Search
Close this search box.
اتوار ,21 جون ,2026ء

ایران کا جوابی وار اور ہمارا نوبل انعام

بعض راتیں ایسی ہوتی ہیں جو صرف رات نہیں ہوتیں بلکہ تاریخ کے موڑ بن جاتی ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ میں وہ رات بھی کچھ ایسی ہی تھی جب آسمان پر میزائلوں کی سرخ لکیریں کھنچ رہی تھیں اور عالمی خبر رساں ادارے ہنگامی نشریات کر رہے تھے اور دنیا حیرت سے اس منظر کو دیکھ رہی تھی۔ تہران پر حملے ہوئے قیادت کو نشانہ بنایا گیا اور خیال یہ تھا کہ شاید ایران خاموشی اختیار کرے گا۔مگر ایران نے جواب دیا اور ایسا جواب کہ واشنگٹن سے تل ابیب تک طاقت کے ایوانوں میں بے چینی پھیل گئی۔ یہ صرف ایک فوجی ردعمل نہیں تھا بلکہ ایک پیغام تھا کہ مشرقِ وسطیٰ کی بساط پر کھیل اب بدل چکا ہے۔مگر اس کہانی کا سب سے دردناک اور فیصلہ کن لمحہ وہ تھا جب یہ خبر پوری دنیا میں بجلی بن کر گری کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے خاندان کے متعدد افراد اسرائیلی اور امریکی حملوں میں شہید ہو گئے ہیں۔ یہ ایک ایسا صدمہ تھا جس نے ایران کے طول و عرض کو سوگ میں ڈبو دیا اور پورے مشرقِ وسطیٰ کی فضاء کو لرزا کر رکھ دیا۔ ایران میں سپریم لیڈر کا منصب صرف اقتدار کی کرسی نہیں بلکہ ایک نظرئیے، ایک مزاحمتی روایت اور ایک روحانی علامت کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی لئے آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت ایرانی قوم کے لیے صرف ایک رہنما کے بچھڑ جانے کا واقعہ نہیں بلکہ ایک قومی سانحہ اور ایک عظیم المیہ بن کر ابھری۔ گلیوں بازاروں اور مساجد میں سوگ کی فضا پھیل گئی آنکھیں اشکبار ہو گئیں اور دلوں میں غم اور غصے کی ایک نئی لہر اٹھ کھڑی ہوئی۔ یہ لمحہ صرف ایران کی تاریخ میں نہیں بلکہ پورے خطے کی سیاست میں ایک ایسا موڑ ثابت ہوا جس کے اثرات دیر تک محسوس کیے جاتے رہیں گے۔ یہ حملے اچانک نہیں ہوئے ان کے پیچھے کئی دہائیوں کی کشیدگی کی تاریخ موجود ہے۔
1979 ء میں جب ایرانی انقلاب برپا ہوا تو ایران کی سیاست اور خارجہ پالیسی کا رخ یکسر بدل گیا۔ شاہِ ایران کے زوال کے بعد ایک ایسا نظام قائم ہوا جس نے مغربی طاقتوں خصوصاً امریکہ کے اثر و رسوخ کو کھل کر چیلنج کیا۔ اسی لمحے سے واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی کا ایک طویل سلسلہ شروع ہو گیا جو وقت کے ساتھ ساتھ مزید پیچیدہ اور گہرا ہوتا چلا گیا۔ایران پر اقتصادی پابندیاں لگیں سفارتی دبائو بڑھایا گیا اورخطے میں اس کے اثر کو محدود کرنے کی کوشش کی گئی۔ دوسری طرف ایران نے بھی اپنی حکمت عملی تبدیل کی۔ اس نے اپنی دفاعی صلاحیت کو مضبوط کیا، میزائل پروگرام کو ترقی دی اور علاقائی سیاست میں اپنا اثر بڑھانے کی کوشش کی۔ اس تمام کشمکش کے دوران کبھی مذاکرات کی کوشش بھی ہوئی۔ 2015 ء میں ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے ایک اہم معاہدہ طے پایا جسے ایران کا جوہری معاہدہ کہا جاتا ہے۔ اس معاہدے کے بعد کچھ عرصے کے لیے امید پیدا ہوئی کہ شاید ایران اور مغربی طاقتوں کے درمیان کشیدگی کم ہو جائے گی۔ مگر عالمی سیاست میں امیدیں اکثر عارضی ثابت ہوتی ہیں اور یہی اس معاہدے کے ساتھ بھی ہوا۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خطے میں تنائو دوبارہ بڑھنے لگا۔ اسرائیل مسلسل یہ دعویٰ کرتا رہا کہ ایران کی عسکری طاقت اس کی سلامتی کے لئے خطرہ ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو بارہا یہ کہتا رہا کہ ایران کو کسی بھی صورت خطے کی غالب طاقت نہیں بننے دیا جائے گا۔اسی سوچ کے تحت اسرائیل نے ایران کے خلاف خفیہ کارروائیوں اور حملوں کی حکمت عملی اختیار کی۔ حالیہ واقعات نے اس کشمکش کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا۔ جب سپریم لیڈر کی شہادت کی خبر پھیلی تو ایران میں ایک عجیب فضا پیدا ہو گئی۔ غم صدمہ اور غصہ تینوں جذبات ایک ساتھ موجود تھے۔ ایرانی عوام کے لیے یہ ایک ایسا لمحہ تھا جس نے قومی وقار اور مزاحمت کے جذبے کو مزید بھڑکا دیا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب دنیا نے ایران کا ردعمل دیکھا۔تہران نے خاموشی اختیار نہیں کی۔ ایران نے اپنی عسکری صلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھرپور جواب دیا۔ میزائل اور ڈرون حملوں نے خطے میں طاقت کے توازن پر نئی بحث چھیڑ دی۔
