Search
Close this search box.
جمعه ,19 جون ,2026ء

شہوت، انرجی، محبت، امتحان یا ذلت و گناہ

انسانی زندگی میں کچھ قوتیں ایسی ہوتی ہیں جو بظاہر سادہ محسوس ہوتی ہیں مگر درحقیقت بہت گہری معنویت رکھتی ہیں۔ شہوت بھی انہی بنیادی قوتوں میں سے ایک ہے۔ یہ ایک ایسی اندرونی انرجی ہے جو انسان کے وجود میں کشش، حرکت اور رغبت کا جذبہ پیدا کرتی ہے۔یہ نہ بذاتِ خود نور ہے اور نہ ہی ظلمت۔ نہ یہ مکمل خیر ہے اور نہ مکمل شر۔ دراصل یہ ایک خام توانائی ہے جو انسان کے اختیار کے مطابق اپنا رنگ اختیار کرتی ہے۔ اگر یہی قوت صحیح سمت میں استعمال ہو تو محبت، خاندان، سکون اور روحانی ترقی کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ اور اگر یہی قوت بے قابو ہو جائے تو گناہ، ذلت اور اخلاقی زوال کا سبب بن جاتی ہے۔قرآن اس حقیقت کی طرف واضح اشارہ کرتا ہے۔
یعنی انسان کے لئے خواہشات کو کشش کے ساتھ مزین کیا گیا ہے۔اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ خواہش یا شہوت کا وجود فطری ہے۔ یہ انسانی ساخت کا حصہ ہے۔ مسئلہ اس کے وجود کا نہیں بلکہ اس کے استعمال کا ہے۔ یہی استعمال اس توانائی کو یا تو رحمت اور برکت میں بدل دیتا ہے یا پھر اسے فتنہ وفساداور آزمائش بنا دیتا ہے۔انسان کی روحانی ترقی کا ایک بڑا راز یہی ہے کہ وہ اپنی خواہشات کو کس طرح نظم دیتا ہے۔ خواہش اگر عقل، ایمان اور اخلاق کے تابع ہو تو انسان کو بلند کرتی ہے۔ لیکن اگر انسان نفس حیوان خواہش کا غلام بن جائے تو یہی قوت اسے نیچے گرا دیتی ہے۔شہوت کا مثبت اور حلال استعمال، محبت، رحمت ، روحانی ارتقاء اور سکون بن جاتا ہے جب یہی انرجی حلال اور جائز دائرے میں استعمال ہوتی ہے تو اس کا رخ بدل جاتا ہے۔ وہ محض جسمانی خواہش نہیں رہتی بلکہ محبت، مودت اور رحمت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ نکاح کے بارے میں فرماتا ہے:
یعنی اللہ نے میاں بیوی کے درمیان محبت اور رحمت رکھ دی۔(الروم 30:21)
یہی وہ مقام ہے جہاں ایک حیوانی قوت روحانی معنی اختیار کر لیتی ہے۔ نکاح کے اندر یہی شہوت محبت کا ذریعہ بنتی ہے، خاندان کی بنیاد بنتی ہے اور نسلِ انسانی کے تسلسل کا سبب بنتی ہے۔اسلام نے اسی لئے خواہش کو ختم کرنے کا نہیں بلکہ اس کو درست راستہ دینے کا اصول دیا ہے۔اسی طرح مال کی خواہش بھی ایک طرح کی شہوت ہے۔ اگر یہی خواہش حلال محنت، دیانت اور زکوٰۃ کے ساتھ جڑ جائے تو معاشرے میں خیر اور برکت کا سبب بن جاتی ہے۔اولاد کی محبت بھی ایک فطری جذبہ ہے۔ اگر اس محبت کو تربیت، قربانی اور اخلاقی تعلیم کے ساتھ جوڑ دیا جائے تو وہ صدقہ جاریہ بن جاتی ہے۔اس طرح انسان کی فطری خواہشات دراصل تباہی کا نہیں بلکہ تعمیر کا ذریعہ بھی بن سکتی ہیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ ان کو ہدایت اور اخلاق کے دائرے میں رکھا جائے۔روحانی تربیت کا نظام اسلام نے خواہشات کو قابو میں رکھنے کے لئے عملی تربیت کی تعلیم بھی دی ہے۔روزہ اسی تربیت کا ایک عظیم ذریعہ ہے۔ روزہ انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ وہ اپنی خواہشات کا غلام نہیں بلکہ ان کا مالک ہے۔ بھوک اور پیاس جیسی بنیادی خواہشات کو بھی انسان اللہ کی رضا کے لئے روک لیتا ہے۔یہی ضبطِ نفس دراصل انسان کے اندر روحانی قوت پیدا کرتا ہے۔جب انسان اپنی خواہشات کو کنٹرول کرنا سیکھ لیتا ہے تو اس کے دل میں سکون پیدا ہوتا ہے، اس کی روح میں نور آتا ہے اور اس کے اندر اخلاقی قوت بڑھ جاتی ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں انسان حیوان سے مختلف ہو جاتا ہے۔ حیوان خواہش کے پیچھے چلتا ہے، جبکہ انسان خواہش کو نظم دیتا ہے۔
