Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

قرآن کی نظر میں عدل و انصاف کی اہمیت

قرآن و سنتنے عدل کو نہایت اہمیت دی ہے۔حاکم سے لے کر عام فرد تک سب کو انصاف قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔انصاف کرنے والے قیامت کے دن اللہ کے دائیں جانب نور کے منبروں پر ہوں گے۔انصاف ہی ہے جو معاشرے کو ظلم و جور سے پاک کر کے معاشرتی ہم آہنگی پیدا کرتا ہے۔جہاں تک عدل کا تعلق ہے تو اس کا دائرہ انتہائی وسیع ہے جو گھر کے افراد سے لے کر پوری ریاست تک پھیلا ہوا ہے۔کسی بھی معاشرے میں انصاف کی عدم موجودگی ہو تو وہ بے چینی اور تباہی لاتی ہے۔اس لئے مستحکم معاشرے کی تشکیل انتہائی ضروری ہے کہ عدل و انصاف کو انفرادی اور اجتماعی سطح پر عملی جامہ پہنایا جائے۔سچ بولنا اور بات میں عدل قائم کرنا بھی انصاف کے زمرے میں آتا ہے۔عملی زندگی میں مساوی سلوک بھی کردار میں انصاف و عدل کی نشاندہی کرتا ہے۔
عدالتی فیصلوں میں کسی خوف یا لالچ کے بغیر انصاف پر مبنی فیصلہ کرنا بھی عدل کی معراج ہے۔اس کا روزِ قیامت بڑا اجر رکھا گیا ہے۔جس معاشرے میں انصاف موجود ہو،وہاں امن،ترقی اور خوشحالی ہوتی ہے۔اس کے برعکس جہاں عدل و انصاف کا فقدان ہو،وہاں ظلم و زیادتی،انتشار اور افراتفری جنم لیتی ہے۔ہمیں اگر ایک مثالی معاشرہ قائم کرنا ہے تو اس کے لیئے چاہیئے کہ ہر فرد کو اس کا حق ملے اور کوئی بھی فرد ظلم کا شکار نہ ہو۔کسی بھی معاشرے،سلطنت یا کسی بھی حکمران کے اقتدار کی بقاء کے لئے جو چیز بڑی لازم اور ضروری ہے وہ عدل و انصاف ہی ہے۔جہاں سے یہ اٹھ جائے وہ معاشرہ باقی نہیں رہتا،نہ حکمرانی بچتی ہے۔عدل و انصاف انفرادی ہی نہیں،اجتماعی سطح پر بھی قائم کرنا ہمارا فرض اورذمہ داری ہے۔خود نبی کریمؓ عدل و انصاف کی بالادستی کےلیے کوشاں رہے۔ عرب میں جنگوں کا سلسلہ تو ایک زمانے سے جاری تھا۔معمولی اورچھوٹی باتوں پر سالہا سال تک لڑائیاں ہوتیں اورجنگیں رہتیں۔سیرتؓ پر مبنی کتابوں میں لکھا ہے بعث نبویؓ سے قبل اہل مکہ نے باہمی طور پر ایک معاہدہ کیا کہ اب ہم عدل و انصاف کے قیام کی کوشش کرتے ہیں۔نیز یہ کہ مظلوموں کی حمایت کریں گےاور کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونے دیں گے۔اس مقصد کے لئے انہوں نے ایک تاریخ ساز معاہدہ تحریر کیا۔خود نبی پاکِ اس معاہدے کا حصہ تھے۔جب یہ معاہدہ ہوااس وقت رسول اللہؓ کی عمرمبارک صرف پندرہ برس تھی۔ چنانچہ ذوالعقدہ کے مہینے میں عبداللہ بن جذمان کے مکان پر یہ معاہدہ طے پایا۔اس میں لکھا گیاکہ ہم سب ہر مظلوم کی حمایت و نصرت کا عہد کرتے ہیں، مظلوم کا ساتھ دیں گے جب تک کہ وہ اپناحق نہ پالے- امام بہیقی فرماتے ہیں رسول اللہؓ عدل و انصاف کی بالا دستی پر مشتمل اس معاہدے کی اہمیت کے پیش نظر بعث کے بعد عہد نبوت میں فرمایا کرتے تھے۔ اس معاہدے کے مقابلے میں اگر مجھے سرخ اونٹ بھی دیئے جاتے تو میں ہرگز قبول نہ کرتا اور اگر اب زمانہ اسلام میں اس قسم کے معاہدے کی جانب بلایا جاں تو بھی اس میں شرکت کو قبول کروں گا- قرآن کریم میں ہے، کسی قوم سے آپ کی دشمنی ہے،تو اس حال میں بھی عدل و انصاف کو قائم رکھا جائے کہ دشمنی میں انسانی قدم کہیں ڈگمگا نہ جائیں۔
اندازہ لگائیے،اسلام کی کیسی پاکیزہ تعلیمات ہیں۔اسلامی تاریخ میں بےشمار ایسی مثالیں موجود ہیں کہ دشمن سامنےموجود ہےمگر مسلمانوں نےاس جانی دشمن سے بھی بے انصافی کامعاملہ نہیں رکھا۔اس موقع پربھی عدل کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھا۔ انصاف (Justice) ایک ایسا بنیادی اخلاقی اور سماجی تصور ہےجوفرداور معاشرے کے درمیان توازن اور برابری کو یقینی بنانے کے لیئے مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔انصاف صرف قانونی فیصلوں تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک ہمہ جہت اصول ہےجو اخلاقی اصولوں، فلسفیانہ بحثوں، قانون دین، سیاست اور روز مرہ سماجی تعلقات میں کار فرما ہے۔افلاطون نے اپنی کتاب جمہوریہ میں انصاف کو ہر فرد کے اپنے منصب اور فطری صلاحیت کے مطابق کردار ادا کرنےکا نام دیا۔ارسطو نےانصاف کو برابری اور تناسب پر مبنی رویہ قرار دیا۔جدید دور میں جان راولز نےاپنی مشہورتصنیف انصاف کاایک نظریہ میں انصاف کو رواداری یعنی منصفانہ طرزِعمل کے اصولوں پر استوار کیا۔اس کے برعکس فریڈرک نطشے جیسے مفکرین نے انصاف کو طاقت اورقوت کےاصولوں سےجوڑ کر دیکھا۔دنیا کے بڑے مذاہب میں انصاف کو الہی حکم قراردیاگیا ہے۔اسلام میں انصاف بنیادی تعلیمات میں شامل ہے۔قرآن میں بار بار انصاف پر قائم رہنےاورخواہشات یاتعصبات سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے۔کہا گیا اے ایمان والو! انصاف پر مضبوطی سے قائم رہو اور اللہ کے واسطے گواہی دینے والے بنو۔خواہ وہ تمہارے اپنے ہی خلاف کیوں نہ ہو (النساء 135) عیسائیت میں بھی انصاف خدا کی صفت اور انسانی ذمہ داری ہے جس کے ذریعے معاشرتی محبت اور خدمت کو بڑھایا جاتا ہے۔ ہندو مت اور بدھ مت میں انصاف کو قانون سے جوڑا گیا ہے اور ایک اچھا معاشرہ قائم کرنے کے لیے انصاف کی اہمیت کو ماناجاتا ہے۔قانونی اعتبار سے انصاف کا مقصد یہ ہے کہ ہر فرد کو اس کے حقوق ملیں اور ہرجرم کی مناسب سزا دی جائے- عدالتیں انصاف کا ادارہ جاتی اظہار ہیں جو جائیداد کی تقسیم، خاندانی تنازعات، تجارتی جھگڑوں اور فوجداری مقدمات میں فیصلہ کرتی ہیں۔

