یہ 1979ء کی ایک چمکدار صبح کی کہانی ہے۔میری عمر اس وقت لگ بھگ 5 سال رہی ہوگی۔جیسے کوئی خواب بیدار ہونے کے بعد اپنی ہلکی دھندلی یاد چھوڑ جاتا ہے، ویسے ہی وہ دن ایک خواب کہانی جیسا ہے جس کی مدہم سی تصویر یادوں کے نہاں خانے میں سجی ہے۔یہ میرے سکول میں داخلے کا دن تھا۔ابو( عرفان صدیقی ) کن امنگوں کے ساتھ مجھے سکول لے کر گئے ہوں گے، اب یاد نہیں۔ یاد ہے تو بس اتنا کہ وہ سر سید سکول راولپنڈی کے پرنسپل آفس کے باہر کا ایک منظر تھا۔ پرنسپل کے سامنے حاضرہو کر ایک انٹرویو دینا ضروری تھا۔ ابو مجھے قائل کر رہے تھے مگر میں اندر جانے سے کترا رہا تھا۔ایسے میں ابو کے ساتھ آئے ایک شخص نے میرا ہاتھ تھاما اور مجھے پرنسپل آفس کے اندر لے گیا۔پرنسپل نے کیا پوچھا اور میں نے کوئی جواب دیا یا نہیں، یہ بھی اب یاد نہیں۔ اس کے بعد اس شخص کے ساتھ میں باہر آگیا۔ اس خواب کہانی میں دو ہی چہرے آج تک جگمگا رہے ہیں، ایک ابو کا اور ایک اس شخص کا جو میرا ہاتھ تھامے مجھے اندر لے کر گیا تھا۔وہ دوسرا کوئی اور نہیں بلکہ ابو کے ہمدم دیرینہ ساتھی ساجد حسین ملک تھے۔یہ چہرہ ان اولیں چہروں میں سے ایک ہے کہ جن کو ہوش سنبھالتے ہی میں نے اپنے ماں، باپ اور دیگر قریبی عزیزوں کے ساتھ پہچاننا شروع کیا ۔ ابو ان کو’’ ملک صاحب‘‘ کہہ کر مخاطب کرتے تھے،اور ہمارے لئے یہ تلقین رہی کہ ان کو انکل کہہ کر پکارا جا ئے ۔یہ صرف اس دن کی بات نہیں، ساجد انکل کو میں نے ہر شاداب و ناشاد لمحوں میں ابو کے آس پاس ہی پایا۔ساجد انکل اور ابو کے مابین رشتہِ رفاقت محبت،اعتماد، احترام اور وفا کی ایک انمول اور روشن تصویر تھی۔ابو کی وفات کے بعد میں نے ساجد انکل کو بہت مغموم اور دل گرفتہ پایا۔ ابو کی کمی کا شدید احساس مجھے بھی ہوا اور انکل ساجد کو بھی ہوا ہو گا جب انہوں نے سفرنامہِ حجاز سے مزین اپنی تصنیف’’ دیارِ حجاز میں ‘‘ مجھے پیش کی۔
کتاب پڑھ کر لگا جیسے میں دیار حجاز سے ہو کر آیا ہوں ۔دلکش سرورق ، بامعنی عنوان ، عمدہ طباعت اور پُرنور مضامین کے علاوہ جو بات اس کتاب کو منفرد رُخ عطاکرتی ہے وہ ابو کا تحریر کردہ ایک خوبصورت ادبی پارہ ہے جس میں وہ ساجد انکل کو خلوت و جلوت کے محرم و ہمرازاور بے ریا رفیق سفر قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں ۔ ــ’’یہ ساٹھ کی دہائی کے آغاز کی بات ہے وہ دن اور آج کا دن کوئی ایسا لمحہ نہیںآیا کہ ہماری رفاقت کے تابناک چہرے پرگردشِ شام و سحرکی ہلکی سی گرد بھی پڑی ہو۔ رنجش، تلخی،دل آزاری،دل شکنی،خفگی، کدورت اور ناراضی جیسے الفاظ ہماری لغتِ رفاقت میں کبھی جگہ نہ پا سکے۔ ہر رنگ، ہر روپ، ہر رت اور ہر موسم میںہماری دوستی کا بانکپن جوان رہا۔ نہ کڑی دھوپ میںاس کا رنگ سنو لایا، نہ برستی بارش میںاس کے غازہ و رخسار کی رعنائی پھیکی پڑی‘‘۔
انکل ساجد لکھنے لکھانے کے حوالے سے نہ ہی نووارد ہیں اور نہ ہی اجنبی۔ ان کی ساری زندگی درس و تدریس کرتے گزری جو آج تک اسی جنون سے جاری ہے۔پچھلے کئی برسوں سے وہ مختلف اخبارات میں اپنے خیالات اور تجزیات کو پیش کر رہے ہیں۔ سفر اگر حجاز مقدس کا ہو تو اس کو ا لفاظ کی شکل دینا آسان نہیں کہ ایسے سفر کی کیفیات اور جذبات آپ کے اپنے بس میں نہیں رہتے۔روح تک اترتی سرشاری اور رگ و پے میں سرائیت کر جانے والی مکہ مدینہ کی ہوائوں کابھلاکن الفاظ میں احاطہ کیا جا سکتا ہے؟خانہ خدا کے گرد طواف کے دوران آپ کے اپنے گرد لپٹتی گھومتی رحمتوں اور فضیلتوں کو بھلا کوئی کیسے بیان کرے؟ روضہ رسولﷺ کی سنہری جالیوں کے سامنے دل وجاں میں موجزن کپکپاہٹ کو سپردِقلم کرنا آسان نہیں۔