ناجائز اور منفی استعمال: شیطانی انحراف جب یہی انرجی حدود کو توڑ دیتی ہے تو وہ فساد اور تباہی کا ذریعہ بن جاتی ہے۔قرآن سختی سے تنبیہ کرتا ہے:
یعنی زنا کے قریب بھی نہ جائو۔(الالسراء 17:32)
یہ حکم صرف ایک عمل سے روکنے کے لئے نہیں بلکہ اس پورے راستے سے بچانے کے لئے ہے جو انسان کو اخلاقی زوال کی طرف لے جاتا ہے۔اصل مسئلہ خواہش نہیں بلکہ بے قابو خواہش ہے۔جب انسان اپنی خواہش کو ضمیر، اخلاق اور خدا کی ہدایت سے جدا کر دیتا ہے تو وہ آہستہ آہستہ گناہ کے راستے پر چل پڑتا ہے۔شیطان کا طریقہ بھی یہی ہے۔ وہ انسان کے اندر نئی خواہش پیدا نہیں کرتا بلکہ موجود خواہش کو بڑھا دیتا ہے اور اسے غلط سمت میں لے جاتا ہے۔قرآن میں شیطان کے قول کا ذکر ہے:
یعنی میں ان کے لئے زمین میں چیزوں کو خوشنما بنا دوں گا۔(الحجر 15:39)
جب انسان بار بار گناہ کے راستے پر چلتا ہے تو اس کا دل سخت ہونے لگتا ہے۔ روح میں بے سکونی پیدا ہوتی ہے اور ضمیر کی آواز کمزور پڑنے لگتی ہے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جو خواہش کبھی رحمت بن سکتی تھی وہ انسان کے لئے بوجھ اور ذلت بن جاتی ہے۔انسان اور حیوان کا امتیاز کائنات میں مخلوقات کی مختلف سطحیں ہیں۔حیوان کے پاس خواہش ہے مگر اخلاقی شعور نہیں۔فرشتے کے پاس اطاعت ہے مگر خواہش نہیں۔انسان کے پاس دونوں ہیں خواہش بھی اور شعور بھی۔اسی لیے انسان کا مقام سب سے منفرد ہے۔قرآن فرماتا ہے:
یعنی نفس کو اس کی بدی اور اس کی پرہیزگاری دونوں کا الہام کر دیا گیا۔(الشمس 91:8)
اس آیت میں انسان کے امتحان کا راز بیان کیا گیا ہے۔ انسان کے اندر دو راستے رکھے گئے ہیں۔ ایک راستہ خواہشات کے اندھے پیچھے چلنے کا ہے اور دوسرا راستہ تقویٰ اور ضبط کا ہے۔اگر انسان اپنی خواہشات کو ایمان اور اخلاق کے تابع کر دے تو یہی قوت محبت، رحمت اور روحانی بلندی کا ذریعہ بن جاتی ہے۔لیکن اگر انسان انہیں بے لگام چھوڑ دے تو یہی قوت اسے شیطانی انحراف اور اخلاقی پستی کی طرف لے جاتی ہے۔شہوت ایک انرجی ہے امتحان بھی اور امکان بھی۔یہ وہ قوت ہے جسے اللہ نے انسان کے اندر رکھا تاکہ وہ زندگی کو حرکت دے، پیدائش کے عمل کے ارتقا سیخاندان بنائے، محبت کرے اور دنیا میں تعمیر کا ذریعہ بنے۔اسی قوت کے ساتھ اللہ نے ہدایت، عقل اور اختیار بھی دیا۔انسان کی عظمت اسی میں ہے کہ وہ اس توانائی کو کس سمت لے جاتا ہے۔حلال استعمال انسان کو محبت، سکون، نور اور روحانی ترقی کی طرف لے جاتا ہے۔حرام استعمال انسان کو اضطراب، اندھیرے، گناہ اور ذلت کی طرف لے جاتا ہے۔یہی فرق انسان کو حیوان سے ممتاز کرتا ہے اور یہی فیصلہ کرتا ہے کہ انسان اپنی روح کو بلندی تک لے جاتا ہے یا اپنی خواہشات کے بوجھ تلے گرا دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں