Search
Close this search box.
پیر ,22 جون ,2026ء

ڈیجیٹل رمضان اور نیکی کا نوٹیفیکیشن

رمضان کبھی گلیوں کی خاموشی میں اترتا تھا۔ افطار سے کچھ دیر پہلے ایک عجیب سی سنجیدگی فضا ء میں گھل جاتی تھی۔ گھروں میں برتنوں کی ہلکی ہلکی آوازیں، بچوں کی بے تابی، دسترخوان پر سادہ کھجوریں اور پانی کا گلاس۔ نیکی کا چرچا نہیں بلکہ نیکی ہوا کرتی تھی۔ صدقہ دیا جاتا تھا مگر اعلان نہیں کیا جاتا تھا۔ آنسو بہتے تھے مگر کیمرہ موجود نہیں ہوتا تھا۔پھر وقت بدلا۔ ہاتھوں میں تسبیح کی جگہ موبائل نے لے لی۔ اب افطار سے چند منٹ پہلے گھروں میں اذان کی آواز سے پہلے کیمرے آن ہوتے ہیں۔ کھجور منہ میں ڈالنے سے پہلے تصویر لی جاتی ہے۔ اور جیسے ہی پہلا گھونٹ حلق سے نیچے اترتا ہے تصویر Facebook اور Instagram پر اپ لوڈ ہو چکی ہوتی ہے۔ رمضان اب صرف عبادت کا مہینہ نہیں رہا یہ ایک ڈیجیٹل ایونٹ بن چکا ہے۔سوال یہ نہیں کہ سوشل میڈیا استعمال کرنا غلط ہے۔ بات یہ ہے کہ کیا ہم عبادت کر رہے ہیں یا عبادت کی نمائش کر رہے ہیں؟ کیا ہم ثواب سمیٹ رہے ہیں یا لائکس؟آج کل رمضان آتے ہی ٹائم لائنز بدل جاتی ہیں۔ ہر طرف افطار پلیٹرز کی تصاویر، قیمتی دسترخوان، مختلف رنگوں کے جوس، درجنوں ڈشیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے روزہ ایک روحانی فریضہ نہیں بلکہ فوڈ فیسٹیول ہو۔ متوسط طبقے کا نوجوان جب یہ تصاویر دیکھتا ہے تو اس کے دل میں عجیب سی محرومی پیدا ہوتی ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ شاید اس کا سادہ دسترخوان کم تر ہے۔ حالانکہ روزے کی اصل روح تو سادگی میں ہے، نفس کو توڑنے میں ہے، دکھاوے سے بچنے میں ہے۔
رمضان کا ایک اور نیا منظر صدقہ و خیرات کی ویڈیوز ہیں۔ ایک شخص غریب کو راشن دیتا ہے دوسرا کسی بیوہ کے ہاتھ میں لفافہ رکھتا ہے تیسرا کسی رکشہ والے کو رقم تھماتا ہے اور یہ سب کچھ کیمرے کی آنکھ کے سامنے۔ ویڈیو بنائی جاتی ہے، ایڈیٹ کی جاتی ہے جذباتی موسیقی لگائی جاتی ہے اور پھر YouTube یا دیگر پلیٹ فارمز پر ڈال دی جاتی ہے۔اسلام نے صدقے کو خفیہ رکھنے کی تلقین کی ہے تاکہ لینے والے کی عزتِ نفس مجروح نہ ہو اور دینے والے کا اجر محفوظ رہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ اگر تم صدقات کو چھپا کر فقرا کو دو تو یہ تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے (البقرہ: 271) اسی طرح خبردار کیا گیا کہ اپنے صدقات کو احسان جتا کر اور ایذا دے کر ضائع نہ کرو اس شخص کی طرح جو لوگوں کو دکھانے کے لیے خرچ کرتا ہے (البقرہ: 264) مگر آج منظر بدل چکا ہے۔ لینے والے کا چہرہ نمایاں ہوتا ہے اور دینے والے کا نام بڑا۔ ہم نے خیرات کو بھی کانٹینٹ بنا دیا ہے۔ یہ ایک نئی معیشت ہے ثواب کی نہیں ویوز کی معیشت۔رسول اللہ ﷺ نے ریاکاری کو نہایت خطرناک قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ مجھے تم پر سب سے زیادہ جس چیز کا خوف ہے وہ چھوٹا شرک ہے اور وہ ریا ہے (مسند احمد) ایک اور حدیث میں بیان ہوا ہے کہ قیامت کے دن اس شخص کو لایا جائے گا جس نے صدقہ کیا ہوگا لیکن اگر اس کی نیت شہرت تھی تو اسے کہا جائے گا کہ تم نے اس لئے خرچ کیا تاکہ لوگ تمہیں سخی کہیں اور وہ کہہ چکے، پھر اسے سزا دی جائے گی (صحیح مسلم) اسی تناظر میں جب پنجاب کی خاتون وزیر اعلی مریم نواز کے سرکاری دسترخوانوں اور افطار پیکٹوں کا معاملہ سامنے آتا ہیجہاں عوامی فنڈز سے تقسیم ہونے والے پیکٹوں اور پلیٹوں پر ان کی تصاویر پرنٹ کی جاتی ہیں تو یہ تاثر جاتا ہے کہ کیا ریاستی وسائل کو ذاتی تشہیر کے لئے استعمال کرنا امانت کے تقاضوں کے مطابق نہیں۔ عوام کے پیسے سے چلنے والی مہم میں اگر ہر ڈبے اور ہر پلیٹ پر حکمران کی تصویر نمایاں ہو تو یہ عمل خدمت سے زیادہ تشہیر کا تاثر دیتا ہے۔ رمضان المبارک جیسے بابرکت مہینے میں ایسی نمائش یقینا سنجیدہ دینی اور اخلاقی سوالات کو جنم دیتی ہے۔نوجوان نسل ایک عجیب کشمکش میں مبتلا ہے۔ ایک طرف وہ دین سے جڑنا چاہتی ہے دوسری طرف وہ ڈیجیٹل دنیا کے دبا کا شکار ہے۔ اگر وہ عبادت کرے اور پوسٹ نہ کرے تو اسے لگتا ہے کہ شاید اس کا عمل نامکمل ہے اور اگر پوسٹ کرے تو اخلاص خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ یہ نفسیاتی دبا کم نہیں ہم نے نئی نسل کو سکھایا ہی نہیں کہ نیکی کا سب سے خوبصورت پہلو اس کی خاموشی ہے۔
