جنگ، علاقائی کشیدگی اور غیر یقینی حالات انسان کے دل میں فطری طور پر خوف اور اضطراب پیدا کرتے ہیں۔ خبروں کی تیزی، سوشل میڈیا کی افواہیں اور سیاسی بیانات انسان کے ذہن کو مزیدپریشان کر دیتے ہیں۔ ایسےوقت میں ایک مومن کارویہ عام لوگوں سے مختلف ہوناچاہیے۔ اس کا دل گھبراہٹ سے نہیں بلکہ یقین سے بھراہوتا ہے، اس کا ردِعمل افواہ نہیں بلکہ ذمہ داری ہوتا ہےاوراس کا سہارا محض ظاہری اسباب نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ پر کامل توکل ہوتا ہے۔اسلام ہمیں نہ تو بےعملی سکھاتا ہےاورنہ ہی اندھا خوف بلکہ قرآن ہمیں توازن کا راستہ دکھاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اور ان کے مقابلے کے لئے اپنی استطاعت کے مطابق قوت تیار رکھو(سورہ الانفال 8:60) یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ مومن کو حالات کا ادراک ہونا چاہیے۔ تیاری، نظم،احتیاط اورحکمت ایمان کےخلاف نہیں بلکہ ایمان کا حصہ ہیں۔ اگر سرکاری ادارے کسی حفاظتی اقدام کی ہدایت دیں تو اس پر عمل کرنا دانشمندی ہے۔ مستند ذرائع سے معلومات لینا ضروری ہے۔ سنی سنائی باتوں کو پھیلانا، خوف کو بڑھانا اور غیر مصدقہ خبریں آگے بھیجنا ایک مومن کے شایانِ شان نہیں۔ جنگ کے دور میں سب سے پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ ہم خود بھی سکون میں رہیں اور دوسروں کے لئے بھی سکون کا ذریعہ بنیں۔لیکن تیاری کے ساتھ ساتھ ایک اور پہلو ہے جو اس سے بھی زیادہ اہم ہے وہ ہے استغفار اور اللہ کی طرف رجوع۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:اوراللہ انہیں عذاب نہیں دے گا جب تک وہ استغفار کرتے رہیں گے۔(سورہ الانفال 8:33)
یہ آیت ہمیں ایک عظیم روحانی حقیقت بتاتی ہے کہ استغفار محض الفاظ نہیں، بلکہ حفاظت کی ایک ڈھال ہے۔ جب بندہ سچے دل سے کہتا ہے،استغفر اللہ واتوب الیہ، تو وہ اپنی کمزوریوں کا اعتراف کرتا ہے، اللہ کی رحمت کو پکارتا ہے اور اپنی خطائوں سے رجوع کرتا ہے۔ استغفار دلوں کو نرم کرتا ہے، آسمانوں کو کھولتا ہے اور مصیبتوں کو ہلکا کرتا ہے۔تاریخ گواہ ہےکہ جب قومیں اجتماعی طورپراللہ کی طرف جھکیں، ان کےحالات بدل گئے۔ استغفار صرف ذاتی نجات کا ذریعہ نہیں بلکہ اجتماعی برکت کا بھی سبب ہے۔ اس لئے ایسے دور میں ہر گھر میں استغفار کی آواز ہونی چاہیے۔ صبح و شام، چلتے پھرتے، تنہائی میں اور اجتماعی دعا میں کثرت سے استغفار کیا جائے۔نبی کریم ﷺ نے خوف اور پریشانی کے لمحات کے لئے خاص رہنمائی فرمائی ہے۔ آپ ﷺ صبح و شام سورہ الفلق اور سورہ الناس کی تلاوت کیا کرتے تھے۔ یہ دونوں سورتیں حفاظت کی دعا ہیں۔ ان میں انسان ہر قسم کے شر سے اللہ کی پناہ مانگتا ہےظاہرو باطن کے شر سے، انسانوں اور جنات کے وسوسوں سے، اندھیرے کی آفتوں سے اورحسد کی آگ سے۔ اسی طرح آپ ﷺ یہ دعا پڑھتے تھے:اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں فکر اورغم سے، عاجزی اور سستی سے، بخل اور بزدلی سے، قرض کے بوجھ اور لوگوں کے غلبے سے۔(بخاری) یہ دعا ہمیں سکھاتی ہے کہ خوف صرف بیرونی خطرات سے نہیں بلکہ اندرونی کمزوریوں سے بھی پیدا ہوتا ہے۔ جب دل اللہ سے جڑ جائے تو باہر کے طوفان انسان کو ہلا نہیں سکتے۔ایک اور اہم عمل صدقہ ہے۔ حدیث میں آتا ہےکہ صدقہ بلا کو دور کرتا ہے (ترمذی)
