Search
Close this search box.
جمعرات ,11 جون ,2026ء

ایک سچا عاشق رسول

رائے منظور ناصر 21 ویں گریڈ کے سینئر بیورو کریٹ ہیں۔دو بار ڈی جی(ڈائریکٹر جنرل)اینٹی کرپشن پنجاب رہے۔پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کے ایم ڈی بنائے گئے تو مدت ملازمت کے دوران 100 ایسی نصابی کتب جن میں غیر اسلامی اور پاکستان مخالف مواد تھا پر پابندی لگا دی۔ گورنمنٹ خاتم النبیینﷺ یونیورسٹی پنجاب کے وائس چانسلر ہونے کا اعزاز بھی حاصل رہا، سچے عاشق رسولؐ ہیں۔سیرت النبیؐ پر ضخیم کتاب لکھ چکے ہیں۔سیرت النبیؐ پر لکھے گئے مضامین میں جہاں تحریر کا خاص اسلوب نظر آتا ہے وہاں اندازِ بیاں کی چاشنی بھی خوب ملتی ہے۔رائے صاحب کی ہمہ جہت شخصیت انہیں جو ممتاز مقام عطا کرتی ہے،قابلِ قدر اور قابل تحسین ہے۔رائے منظور ناصر نے سیرت النبیؐ کے حوالے سے ماضی میں ایسے مقابلے کا بھی اہتمام کیا جو ملکی تاریخ کا سب سے بڑا،انوکھا اور منفرد کوئز مقابلہ تھا جس کے لیئے کروڑوں روپے کا انعام بھی رکھا۔
سیرت پر کتاب لکھی تو اس کی مارکیٹنگ کا معاملہ درپیش تھا،مالی وسائل کہاں سے آئیں گے،کتاب عام لوگوں تک کیسے پہنچے گی۔اس وقت اس طرح کے کئی سوال ذہنوں میں گھوم رہے تھے۔جنون ہو تو مشن میں ناکامی نہیں ہوتی،اہداف کا حصول ممکن اور یقینی بن جاتا ہے۔ان کے ہاں نصر من اللہ و فتح قریب کا تصور لوہے پر لکیر کی مانند ہے۔روحانیت پر ویسے ہی یقین رکھتے ہیں۔پر اعتماد شخصیت اور اللہ پر یقین رکھنے والے ہیں۔اس لئے اپنی سرکاری ملازمت کے دوران بھی کبھی کوئی لغزش یا کوتاہی نہیں کی۔ہمیشہ فرائض کو ایمانداری اور دیانت داری سے انجام دیا۔بیوروکریسی میں سب کے لئے اعلیٰ مثال ہیں۔ویسے تو سیرت النبیؐ پر ہزاروں کتابیں لکھی گئی ہیں لیکن رائے منظور ناصر نے سیرتؐ کا ادراک رکھتے ہوئے سیرت النبیؐ پر جو کتاب تحریر کی وہ آقاء دو عالمؐسے ان کے عشق کی لازوال کہانی بیان کرتی ہے۔اللہ کی عنایت ہے کہ کسی کو وہ ایسی توفیق دے کہ ایسا کام کرے جو اسے امر کر دے۔ ان میں علم و تحقیق کی جو فراست ہے وہ ان کی تحریروں میں جا بجا نظر آتی ہے۔وہ نبیﷺکی سیرت پر کتاب لکھ کر ایسی سعادت سے سرفراز ہوئے ہیں جو بہت کم لوگوں کے حصے میں آتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سیرت النبیؐ کا کچھ حصہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں لکھا گیا۔دعا ہے ان کی کوشش کو اللہ منظور و قبول فرمائے۔سیرت پاکؐ کا مکمل احاطہ اگرچہ کسی کے لئے بھی ممکن نہیں کیونکہ یہ وہ ہستی ہیں دنیا جب نہیں تھی تب بھی ان کا نام عرش پر موجود تھا۔سچ یہی ہے ان ہی کی وجہ سے دنیا تخلیق کی گئی۔ہر دور میں ان کی ذات اقدس کے بہت سے نمایاں پہلو پہلے سے زیادہ اہمیت کے ساتھ سامنے آئے۔رائے منظور ناصر نے بھی سعادت کے اس سفر میں اپنی کتاب کے ذریعہ سے حصہ ڈالا ہے جو بہت قابلِ ستائش ہے۔ انہوں نے سیرت النبیؐ میں حضور ﷺ کی زندگی کے اہم واقعات کو مختصر لیکن بہت جامع انداز میں تاریخ کے حوالوں کے ساتھ انتہائی عام فہم الفاظ میں نہایت سلیس زبان میں بیان کیا ہے تاکہ عام لوگوں کو بھی اس کی سمجھ آ سکے۔
سیرت النبیؐ پر لکھی جانے والی اپنی جس کتاب پر کوئز مقابلے کا اہتمام کیا اس میں حصہ لینے کے لئے صرف مسلمان ہونا شرط تھی۔مقابلے میں دنیا بھر کے مسلمانوں کو شرکت کی دعوت دی گئی۔دس ہزار افراد نے مقابلے میں حصہ لیا۔جن میں مردوں کے علاوہ خواتین بھی شامل تھیں۔تاہم مقابلے میں 200 افراد کامیاب قرار پائے جن کو ایک کروڑ سے زیادہ کے نقد انعامات دیئے گئے۔انعامات کی یہ خطیر رقم اور سارے انتظامی اخراجات رائے صاحب نے اپنی جیب سے ادا کئے۔وہ اس پراجیکٹ کے لئے اپنی جائیداد فروخت کرتے ہیں مگر کوئی چندہ وغیرہ نہیں لیتے۔مقابلے کا مقصد لوگوں کو سیرت النبیؐ پڑھنے کی طرف راغب کرنا تھا۔یہ واقعی بڑا اچھوتا اور انوکھا خیال تھا۔جس سے مصنف کی سوچ کی بے پناہ وسعت کا پتہ چلتا ہے۔ اسلام میں قرآن مجید اور سنتِ رسولؐ کو اساسی حیثیت حاصل ہے۔بدقسمتی سے قرآن مجید کو ہم نے غلافوں میں لپیٹ کر طاق میں رکھ دیا ہے۔ہم دنیاوی طور پر سیرت نبویؐ سے کافی دور ہیں۔رائے منظور ناصر نے کتاب سیرت النبیؐ میں نبی مکرم ﷺ کے کردار کی جس طرح عکاسی کی ہے اس سے ادراک کے جو پہلو روشن ہوتے ہیں،اس روشنی کو محسوس کر لیں تو ہمارے کردار و اطوار میں بڑی تبدیلی آ سکتی ہے اور قیامت کے روز ہمارے لئے نجات کے سب راستے کھل سکتے ہیں۔رائے صاحب اپنی سیرت النبی ؐکی کتاب پر ہر ہفتے مقابلہ کراتے ہیں اور جیتے والوں کو نقد انعامات دیئے جاتے ہیں۔ان مقابلوں میں ہر عمر کا ہر مسلمان شریک ہو سکتا ہے۔سیرت النبیؐ کی یہ کتاب PDF اور آڈیو آپ پوری کتاب سن بھی سکتے ہیں،فری ہے۔آپ ان مقابلوں میں حصہ لیں یا جو مقابلے ہو چکے ہیں وہ سوشل میڈیا پر موجود ہیں انہیں ملاحظہ کر لیں اور یہ پیغام سب مسلمانوں تک پہنچائیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں حضور اکرم ﷺ کا سچا اُمتی بننے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین ثمہ آمین۔

یہ بھی پڑھیں