان پھیلانے میں جھونکی ہوئی ہیں۔ تحریک انصاف کی وفاقی حکومت سے جاری سیاسی کشمکش ہر گذرتےدن کے ساتھ پیچیدہ ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ سابق وزیر اعظم کی جیل میں بیماری اور علاج معالجے کے معاملے پر پی ٹی آئی کی صفوں میں یکسوئی کے بجائے انتشار پھیل گیا ہے۔ گزشتہ روز سابق وزیر اعظم کی ہمشیرہ علیمہ خان صاحبہ نے پریس کانفرنس میں اپنے بھائی کی علالت اور عدالتوں میں زیرسماعت مقدمات کی قانونی پیروی کے حوالے سے پارٹی راہنماوں کی کارکردگی پر تنقید کی ہے۔ پریس کانفرنس میں بانی چئیر مین تحریک انصاف کی تین بہنیں موجود تھیں اور اپنے بھائی کے لئے ان کی فطری فکرمندی نہ صرف گفتگو بلکہ بدن بولی سے بھی عیاں تھی۔ جس انداز میں علیمہ خان صاحبہ نے پارٹی قیادت کو آڑے ہاتھوں لیا اس سے یہ قیاس اب حقیقت کا روپ دھار چکے ہیں کہ تحریک انصاف کی صفوں میں دھڑے بندی کی دراڑ گہری ہوتی جارہی ہے۔ علیمہ خان صاحبہ نے کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر یہ کہا ہےکے انہیں معلوم ہے کہ پی ٹی آئی میں غدار کون ہے؟ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جو کوئی عمران کے بیانیئے کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا وہ سائیڈ پر ہو جائے۔ نیز یہ کہ بانی چئیرمین کی صحت کے مسئلے پر کسی بھی کسی قسم کی فیصلہ سازی کا اختیار صرف فیملی ممبرز کا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے پارٹی کی مرکزی قیادت میں شامل سینئر وکلاء کے نام لے کر مقدمات کی پیروی میں سستی برتنے پر ہدف تنقید بنایا۔ اس پریس کانفرنس کی گونج کے ساتھ یہ قیاسات بھی گردش کر رہے ہیں کہ شائد اس رسہ کشی کے نتیجے میں پارٹی کی مرکزی قیادت میں کچھ تبدیلیاں رونما ہونے کی امکانات بھی غالب ہیں۔ پارٹی چئیرمین بیرسٹر گوہر نے اپنی پوزیشن واضح کرنے کے لئے تفصیلی رد عمل دیا ہے تاہم تحریک انصاف کے ورکرز اور ہمدردوں کی صفوں میں اضطراب ختم نہیں ہو پایا۔ یہ معاملہ محض علیمہ خان کی برسرعام کی گئی تند و تیز گفتگو اور تلخ تنقید تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ تحریک انصاف کے زیر حکومت صوبے کےپی میں قائدین کے درمیان سر اٹھاتی رسہ کشی نے مزید ابہام پیدا کیا ہے۔ سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور نے گزشتہ چند دنوں میں دھواں دار بیانات سے پارٹی صفوں میں انتشار اور تقسیم کا تاثر مزید گہرا کر دیا ہے۔ موجودہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور کے درمیان بالواسطہ اور براہ راست تلخ بیانات کا تبادلہ میڈیا نے رپورٹ کیا ہے۔ سب سے زیادہ مقبولیت کی دعویدار قومی جماعت کا یہ غیر سنجیدہ طرز عمل اس کے زبانی کلامی دعووں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ بانی چئیر مین کے جیل میں علاج پر ان کی فیملی اور پرستاروں کی تشویش بجا طور پر فطری ہے۔ تاہم اس حوالے سے سیاسی ہیجان پیدا کر کے پارٹی کے بعض نادان دوستوں نے مجموعی مفاد کو نقصان پہنچایا ہے۔ اس معاملے پر تحریک انصاف کا اندرونی انتشار اور قیادت کا خلا بھی معاملے کوپیچیدہ کرنے کا باعث بنا رہا ہے ۔ سوشل میڈیا پر ملک میں اور بیرون ملک بعض ‘مفرور پیدا گیروں ‘ نے افواہ سازی کے ذریعے ہیجان پیدا کر کے خود تو ڈالر بٹور لئے البتہ تحریک انصاف کے مخلص کارکنوں کو مسلسل گمراہ کئے رکھا۔ پارٹی کی مرکزی قیادت اس معاملے پر سابق وزیر اعظم کی فیملی سے مشاورت سے ایک متفقہ حکمت عملی نہیں بنا پائی۔ اس خامی کو علیمہ خان صاحبہ نے نہایت واشگاف الفاظ میں پریس کانفرنس کے دوران بھی بیان کردیا ہے۔ تحریک انصاف کے بعض سابق وزیروں اور ہمدردوں کا چھوٹا سا طائفہ گاہےبگاہے نت نئے بیانات اور تجاویز پیش کرنے مختلف چینلز پر وارد ہوکر سیاسی ابہام کی ہانڈی میں بارہ مصالحے چھڑک دیتا ہے۔ کمال یہ ہے کہ اس تین چار افراد کے طائفے کو نہ تو تحریک انصاف اپنا حصہ تسلیم کرتی ہے او ر نہ ہی حکومت انہیں درخور اعتنا سمجھتی ہے۔ حکمت عملی اور قیادت کے اس بحران نے تحریک انصاف کی سیاسی ساکھ کومجروح کیا ہے۔ جماعت کے حامی بھی دہشت گردی جیسے سنگین معاملے پر وزیر اعلیٰ کے پی کے نامناسب طرز عمل اور متنازعہ بیانات پر ناپسندیدگی کا اظہار کر رہے ہیں ۔ یہ سوال بھی اٹھایا جارہا ہے کہ کیا جماعت کے بانی کی صحت کے معاملے کو بنیاد بنا کر دہشت گردی جیسے اہم معاملے پر قومی اداروں پر بے بنیاد تنقید کیوں کی گئی ؟ یہ امر اس لحاظ سے بھی قابل مذمت ہے کہ وزیراعلیٰ نے یہ تنقید ایسےوقت میں کی جب دہشتگردی کے خلاف جنگ میں شہید ہونے والے کئی فرزندان وطن کے جنازے اٹھائے جا رہے تھے۔ تحریک انصاف کے سنجید ہ مزاج ہمدردوں کو کوشش کرنی چاہیئے کہ اپنی جماعت کو بیرون ملک مقیم ڈالر مافیا مفرور بریگیڈ کے تسلط سے آزا د کروائیں۔ کے پی وزیر اعلیٰ کو صوبے کے عوام نے اچھی گورننس کے لئے مینڈیٹ دیا تھا لیکن ان کی تمام توانائی دوسر ے صوبوں میں احتجاج اور افغانستان سے ہونے والی سرحد پار دہشت گردی کے سدباب کے لئے کی جانے والی کاوشوں کی مخالفت میں کیوں ضائع ہو رہی ہیں؟

یہ بھی پڑھیں