مشکل وقت میں اگر انسان اپنی استطاعت کے مطابق کسی محتاج کی مدد کرے، کسی بھوکے کو کھانا کھلائے، کسی بیمار کی دوا کا انتظام کرے تو وہ دراصل اپنے لئے حفاظت کی دعا کر رہا ہوتا ہے۔ صدقہ دلوں کو جوڑتا ہے اور معاشرے میں رحمت پھیلاتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اورجو اللہ پر بھروسا کرے تو وہ اس کے لئےکافی ہے۔(سورہ الطلاق 65:3) یہ آیت مومن کے دل کا مرکز ہے۔ توکل کا مطلب یہ نہیں کہ اسباب چھوڑ دئیے جائیں، بلکہ یہ ہے کہ اسباب اختیار کرنے کے بعد دل کا سہارا اللہ ہو۔ اگر حالات خراب ہوں تب بھی یقین ہو کہ اللہ کی مشیت کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا۔ اگرخطرہ ہوتو یقین ہو کہ حفاظت کا اصل اختیار اسی کے پاس ہے۔ ایسے دور میں نماز کو مضبوط کرنا بےحد ضروری ہے۔ نماز دل کو سکون دیتی ہے، انسان کو اللہ کے سامنے کھڑا کر دیتی ہے اوراسے یاددلاتی ہےکہ دنیا کی طاقتیں محدود ہیں۔ تہجد کی چند رکعتیں، آنسوئوں کے ساتھ کی گئی دعا اور سجدے کی عاجزی وہ طاقت پیدا کرتی ہےجو بڑےسے بڑےخوف کو کم کردیتی ہے۔گھر کے ماحول کو بھی بہتر بنائیں۔ بچوں کے سامنے گھبراہٹ نہ پھیلائیں بلکہ انہیں دعا سکھائیں۔ خاندان کے افراد کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کریں۔ اگر کوئی ناراضی ہےتو اسےختم کریں۔ مصیبت کے وقت سب سے بڑی طاقت باہمی اتحاد ہے۔خطے کے امن کے لئے خصوصی دعا کریں۔ جنگ کسی کے لئے بھی خیر نہیں لاتی۔ اس میں جانیں ضائع ہوتی ہیں، گھر برباد ہوتے ہیں اور نسلیں متاثر ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ حکمرانوں کو حکمت دے، فیصلوں میں عدل عطا کرے اور دلوں میں نرمی پیدا کرے۔ دعا کمزوروں کا ہتھیار نہیں بلکہ مومن کی طاقت ہے۔یاد رکھیں، حفاظت صرف دیواروں، پناہ گاہوں اور نظاموں میں نہیں ہوتی بلکہ سچے دل سے اللہ کی طرف رجوع کرنے میں ہوتی ہے۔ جب دل مطمئن ہو جائے تو باہر کا شور کم محسوس ہوتا ہے۔ جب زبان ذکر میں مصروف ہو تو وسوسے کمزور پڑ جاتے ہیں۔ جب آنکھ آنسوئوں کے ساتھ دعا کرے تو آسمان قریب محسوس ہوتا ہے۔آج اگر دنیا غیر یقینی کی طرف بڑھ رہی ہے تو مومن کو یقین کی طرف بڑھنا چاہیے۔ اگر حالات سخت ہیں تو ایمان کو مضبوط کرنا چاہیے۔اگرخبریں خوفناک ہیں تو ذکرکوبڑھانا چاہیے۔اللہ تعالیٰ سب لوگوں کی حفاظت فرمائے،ہمارے خطے کو استحکام عطا کرے، بے گناہوں کی جانوں کی حفاظت کرے، ہمارے دلوں میں سکون نازل فرمائے اور جلد امن قائم فرمائے۔آمین۔