انصاف کے اس پہلو میں غیر جانبداری اور ثبوت پر مبنی فیصلے کی سب سے زیادہ اہمیت ہے۔سماجی انصاف ایک ایسا تصور ہےجو معاشرے کے کمزور، محروم اور پسماندہ طبقات کو مساوی مواقع فراہم کرنے سے متعلق ہے۔اس میں تعلیم، صحت، روزگار اور وسائل کی منصفانہ تقسیم شامل ہے۔ جدید ریاستوں اور اداروں میں سماجی انصاف کو پالیسی سازی اور فلاحی اقدامات کے ذریعے یقینی بنایا جاتا ہے،جس معاشرے میں انصاف قائم نہ ہو وہاں ظلم، زیادتی، ناانصافی، تعصب اور استحکام فروغ پاتے ہیں۔ریاستوں میں انصاف کی کمی یا ناپید ہونےسے اعتمادختم ہوجاتا ہے۔ بدعنوانی، بےامنی اورخانہ جنگی جنم لیتی ہے۔ اسلامی تعلیمات پر عمل سے ہی زمین و آسمان قائم ہیں اور ہمیں ایک اسلامی معاشرے کا فرد ہونے کی حیثیت سے عدل و انصاف کی اہمیت کو سمجھنا چاہیے اور قرآن کا بھی حکم ہےکہ انصاف قائم کرو۔ ہمیں ہر سطح پر انصاف کے لیے کوشاں رہنا چاہیے کہ اس میں معاشرے کی اور خود ہماری بقا ہے۔

یہ بھی پڑھیں