کیا واقعی ایران اور عرب ریاستوں کے درمیان تعلقات بہتر ہو رہے تھے؟ اگر ایسا تھا تو پھر وہ کون سا توازن تھا جس کے ہوتے ہوئے اسرائیل ایران پر حملے کرتا ہے اور عرب دنیا خاموش تماشائی بنی رہتی ہے؟ حالیہ واقعات نے اس سوال کو ایک بار پھر زندہ کر دیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں اصل فیصلہ کن طاقت آخر کس کے ہاتھ میں ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے میں ایران اور عرب ریاستوں کے درمیان تعلقات میں نمایاں بہتری آ رہی تھی۔ سفارتی رابطے بحال ہو رہے تھے، برسوں پر محیط کشیدگی میں کمی دیکھی جا رہی تھی اور خطے میں ایک نئے توازن کی امید پیدا ہو رہی تھی۔ لیکن اچانک حالات نے کروٹ لی اور یہ تاثر ابھرنے لگا کہ ایران نے خود ہی ان تعلقات کو نقصان پہنچایا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر تعلقات بہتر بھی ہو رہے تھے تو ان کا حقیقی فائدہ کیا تھا؟ اگر انہی تعلقات کے دوران اسرائیل عرب ممالک کی سرزمین یا فضائی حدود استعمال کرتے ہوئے ایران پر حملہ کرتا رہے اور عرب حکومتیں خاموش تماشائی بنی رہیں تو پھر ایسے تعلقات کی حیثیت کیا رہ جاتی ہے؟یہ سوال صرف ایران کا نہیں بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کا ہے۔ برسوں سے یہ خطہ عالمی طاقتوں کی کشمکش کا میدان بنا ہوا ہے۔ یہاں کے فیصلے اکثر خطے کے عوام کی خواہشات کے بجائے بڑی طاقتوں کے مفادات کے تابع نظر آتے ہیں۔ ایران اور عرب ریاستوں کے درمیان تاریخی اختلافات اپنی جگہ، لیکن حالیہ برسوں میں سفارتی کوششوں نے ایک نئی امید ضرور پیدا کی تھی کہ شاید اب دشمنی کی فضا کم ہو گی اور تعاون کی راہیں کھلیں گی۔تاہم جب حملوں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے تو عوام کے ذہن میں سب سے پہلا سوال یہی ابھرتا ہے کہ اگر تعلقات بہتر ہو رہے تھے تو پھر یہ سب کیوں ہو رہا ہے؟
کیا سفارتی گرمجوشی محض رسمی بیانات تک محدود تھی؟ یا پسِ پردہ وہی پرانے اتحاد اور خفیہ مفادات کارفرما ہیں جو کسی بھی ممکنہ مفاہمت کو ناکام بنا دیتے ہیں؟ایران کے حامیوں کا موقف ہے کہ اگر کسی ملک کو مسلسل خطرات کا سامنا ہو، اس کی سرحدوں کے قریب دشمنانہ سرگرمیاں جاری رہیں اور اس کے خلاف اتحاد بنتے رہیں تو پھر اس کے پاس سخت ردعمل کے سوا کیا راستہ بچتا ہے؟ ان کے مطابق اگر ایران کو اس خطے میں امن و سلامتی سے رہنے کا حق نہیں دیا جاتا تو وہ ایسی صورتحال قبول نہیں کرے گا جس میں صرف وہی نقصان اٹھائے۔ یہ سوچ خطرناک ضرور ہے، لیکن اسے مکمل طور پر نظرانداز بھی نہیں کیا جا سکتا کیونکہ بین الاقوامی سیاست میں اکثر فیصلے طاقت کے توازن کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں، نہ کہ صرف اصولوں کی بنیاد پر۔بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل اپنے مفادات کے لیے اس پورے خطے کو استعمال کر رہے ہیں، لیکن حالیہ حالات ایک مختلف منظر بھی پیش کر رہے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ اس بار ایران یہ پیغام دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ اگر اسے مسلسل دبا میں رکھا گیا تو وہ بھی ان تمام مقامات کو غیر محفوظ بنا دے گا جہاں امریکہ اور اسرائیل کا اثر و رسوخ یا فوجی موجودگی ہے۔ گویا ایران یہ باور کرانے کی کوشش کر رہا ہے کہ اگر کشیدگی بڑھے گی تو اس کی آگ صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔دوسری جانب عرب ریاستوں کی پوزیشن بھی آسان نہیں۔ ان کے اپنے سکیورٹی مفادات ہیں، عالمی طاقتوں کے ساتھ معاہدے ہیں، معاشی وابستگیاں ہیں اور داخلی سیاسی تقاضے بھی۔ وہ براہِ راست کسی بڑی جنگ کا حصہ بننے سے گریزاں نظر آتی ہیں۔ ان کی ترجیح بظاہر اپنے ملکوں کا استحکام، سرمایہ کاری کا تسلسل اور داخلی امن ہے۔ لیکن عوامی سطح پر یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ اگر کسی پڑوسی ملک پر حملہ ہو رہا ہو اور پورے خطے کا امن دا ئو پر لگا ہو تو خاموشی کیا واقعی دانشمندی ہے یا کمزوری؟یہی وہ مقام ہے جہاں اصل فیصلہ عرب ریاستوں کے ہاتھ میں آتا ہے۔ انہیں طے کرنا ہوگا کہ وہ کس نوعیت کی علاقائی سیاست چاہتے ہیں۔ کیا وہ ایسی فضا قبول کریں گے جس میں بیرونی طاقتیں ان کی سرزمین اور فضائی حدود کو اپنے تنازعات کے لیے استعمال کریں؟ یا وہ ایک خودمختار اور باوقار خارجہ پالیسی کی طرف قدم بڑھائیں گے جو خطے کے اجتماعی مفاد کو مقدم رکھے؟
حقیقت یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگیں صرف میزائلوں اور بموں سے نہیں لڑی جاتیں بلکہ بیانیوں، اتحادوں اور خاموشیوں سے بھی لڑی جاتی ہیں۔ جب کوئی ملک حملہ برداشت کرتا ہے تو وہ صرف عسکری نقصان نہیں اٹھاتا بلکہ اس کی خودمختاری، وقار اور علاقائی حیثیت بھی متاثر ہوتی ہے۔ اسی طرح جب کوئی ملک خاموش رہتا ہے تو اس کی خاموشی بھی ایک پیغام دیتی ہے چاہے وہ مجبوری کا ہو یا مصلحت کا۔عرب ریاستوں کے لیے یہ لمحہ غور و فکر کا ہے۔ انہیں دیکھنا ہوگا کہ مسلسل کشیدگی ان کی معیشت، توانائی کی منڈیوں، سرمایہ کاری کے ماحول اور عوامی اطمینان پر کیا اثر ڈالے گی۔ خطہ پہلے ہی کئی دہائیوں سے عدم استحکام کا شکار ہے۔ نئی نسل ایک مختلف مستقبل چاہتی ہے ایسا مستقبل جس میں جنگوں کے بجائے ترقی، روزگار اور استحکام ہو۔یہ بھی حقیقت ہے کہ مکمل غیر جانبداری اکثر ممکن نہیں ہوتی۔ ہر ملک کو اپنے مفادات کا تحفظ کرنا ہوتا ہے۔ لیکن مفادات کا تحفظ اور مکمل خاموشی دو مختلف چیزیں ہیں۔ سفارتی سطح پر فعال کردار ادا کرنا، تنازعات کے حل کے لیے کوشش کرنا اور بیرونی مداخلت کی حدود طے کرنا وہ اقدامات ہیں جو خطے کو ایک نئی سمت دے سکتے ہیں۔آخرکار سوال یہی ہے کہ کیا مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر بڑی طاقتوں کے تصادم کا میدان بنے گا یا یہاں کے ممالک مل کر ایک ایسا نظام تشکیل دیں گے جس میں اختلافات کے باوجود جنگ آخری راستہ ہو۔ ایران کا سخت مقف ہو یا عرب ریاستوں کی محتاط پالیسی، دونوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ سب سے بڑا نقصان عام عوام کا ہوتا ہے وہ عوام جو نہ جنگ چاہتے ہیں اور نہ عدم استحکام۔۔ بظاہر ایران اور دبئی کے درمیان فاصلہ صرف چند درجن کلومیٹر ہے۔ اب ایران اور عرب ریاستوں کو فیصلہ یہ کرنا ہے کہ اس فاصلے کو ایک اعتماد کا پل بنا کر ختم کرنا ہے یا تباہی کے سمندر کی گہرائی میں ڈوب جانا ہے۔