ڈونلڈ ٹرمپ اور بنیامین نیتن یاہو یہ دو نام آج کی عالمی سیاست کے سب سے متنازعہ اور خطرناک کردار ہیں۔ ایک طرف ٹرمپ ہیں جن کی خارجہ پالیسی کا محور ہمیشہ سے امریکہ اول رہا ہے مگر عملاً جن کے فیصلوں نے پوری دنیا کو عدم استحکام کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ دوسری طرف نیتن یاہو ہے جس کے ہاتھ غزہ کے ہزاروں معصوم بچوں اور عورتوں کے خون سے رنگے ہیں اور اس کیخلاف بین الاقوامی عدالت جزا نے جنگی جرائم کا وارنٹ جاری کیا جس کی ہٹ دھرمی نے اسرائیل کو دنیا بھر میں تنہا اور بدنام کر دیا۔ مگر ٹرمپ نے نہ صرف غزہ کے مظالم پر آنکھیں موندھ لیں بلکہ نیتن یاہو کی پشت پر کھڑے ہو کر ایران کے خلاف جارحانہ اقدامات کا راستہ بھی ہموار کیا۔ یہ دونوں ایک دوسرے کے حلیف نہیں یہ ایک دوسرے کے شریکِ جرم ہیں۔ جنگیں اچانک نہیں چھڑتیں یہ سالوں کی غلط پالیسیوں، ہٹ دھرمی اور اقتدار کی ہوس کا منطقی انجام ہوتی ہیں۔ آج جب ہم مشرقِ وسطیٰ کی دھکتی ہوئی آگ کو دیکھتے ہیں تو ذہن میں ایک ہی سوال کلبلاتا ہے کہ کیا بنی نوعِ انسان نے تاریخ سے کچھ سیکھا؟ کیا پہلی اور دوسری عالمی جنگوں کی تباہ کاریاں کافی نہ تھیں؟ مگر افسوس طاقت کے نشے میں دھت چند افراد پھر ایک بار پوری دنیا کو آتشِ جنگ میں جھونکنے پر تلے نظر آتے ہیں۔غزہ کا زخم ابھی تازہ تھا لاکھوں فلسطینی بے گھر تھے، ہزاروں شہید ہو چکے تھے مگر ان دونوں راہنمائوں نے دنیا کی چیخ و پکار کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اپنا اگلا ہدف ایران کو بنا لیا۔ یہ حملہ محض ایک فوجی کارروائی ہی نہیں یہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں بارود بھرنے کا اعلان تھا۔ایران کوئی عام ملک نہیں۔ اس کی جغرافیائی حیثیت اسے دنیا کے اہم ترین ممالک میں شمار کراتی ہے۔ شمال میں بحیر کیسپین، جنوب میں خلیجِ فارس اور آبنائے ہرمز، مشرق میں افغانستان و پاکستان، مغرب میں عراق و ترکیہ یہ محلِ وقوع ایران کو ایک فطری قلعے کی حیثیت دیتا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ اس سرزمین کو کبھی کوئی مکمل طور پر مسخر نہیں کر سکا نہ سکندرِ اعظم، نہ چنگیز خان نہ آج کی نام نہاد سپر پاورز۔ ایران نے اپنے دفاعی نظام کو دہائیوں کی منصوبہ بندی پر استوار کیا ہے جدید میزائل ٹیکنالوجی، خودکفیل دفاعی صنعت اور سب سے بڑھ کر وہ قومی عزم جو ہر بیرونی جارحیت کے سامنے فولاد بن جاتا ہے۔جب حملہ ہوا تو ایران خاموش نہیں بیٹھا۔ اس نے جوابی کارروائیاں کیں اور ایسی کیں کہ امریکہ اور اسرائیل کو پہلی بار احساس ہوا کہ معاملہ جتنا سوچا تھا اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور مہنگا ہے۔ ایرانی جوابی حملوں کی زد میں صرف اسرائیل نہیں آیا ایران کے میزائلوں اور ڈرونز کی رینج نے یہ ثابت کر دیا کہ برطانیہ جیسے دور دراز یورپی ممالک بھی ایران کی دسترس سے باہر نہیں۔ پیغام واضح تھا جنگ کو وسعت دوگے تو لپیٹ صرف مشرقِ وسطیٰ تک نہیں رہے گی۔اس پوری تصویر کا ایک نہایت اہم اور اکثر نظرانداز کیا جانے والا پہلو یمن کی حوثی تحریک ہے۔ حوثیوں نے بحیر احمر میں اسرائیل سے منسلک بحری جہازوں پر حملے شروع کئے ۔ غزہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کا یہ انداز عالمی تجارت کو ہلا کر رکھ گیا۔ یورپ اور ایشیاء کے درمیان بحری راستے غیر محفوظ ہو گئے، بحری انشورنس کے اخراجات آسمان کو چھونے لگے۔ امریکہ اور برطانیہ نے یمن پر فضائی حملے کیے مگر حوثی نہ جھکے نہ رکے بلکہ مزید جری ہو گئے۔یہ دراصل ایران کے اس وسیع تر دفاعی نظام کا حصہ ہے جسے محورِ مزاحمت کہا جاتا ہے۔ حزب اللہ لبنان میں، حماس غزہ میں، حوثی یمن میں اور مختلف عراقی ملیشیائیں یہ سب ایک منظم حکمتِ عملی کے تحت حرکت کرتے ہیں۔ ایران پر براہِ راست حملے کی صورت میں یہ پورا نظام بیک وقت متحرک ہو جاتا ہے اور محاذ ایک سے بڑھ کر کئی بن جاتے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل نے سوچا تھا کہ ایران کو الگ تھلگ کر کے زیر کیا جا سکتا ہے مگر یہ حسابِ کتاب بالکل غلط نکلا۔اس بحران کا ایک اور انتہائی دلچسپ پہلو خلیجی ممالک کی کشمکش ہے۔ برسوں تک سعودی عرب ایران کا کٹر حریف رہا پراکسی جنگیں، مذہبی تنا اور علاقائی مسابقت۔ مگر چند سال قبل چین کی ثالثی میں دونوں ممالک نے ہاتھ ملائے اور تعلقات کا نیا باب شروع کیا۔ اب اس ہمہ گیر تنازعے میں سعودی عرب ایک بے حد نازک صورتحال میں ہے ایک طرف امریکہ کے ساتھ دیرینہ فوجی اور معاشی تعلقات تو دوسری طرف ایران کے ساتھ تازہ دوستی اور سب سے بڑھ کر یہ خوف کہ جنگ پھیلی تو خود ان کی زمین بھی محفوظ نہیں رہے گی۔
قطر جہاں امریکی فوجی اڈہ ہے، بحرین جہاں امریکی بحری قیادت تعینات ہے، متحدہ عرب امارات جو امریکہ کا قریبی اتحادی ہے یہ سب ایران کی فوجی رینج میں ہیں۔ خلیجی حکمران جو کبھی امریکی چھتری تلے بے فکر رہتے تھے آج خود کو ایک ایسی جنگ کے درمیان کھڑا پا رہے ہیں جو نہ انہوں نے چاہی تھی نہ وہ اس سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔جنگ صرف میدانِ جنگ میں نہیں لڑی جاتی اس کا سب سے خوفناک محاذ معیشت کا ہوتا ہے۔ آبنائے ہرمز سے عالمی تیل اور گیس کی برآمدات کا پانچواں حصہ گزرتا ہے۔ جب ایران نے یہ گزرگاہ بند کی تو تیل کی قیمتیں ہوا میں اڑنے لگیں۔ یورپ جو ابھی یوکرین جنگ کے بعد توانائی بحران سے نکلنے کی کوشش کر رہا تھا ایک بار پھر گہرے معاشی اندھیرے کے دہانے پر آ کھڑا ہوا۔ جاپان، جنوبی کوریا اور بھارت جو اپنی توانائی کا بڑا حصہ خلیج سے حاصل کرتے ہیں گہرے بحران میں ڈوب گئے۔ سٹاک مارکیٹوں میں زلزلہ، ڈالر کا اتار چڑھا، خوراک اور ادویات کی قیمتوں میں اضافہ یہ سب اس جنگ کی وہ پوشیدہ قیمت ہے جو کوئی اخبار سرخی نہیں بناتا مگر جو لاکھوں غریب گھروں میں خاموشی سے تباہی مچاتی ہے۔ وہ مزدور جو کراچی، لاہور یا ڈھاکہ میں آٹے کے تھیلے کی بڑھتی قیمت کا حساب لگا رہا ہے وہ بھی اس جنگ سے متاثرہ ہے اگرچہ اسے اس کا ادراک بھی نہ ہو۔پاکستان کے لئے یہ صورتحال محض دور کی آگ نہیں یہ ہمارے اپنے دروازے تک پہنچ چکی ہے۔ ایران کے ساتھ ہماری نو سو کلومیٹر سے زائد مشترکہ سرحد ہے۔ ہمارے تیس لاکھ سے زائد شہری خلیجی ممالک میں کام کرتے ہیں جن کی ترسیلاتِ زر ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ ایران گیس پائپ لائن منصوبہ پہلے سے امریکی دبائو کی نذر ہو چکا ہے اور اب جنگ کے باعث توانائی بحران مزید گہرا ہو گیا ہے۔ اگر یہ جنگ مزید پھیلی تو پاکستان پر دبائو ہوگا کہ وہ کسی ایک طرف کھڑا ہو مگر یہ انتخاب نہ آسان ہے نہ سادہ۔ امریکہ سے آئی ایم ایف اور قرضوں کا معاملہ ہے ایران سے پڑوسی اور برادرانہ رشتہ ہے، چین سی پیک کا شریکِ سفر ہے۔ ان پیچیدہ حالات میں پاکستان کی دانشمندانہ پالیسی صرف ایک ہو سکتی ہے پرامن سفارت کاری، غیر جانبداری اور قومی مفاد کو ہر بیرونی دبائو پر مقدم رکھنا۔چین اور روس کی ایران کو کھلی حمایت نے اس تنازعے کو ایک عالمگیر جہت دے دی ہے۔ یہ محض مشرقِ وسطیٰ کی جنگ نہیں یہ عالمی نظامِ اقتدار کی از سرِ نو ترتیب کا فیصلہ کن معرکہ ہے۔ ایک طرف وہ امریکہ ہے جو اپنی ڈھلتی ہوئی بالادستی کو قائم رکھنے کے لیے تلوار اٹھائے کھڑا ہے، دوسری طرف وہ ابھرتی طاقتیں ہیں جو اس یک قطبی دنیا کو کھلم کھلا مسترد کر رہی ہیں۔ اس لڑائی میں کوئی فاتح نہیں ہوگا۔ تباہی سب کی ہوگی،مگر قیمت ہمیشہ کی طرح کمزور اور غریب قومیں ادا کریں گی۔ٹرمپ اور نیتن یاہو نے جو آگ لگائی ہے اس کی لپیٹ اب خود ان تک پہنچ رہی ہے۔ لینے کے دینے پڑ گئے یہ محاورہ آج حرف بہ حرف سچ ثابت ہو رہا ہے۔ تاریخ نے ہمیشہ ان لوگوں کو رد کیا ہے جنہوں نے اپنی انا کی تسکین کے لیے کروڑوں انسانوں کا چین و سکون چھینا۔ عدالتِ تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ آتا ہے اور آج بھی آئے گا چاہے دیر ہی کیوں نہ ہو۔ امن ایک انتخاب ہے اور یہ انتخاب ابھی بھی ممکن ہے اگر عقل، ضمیر اور انسانیت کو طاقت اور تکبر پر غالب آنے دیا جائے۔