عالمی مبصرین کے مطابق یہ صرف ایک فوجی کارروائی نہیں بلکہ ایک نفسیاتی پیغام بھی تھا۔ ایران نے دنیا کو بتانے کی کوشش کی کہ اگر اس کی قیادت کو نشانہ بنایا جائے گا تو وہ خاموش نہیں بیٹھے گا۔یہ صورتحال صرف ایران اور اسرائیل تک محدود نہیں رہی۔ اس بحران کے اثرات عالمی سیاست تک پھیل گئے۔ امریکہ ہمیشہ سے اسرائیل کا سب سے بڑا اتحادی رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کےسابقہ دور میں امریکہ کی مشرقِ وسطیٰ پالیسی مزید سخت ہو گئی تھی۔ ایران پر اقتصادی پابندیاں لگائی گئیں اور اسکےخلاف دبائو بڑھایا گیا۔ انہی پالیسیوں نے خطے میں کشیدگی کو مزید بھڑکایا۔آج بہت سے مبصرین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ دنیا کو عالمی جنگ کی طرف دھکیلاجارہا ہےکیونکہ جب بڑی طاقتیں اپنے مفادات کے لیےخطے کو میدانِ جنگ بنادیتی ہیں تو اس کے اثرات صرف اسی خطے تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری دنیا متاثر ہوتی ہے۔ اس تمام صورتحال میں پاکستان کا کردار بھی زیرِ بحث آ رہا ہے۔ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اور جغرافیائی طور پر ایک انتہائی حساس خطے میں واقع ہے۔پاکستان کی سرحد ایران کے ساتھ ملتی ہےاوردونوں ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور مذہبی روابط بھی موجود ہیں۔ اسی لئے جب ایران کے اندر اس نوعیت کا بحران پیدا ہوتا ہے تو پاکستان کی پالیسی کو بھی توجہ حاصل ہوتی ہےمگر افسوس یہ ہے پاکستان کی خارجہ پالیسی کس سمت جارہی ہے۔ سچ تو یہ ہے پاکستان کی سفارت کاری اب اصولوں کے بجائے عالمی طاقتوں کے دبائوکےتابع نظر آتی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی ایک باوقار اور خودمختار راستے کے بجائے طاقتور ممالک کی خوشنودی اور انکی چاپلوسی تک محدود ہوتی جا رہی ہے۔ اسی تناظر میں ایک عجیب تضاد بھی سامنے آیا ہے۔ وہی ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو جن کو فلسطین کے بچوں کا قاتل قرار دیا جاتا ہے اسی ٹرمپ کو پاکستان کے وزیر اعظم کی جانب سے نوبل انعام کے لئے تجویز کرنے اور انہیں خطے کا ممکنہ نجات دہندہ قرار دینے جیسے بیانات سامنے آئے ہیں۔کیونکہ جب اپنے ہمسائے مسلم ملک پر جنگ مسلط کرنے پر بھی ہماری قیادت رد عمل دینے میں آئین بائیں شائیں سے کام لے گی تو پھر اس خارجہ پالیسی کے بارے میں سوال تو اٹھیں گے۔ایک خودمختار ملک کی خارجہ پالیسی صرف بیانات سے نہیں بلکہ قومی وقار اور اصولوں سے پہچانی جاتی ہے۔ پاکستان جیسے ایٹمی ملک سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ عالمی سیاست میں ایک باوقار اور متوازن کردار ادا کرے گا۔ مگر حالیہ واقعات نے اس تاثر کو کمزور کیا ہے۔
مسلم دنیا کی تقسیم خطے کے مسائل کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔ اگر مسلم ممالک ایک مشترکہ حکمت عملی اختیار کرتے تو شاید خطے کی صورتحال مختلف ہوتی۔ مگر بدقسمتی سے داخلی اختلافات نے اسلامی دنیا کو کمزور کر رکھا ہے۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں ہر فیصلہ تاریخ کا رخ بدل سکتا ہے۔ اگر کشیدگی مزید بڑھی تو یہ بحران ایک بڑی جنگ میں بھی تبدیل ہو سکتا ہے۔ آج دنیا ایک عجیب دوراہے پر کھڑی ہے۔ ایک طرف جنگ کے بادل ہیں اور دوسری طرف سفارت کاری کی کمزور سی امید۔ تہران کا جواب اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ طاقت کےتوازن کو ہمیشہ یک طرفہ نہیں رکھا جا سکتا۔ اگر مسلم دنیا تقسیم رہی اورپاکستان جیسے اہم ممالک اپنی خارجہ پالیسی کوصرف طاقتوروں کی خوشنودی اور چاپلوسی تک محدود رکھتے رہےتو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔ قوموں کی عزت اس وقت بنتی ہے جب وہ اصولوں پر کھڑی رہیں۔ سوال یہ نہیں کہ تہران نے کیا جواب دیا۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس بحران میں دنیا اورخصوصا مسلم دنیا نے کیا سبق سیکھا کیونکہ تاریخ ہمیشہ طاقتوروں کو نہیں بلکہ باوقار قوموں کو یاد رکھتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں