افغانستان سے امریکی اور اتحادی افواج کے انخلا کو اب کئی برس بیت چکے ہیں، لیکن اس خطے سے وابستہ خدشات کم ہونے کے بجائے مزید سنگین صورت اختیار کر گئے ہیں۔ عالمی برادری کے لیے سب سے بڑی تشویش یہ ہے کہ افغانستان ایک بار پھر عسکریت پسند تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہ نہ بن جائے۔ حالیہ بین الاقوامی رپورٹس اور زمینی حقائق اس جانب اشارہ کر رہے ہیں کہ طالبان کے زیرِ انتظام افغانستان میں تحریک طالبان پاکستان (TTP)، داعش (IS-K) اور القاعدہ جیسی تنظیمیں اپنی جڑیں دوبارہ مضبوط کر رہی ہیں۔طالبان حکومت اپنے ان وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہے جو انہوں نے دوحہ معاہدے میں کیے تھے، جس کے تحت افغان سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہ دینے کی ضمانت دی گئی تھی۔
تین عوامل کے باہمی اشتراک نے افغانستان کو ایک ایسی دلدل بنا دیا ہے جس کے اثرات عالمی سلامتی کے لیے خطرناک حد تک بڑھ چکے ہیں۔ پہلا، افغانستان میں القاعدہ، داعش (IS-K) اور تحریک طالبان پاکستان (TTP) جیسی متعدد انتہا پسند تنظیموں کی موجودگی نے اس خطے کو دہشت گردی کا مرکز بنا دیا ہے، جہاں ان گروہوں کو نہ صرف محفوظ پناہ گاہیں میسر ہیں بلکہ وہ جدید عسکری ساز و سامان تک بھی رسائی حاصل کر چکے ہیں۔ دوسرا، طالبان کے داخلی ڈھانچے میں موجود دراڑیں اور قندھار و کابل کے دھڑوں کے درمیان نظریاتی و سیاسی اختلافات نے ایک کمزور حکومتی گرفت کو جنم دیا ہے، جس کی وجہ سے ریاست کے پاس ان عسکریت پسندوں کو لگام ڈالنے کے لیے نہ تو مستحکم ادارہ جاتی صلاحیت موجود ہے اور نہ ہی کوئی واضح پالیسی۔ تیسرا، ملک میں جاری سنگین انسانی اور معاشی بحران نے اس صورتحال کو مزید ابتر کر دیا ہے، کیونکہ غربت اور بیروزگاری کی وجہ سے مقامی نوجوانوں کے لیے دہشت گرد تنظیموں میں شمولیت ایک مالی ضرورت بنتی جا رہی ہے۔ یہ تینوں عوامل مل کر ایک ایسا خطرناک ماحول پیدا کر رہے ہیں جہاں کمزور گورننس اور معاشی بدحالی براہِ راست عالمی اور علاقائی سلامتی کے لیے “سیاہ سائے” ثابت ہو رہے ہیں۔
افغانستان میں سرگرم انتہا پسند گروہوں کی تنظیمی ساخت اور ان کے کام کرنے کا طریقہ کار اب ایک انتہائی پیچیدہ اور مہلک رخ اختیار کرچکا ہے۔ یہ گروہ اب کسی ایک مرکزی کمان کے بجائے نیم خودمختار دھڑوں اور منقسم نیٹ ورکس کی صورت میں کام کر رہے ہیں، جنہیں مقامی اصطلاح میں “دلگئی” کہا جاتا ہے۔ یہ “دلگئی” نظام دراصل چھوٹے عسکری یونٹس پر مشتمل ہوتا ہے جو جغرافیائی یا قبائلی بنیادوں پر منظم ہوتے ہیں اور انہیں اپنے مخصوص علاقوں میں فیصلے کرنے کی مکمل آزادی حاصل ہوتی ہے۔ان چھوٹے گروہوں کی سب سے خطرناک خصوصیت ان کے غیر ملکی انتہا پسند تنظیموں کے ساتھ آزادانہ آپریشنل روابط ہیں۔جب کوئی دہشت گرد گروہ، جیسے ٹی ٹی پی یا القاعدہ، افغان سرزمین استعمال کرتے ہوئے سرحد پار کارروائی کرتا ہے، تو افغان حکام اسے مرکزی پالیسی کے بجائے “غیر منظم عناصر” یا مقامی سطح کے آزاد گروہوں” کی انفرادی کارروائی قرار دے کر جان چھڑا لیتے ہیں۔ یہ حکمتِ عملی بین الاقوامی برادری کو الجھانے کے لیے استعمال کی جاتی ہے تاکہ ایک طرف تو انتہا پسندوں کو پناہ گاہیں بھی میسر رہیں اور دوسری طرف حکومت پر عائد ہونے والی سفارتی ذمہ داریوں سے بھی بچا جا سکے۔
افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور ان کے پھیلاؤ نے خطے کے ساتھ ساتھ عالمی امن کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ پیدا کر دیا ہے۔ ایک حالیہ تخمینے کے مطابق، اس وقت تقریباً 20 علاقائی اور بین الاقوامی دہشت گرد تنظیمیں افغان سرزمین پر فعال ہیں۔اقوامِ متحدہ کی حالیہ رپورٹس اور جائزوں نے ایک انتہائی تشویشناک صورتحال کی نشاندہی کی ہے، جس کے مطابق مختلف انتہا پسند تنظیموں سے وابستہ جنگجوؤں کو باقاعدہ طور پر طالبان کے سکیورٹی ڈھانچے اور ریاستی اداروں میں شامل کر لیا گیا ہے۔ یہ عمل محض افرادی قوت میں اضافہ نہیں، بلکہ ریاست کے حساس ترین اداروں میں “نظریاتی سرائیت” کا ایک خطرناک مرحلہ ہے، جس کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔جب القاعدہ، ٹی ٹی پی یا دیگر گروہوں کے تربیتیافتہ عناصر کو پولیس، انٹیلی جنس یا سرحدی فورسز کا حصہ بنایا جاتا ہے، تو ریاست اور دہشت گردی کے درمیان موجود حدِ فاصل مکمل طور پر ختم ہو جاتی ہے۔ اس دراندازی کا سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ اب ان تنظیموں کو سرکاری وسائل، جدید امریکی اسلحہ، انٹیلی جنس معلومات اور قانونی لبادہ میسر آ چکا ہے۔
طالبان کی واپسی کے بعد افغانستان جس معاشی تباہی کا شکار ہے، اس نے نہ صرف مقامی آبادی کو مفلوج کر دیا ہے بلکہ پورے خطے کے لیے ایک انسانی اور سیکیورٹی بحران پیدا کر دیا ہے۔ ملک کا معاشی ڈھانچہ مکمل طور پر زمین بوس ہو چکا ہے، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر غیر قانونی ہجرت کا ایک ایسا سیلاب شروع ہوا ہے جو پڑوسی ممالک سے ہوتا ہوا اب یورپ اور دیگر براعظموں تک پہنچ رہا ہے۔ یہ صورتحال محض ایک انسانی مسئلہ نہیں رہی بلکہ اب یہ بین الاقوامی جرائم، انسانی اسمگلنگ اور سرحدی سلامتی کے حوالے سے عالمی سطح پر تشویش کا باعث بن چکی ہے۔افغانستان کی غیر قانونی معیشت اس وقت دہشت گرد تنظیموں کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت اختیار کر چکی ہے، جو انہیں دنیا بھر میں اپنی تخریبی کارروائیاں جاری رکھنے کے لیے وسیع مالی وسائل فراہم کر رہی ہے۔ طالبان کے دورِ حکومت میں منشیات کی تجارت، غیر قانونی کان کنی، اغوا برائے تاوان اور اسمگلنگ کے نیٹ ورکس نے ایک ایسی متوازی معیشت کو جنم دیا ہے جو سالانہ اربوں ڈالرز پیدا کر رہی ہے۔ یہ کثیر رقم نہ صرف مقامی عسکریت پسندوں کی جیبیں بھرتی ہے بلکہ بین الاقوامی دہشت گرد نیٹ ورکس کو جدید اسلحہ خریدنے اور نئے جنگجو بھرتی کرنے کی طاقت بھی فراہم کرتی ہے۔دوسری جانب، خواتین کی تعلیم، روزگار اور عوامی زندگی میں شرکت پر عائد سخت پابندیوں نے ملک کے معاشی زوال کو مزید تیز کر دیا ہے۔ جب معاشرے کی نصف آبادی کو پیداواری عمل سے باہر کر دیا جاتا ہے، تو نہ صرف انسانی وسائل ضائع ہوتے ہیں بلکہ خاندانوں کی قوتِ خرید ختم ہونے سے غربت کی شرح میں ہولناک اضافہ ہوتا ہے۔ یہ معاشی خلا اور بڑھتی ہوئی بیروزگاری بالآخر انتہا پسند گروہوں کے لیے زرخیز زمین فراہم کرتی ہے، کیونکہ معاشی طور پر تباہ حال نوجوانوں کو مالی فوائد کا لالچ دے کر عسکریت پسندی کی جانب راغب کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ یوں، خواتین کے حقوق کی پامالی اور غیر قانونی معیشت کا گٹھ جوڑ افغانستان کو ایک ایسے دائمی بحران کی طرف دھکیل رہا ہے جس کے اثرات عالمی سلامتی کے لیے خطرے کی گھنٹی ہیں۔
افغانستان کے بحران سے نمٹنے کے لیے اب محض بیانات کافی نہیں، بلکہ ایک منظم اور سخت گیر حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ ماہرین اور عالمی ادارے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف نگرانی کے طریقہ کارکو مزید مضبوط بنایا جائے، جس میں انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ اور مخصوص مالیاتی پابندیاں کلیدی اہمیت رکھتی ہیں۔ ان اقدامات کا بنیادی مقصد منشیات کی اسمگلنگ، غیر قانونی کان کنی اور دیگر مجرمانہ سرگرمیوں سے جڑے ان مالیاتی نیٹ ورکس کو توڑنا ہے جو دہشت گرد تنظیموں کو آکسیجن فراہم کر رہے ہیں۔ جب تک ان تنظیموں کی “مالیاتی شہ رگ” نہیں کاٹی جائے گی، خطے میں امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔پاکستان نےبھی واضح کر دیا ہے کہ اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا، اور اب وقت آ گیا ہے کہ کابل اپنی سرزمین پر موجود دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے ورنہ پاکستان اپنے دفاع میں ہر حد تک جانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