مگر انکل ساجد نے ’’دیارِ حجاز میںـ‘‘ ان روحانی کیفیات کو سادہ اور عام فہم انداز میں لکھ کر قاری کے دل میں اتار دیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں’’میری حالت ایک اقبالی مجرم کی تھی جسے اپنے جرائم کو ماننے میں کوئی عار نہ ہو۔میرا پورا جسم لرز رہاتھااور زبان درودِابراہیمی کے الفاظ دہرا رہی تھی اور جوں جوں آگے بڑھ رہے تھے اس کی کپکپاہٹ میں اضافہ ہو رہا تھا۔میں ڈرا ، سہما اور کانپتا ایک ہی سوچ اور فکر میںغلطاں تھا کی میری نافرمانیاں، کوتاہیاں اور لغزشیں اتنی زیادہ ہیں کہ میں سراپا رحمت نبی ﷺکا سامنا کیسے کر سکتا ہوں‘‘
ساجد انکل سرسید سکول میں دسویں جماعت تک میرے بھی استاد رہے۔ ان کی بھرپورکوشش یہ رہتی کہ اپنے اندر موجود علم، حکمت اور بصیرت طلباء کو پوری طرح منتقل کر دی جائے۔ گزرے برسوں کی تمام جزیات زمان و مکاں کی تفصیل کے ساتھ ان کے حافظے سے یوں چپک جاتی ہیں کہ پھر ان کو بھولتی نہیں۔ ان کی یہ خصوصیات ان کی کتاب میں بھی بھرپور نمایاں ہیں۔ سوئے حجاز جانے کے خواب اور امیدیں سجانے والوں کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے ۔ اس میں ائیر پورٹ سے لے کر حجازِ مقدس کے پاکیزہ مقامات کا محل ِ وقوع جس صراحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، اس سے قاری کے سامنے ایک ایسا نقشہ ابھرتا ہے کہ جیسے وہ خود سفر میں ہواور اسے کوئی خضرِراہ انگلی تھام کر بتا رہا ہو کہ کس مقام پر کیسے پہنچنا ہے، کہاں سے بس پکڑنی ہے اور مناسک کس ترتیب و اہتمام سے ادا کرنے ہیں اور اس سارے سفر میں کن الجھنوں او ر مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے ۔ یوں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ارضِ مقدس کی معلومات سے آراستہ یہ کتاب محض رودادِ سفر ہی نہیں بلکہ رہنمائے سفر بھی ہے جو آپ کو کسی مقام پر بھٹکنے نہیں دیتی۔ اسی طرح یہ کتاب اُجلے مقامات، زیاراتِ مقدسہ ، مسجد الحرام و مسجدِنبوی جیسے روحانی مراکز کی ارتقائی تاریخ کی کہانی بتاتی بھی دکھائی دیتی ہے ۔
ایمان و یقین کو زندہ کر دینے والے اس روح پرور اور سحر انگیزسفرنامے کے بارے میں زیادہ کچھ لکھنا میرے لئے اس لئے بھی دقت کا باعث ہے کہ اس حوالے سے میرے والدمحترم جو تحریر کر گئے ہیںاس کے بعد مزید کچھ لکھنا سورج کو چراغ دکھانا ہی ہے۔ میں اسی لئے اس کتاب ہی میں درج والد صاحب کی تحریر کو پیش کرتا ہوں۔
’’ بیانیہ یا داستانوی اسلوب کا یہ رنگ ’’دیارِحجاز میں‘ ‘کے ان کالموں میں پورے جوبن پر دکھائی دیتا ہے۔دل کی بے قابو دھڑکنوں، لہو کی بوند بوند میں سلگ اٹھنے والی چنگاریوں، جذبات میں بپا ہونے والے ارتعاش اور فکر میں موج در موج اٹھتے خیالات کے طلاطم کو سمیٹتے ہوئے تحریر کو اپنے سادہ و پرکار اسلوب کی زنجیر سے باندھے رکھنا بڑے کما ل کی بات ہے۔ملک صاحب نے حرمین شریفین اور متعلقات کا تزکرہ ایک ایسے داستان گو کے انداز میں کیا ہے جو مبالغے سے گریز کرتے ہوئے صرف واقعات و واردات کے عوامی اظہاریے تک محدود رہتا ہے۔ان کالموں کو اخبار میں پڑھتے ہوئے میرے ذہن میںایک ایسی کتاب کا تصور بار بار ابھرا جو ہے تو سفرنامہ ہی لیکن اس موضوع کے روایتی سفرناموں سے بہت مختلف، بہت منفرد اور بہت ممتاز۔ اس کتاب کی اشاعت پر ملک صاحب کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے بے پناہ خوشی محسوس کر رہا ہوں۔اللہ تعالی ان کے قلم کو ایسا ہی سرسبز و شاداب رکھے اور وہ اسی طرح اپنے سادہ مفہوم اور دلکش و دلنشیںانداز میں اپنے قارئین کے ذوق کو سیراب کرتے رہیںــ‘‘