خیبر پختونخوا میں پولیس اور قانون نافذکرنے والےاداروں نےدہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔انتہا پسند تنظیموں کی جو نئی فہرست بی بی سی نے جاری کی ہے اس میں 9کالعدم تنظیموں اور 452 افراد کا ذکر ہے۔خفیہ اداروں کی جانب سے پشاور سمیت صوبہ کے دیگر شہروں کے پولیس اسٹیشنز کو جاری کی گئی اس فہرست میں دہشت گردوں کو چار کیٹیگریز میں تقسیم کیاگیا ہےجو اے،بی،سی اور ڈی ہیں۔فہرست میں اے کیٹیگری کےحامل دہشت گردوں میں انتہائی اہم مطلوب کمانڈروں کو رکھاگیا ہےجن کی تعداد 75 ہے۔کیٹیگری بی میں 45 دہشت گردوں کےنام شامل ہیں۔یہ وہ دہشت گرد ہیں ماضی میں جن کا تعلق کسی بھی کالعدم تنظیم سے رہا ہے۔سی کیٹیگری میں جو 83 نام شامل کئے گئے ہیں وہ مختلف جرائم میں ملوث جرائم پیشہ افراد کے ہیں۔اگرچہ کسی بھی کالعدم تنظیم سےان کا تعلق نہیں رہالیکن مشکوک قرار دےکر ان 83 افراد کو سی کیٹیگری میں شامل کیا گیا ہے- ڈی کیٹیگری میں 249 ایسےافراد کے نام شامل ہیں ، بعض سرگرمیوں کے پیش نظرجن پرگہری نظر رکھی جا رہی ہے۔سرکاری ذرائع تصدیق کر رہے ہیں کہ یہ فہرست خیبرپختونخوا کے تمام تھانوں کو مل چکی ہےاور اس فہرست کو ارسال کرنے کا مقصد مطلوب اور مشتبہ افراد کے خلاف کارروائیوں کو تیز کرنا ہے۔ذرائع کے مطابق تمام مطلوب افراد کو انسداد دہشت گردی ایکٹ کے فورتھ شیڈول کے تحت لسٹ میں شامل کیا گیا ہے تاکہ ان کے گرد گھیرا تنگ کیاجا سکے۔حکومت کا خیال ہے ان مشتبہ یا مطلوب افراد پر قابو پا کر ہی دہشت گردی کے واقعات پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
فہرست کے مطابق پشاور سمیت صوبے کے دیگر اضلاع میں اس وقت 9 کالعدم تنظیمیں سرگرم عمل ہیں جن میں سپاہ صحابہ پاکستان،ملت اسلامیہ پاکستان،لشکر جھنگوی،لشکر جعفریہ پاکستان،اسلامی تحریک پاکستان،سپاہ محمدپاکستان، تحریک نفاذِ شریعت محمدی، تحریک طالبان پاکستان اور جیش محمد شامل ہیں۔دہشت گرد تنظیمیں ایسے مسلح گروہوں کے زمرے میں آتی ہیں،جو سیاسی،مذہبی یا نظریاتی مقاصد کے لئے تشدد،خوف و ہراس اور قتل و غارت کا راستہ اپناتی ہیں۔جاری کی گئی فہرست قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد تیز کرنے کے لئےجاری کی گئی ہے جس کے تحت ان کے خلاف خفیہ معلومات کی بنیاد پر کارروائی عمل میں لانے کا پروگرام ہے۔ادارے انٹیلی جنس بیسڈ پر کام کر رہے ہیں اور صوبہ کے مختلف اضلاع میں ایکشن لیاجارہا ہے۔جبکہ افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف فوجی کارروائی کا بھی آغاز ہو چکا ہے۔اس آپریشن میں پاکستان کی بری اور فضائی افواج حصہ لے رہی ہیں جس سے علاقے میں تنائو اور کشیدگی کا ماحول ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے مابین بڑھنے والی اس کشیدگی کی اصل وجہ وہ دہشت گرد گروہ ہیں جو افغانستان میں پناہ لئے ہوئے ہیں وہاں ان کے ٹھکانے ہی نہیں،تربیت گاہیں بھی ہیں۔جہاں دہشت گردی کی تربیت کے ساتھ ساتھ جدید اسلحہ،خطیرفنڈز اورافغان طالبان کی مکمل سرپرستی بھی انہیں حاصل ہے.پاکستان نے افغانستان کی سرزمین سے مسلسل ہونے والی دہشت گردی کا جو موثر جواب دیاہےوہ محض فوجی کارروائی نہیں،بلکہ خطے کی بدلتی جیو پولیٹیکل حقیقتوں کا بھی واشگاف اعلان ہے۔پاک فضائیہ کے شاہینوں نے سرحد پار جب دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانِ عبرت بنایا تو ملک کے اندر اور باہر کچھ حلقے یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ آخر ایک برادر اسلامی ملک پر فوجی کارروائی کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ کیا سفارت کاری کے تمام دروازے بند ہو چکے تھے،کیا اس حساس معاملے کو مذاکرات کے ذریعے حل نہیں کیا جانا چاہیے تھا؟ ان سوالات کے جواب بہرحال تلخ حقائق میں چھپے ہوئے ہیں جو گزشتہ دو برسوں سے پاک افغان تعلقات پر سیاہ بادلوں کی طرح سایہ فگن ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ طویل عرصے سے افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف تخریبی سرگرمیوں،خودکش حملوں اور ٹارگٹ کلنگ کے لیئے لانچنگ پیڈ کے طور پر استعمال ہو رہی ہے۔یہ ماننا عقلِ سلیم کے لیے ناممکن ہے کہ افغان قیادت ان مراکز سے لاعلم ہویا ان کی منشا کے بغیر سرحد پار سے مسلح جتھے پاکستان میں داخل ہو کر شہریوں اور سیکورٹی اہلکاروں کے خون سے ہولی کھیلیں۔ پاکستان نےہمیشہ بڑے بھائی کاکرداراداکرتے ہوئے نہایت صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا۔متعدد بار سفارتی آداب اور بین الاقوامی اقدار کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ٹھوس شواہد افغان قیادت کے سامنے رکھے۔کابل کو بار بار باور کرایا کہ ہمسایہ ممالک کے درمیان امن کا راستہ ایک دوسرے کی خودمختاری کے احترام سے ہو کرگزرتا ہےمگر افسوس کہ پاکستان کے تحفظات کو دور کرنے کی بجائے کابل نے شدت پسندوں کی پردہ پوشی اور سرپرستی جاری رکھی۔یہی وہ معاندانہ طرزِ عمل اور دوغلی پالیسی تھی جو اس شدید کشیدگی کا باعث بنی۔
پاکستان کو قومی سلامتی کی خاطر افغانستان کے ساتھ راہ و رسم توڑنے اور تجارتی راستے بندکرنے پڑے۔جنگیں کبھی آسانیاں پیدا نہیں کرتیں۔ہمیشہ مشکلیں ہی لاتی ہیں۔یہ ہولناک موڑ ہےکہ پاکستان اور افغانستان برادر ہمسایہ اسلامی ملک ہوتے ہوئے بھی ایک دوسرے کےمدمقابل آ گئے ہیں اور یہ اس لئے ہوا کہ فروری کے مہینے میں اسلام آباد سے باجوڑ اور بنوں تک دہشت گردی کی جو نئی لہر آئی اس کے کھرے سرحد پار ملتے تھے۔ جہاں دہشت گردوں کے ٹھکانے ہیں اور ان ٹھکانوں سے پاکستان کے اندر دراندازی ہوتی ہے۔پاکستان کے سیکورٹی اداروں کے پاس جب ناقابل تردید ثبوت آ گئے اور یہ پتہ چل گیا کہ دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی افغانستان سے کی جاتی ہے تو ہماری سیاسی اور عسکری قیادت نے بالآخر یہ فیصلہ کیا کہ پاکستان کو دہشت گردوں کے خلاف افغانستان کے اندر کارروائی کرنی چاہیے۔ پاکستان نے فتنہ الخوارج اور کالعدم ٹی ٹی پی کے مراکز پر پہلی سرجیکل سٹرائیک 21فروری کی شب کی اور افغانستان کے اندر دہشت گردوں کے پورے اعصابی نظام کو مفلوج کر کے رکھ دیا۔ سمجھداری کا تقاضا تھا کہ افغان قیادت ہوش کے ناخن لیتی،اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکتی اور ایسے اقدامات کرتی کہ پاکستان کو بھی احساس ہوتا کہ افغان طالبان رجیم پاکستان کی شکایات کے حوالے سے پوری طرح سنجیدہ ہے لیکن اس نے پاکستان کی کارروائی کو اپنی انا کا مسئلہ بنا لیا، اشتعال انگیزی کی تمام حدیں پار کر دیں۔اگرچہ پاکستان نے سعودی عرب،مصر اور قطر جیسے دوست ملکوں کی درخواست پر عید کے موقع پرچارروز کےلیے عارضی جنگ بندی کی لیکن 24مارچ کی رات سے پاکستانی افواج کی دہشت گردوں کےخلاف کارروائیوں کا سلسلہ پھر سے شروع ہو گیا ہے۔جب تک ایک بھی دہشت گرد زندہ ہے،فورسز کی کارروائی کا سلسلہ نہیں رکے گا۔یہ لوگ امن کے دشمن ہیں۔سلامتی کونسل کےچارٹر کےمطابق بھی امن کے کسی دشمن کے لیئے دنیا میں کہیں کوئی جگہ نہیں۔پاکستان دہشت گردوں کے خلاف ملک کے اندر اور باہر اپنا فعال کردار ادا کرتا رہے گا۔