رمضان ٹرانسمیشنز نے اس ڈیجیٹل کلچر کو مزید ہوا دی ہے۔ پاکستانی ٹی وی چینلز پر خصوصی نشریات کا اہتمام ہوتا ہے۔ سیٹ شاندار، روشنیوں کی چکاچوند، اسپانسرز کی قطاریں اور درمیان میں ایک الہڑ لڑکی۔ اکثر اوقات ان پروگراموں میں مشہور ماڈلز یا اداکاراں کو بٹھا کر مذہبی گفتگو کروائی جاتی ہے۔ بظاہر مقصد دین کی بات کرنا ہوتا ہے مگر اس کے پیچھے ریٹنگز کی دوڑ ہوتی ہے۔یہ رجحان ایک مخصوص طبقے کی نمائندگی کرتا ہے۔ عورت کو ایک شو پیس بنا کر اسے خوبصورت ملبوسات اور میک اپ کے ساتھ اسکرین پر بٹھا کر مذہب کو بھی ایک پروڈکٹ کی طرح پیش کیا جاتا ہے۔بات یہ نہیں کہ عورت اسکرین پر کیوں ہے سوال یہ ہے کہ کیا ہم اسے اس کی فکری اور علمی صلاحیت کی بنیاد پر پیش کر رہے ہیں یا صرف توجہ حاصل کرنے کے لئے؟ اگر دین کی بات بھی اسی فارمولے کے تحت ہوگی جس کے تحت ڈرامے اور مارننگ شوز بنتے ہیں تو پھر ہم عبادت اور انٹرٹینمنٹ کے درمیان حد کیسے قائم کریں گے؟رمضان ٹرانسمیشنز میں مقابلے ہوتے ہیں، کالرز کی قطار لگتی ہے، انعامات بانٹے جاتے ہیں، اسپانسرڈ سیگمنٹس چلتے ہیں۔ دین ایک شو بن جاتا ہے۔ جذبات کو ابھارا جاتا ہے، آنسو دکھائے جاتے ہیں اور بریک کے بعد اشتہار ۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ہمیں رک کر سوچنا چاہیے کہ کیا ہم واقعی روحانیت کو فروغ دے رہے ہیں یا اسے مارکیٹ کا حصہ بنا چکے ہیں؟یہ سطور سوشل میڈیا کے مکمل انکار کی دعوت نہیں دیتیں۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو مثبت مقصد کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ قرآن کی تعلیم، علمی لیکچرز، فلاحی مہمات سب کچھ ممکن ہے۔ مسئلہ نیت اور انداز کا ہے۔ اگر نیکی کی تشہیر اس لیے ہو کہ دوسروں کو ترغیب ملے اور لینے والے کی عزت محفوظ رہے تو اس میں قباحت نہیں۔ مگر اگر مقصد ذاتی تشخص بنانا ہو تو یہ خطرناک راستہ ہے۔ہمیں نوجوانوں سے مکالمہ کرکے انہیں یہ بتانا ہوگا کہ دین دکھاوے کا نام نہیں۔ انہیں یہ سکھانا ہوگا کہ جو آنسو تنہائی میں گرتے ہیں وہ زیادہ قیمتی ہوتے ہیں۔ انہیں یہ احساس دلانا ہوگا کہ اصل کامیابی لائکس کی تعداد نہیں بلکہ دل کی طمانیت ہے۔ڈیجیٹل رمضان کا سب سے بڑا خطرہ یہی ہے کہ یہ خاموشی کو ختم کر دیتا ہے۔ اور عبادت کی سب سے بڑی خوبصورتی خاموشی ہی ہے۔ جب انسان اور اس کا رب آمنے سامنے ہوں، درمیان میں کوئی کیمرہ نہ ہو، کوئی اسکرین نہ ہو، کوئی ہیش ٹیگ نہ ہو۔یہ وقت ہے کہ ہم توازن قائم کریں۔ سوشل میڈیا کو استعمال کریں اس کے غلام نہ بنیں۔ نیکی کریں مگر اسے بازار میں نہ سجائیں۔ دین کو سمجھیں مگر اسے شو نہ بنائیں۔ اور اگر ہم یہ توازن قائم نہ کر سکے تو آنے والی نسلیں رمضان کو ایک روحانی مہینہ نہیں بلکہ ایک ڈیجیٹل فیسٹیول کے طور پر یاد رکھیں گی۔شاید اس رمضان ہمیں اپنے موبائل کی اسکرین سے زیادہ اپنے دل کی اسکرین صاف کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ وہاں کوئی لائک کا بٹن نہیں ہوتا مگر وہاں سے جو منظوری ملتی ہے وہی اصل کامیابی ہے۔ڈیجیٹل رمضان کے اس شور میں اگر ہم نے اخلاص کی سرگوشی سن لی تو یہ ہماری سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔ ورنہ ہم روزے بھی رکھیں گے، ٹرانسمیشنز بھی دیکھیں گے، پوسٹس بھی کریں گے اور شاید اصل روح کہیں پیچھے رہ جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں