Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

سبسڈی کا بوجھ اور صارفین کی بے بسی

پاکستان کےعام شہری آج کل بجلی کےبل دیکھ کر کانپ اٹھتے ہیں۔ ماہانہ آمدنی کا بڑا حصہ بل کھاجاتا ہےاور یہ حد برداشت سے باہر ہو چکی ہے۔ نہ صرف فی یونٹ ریٹ بڑھ گئے ہیں بلکہ نئے کنکشن کی فیس میٹرسکیورٹی چارجزمقررہ فکسڈ چارجز اور مختلف ٹیکسوں کی شکل میں عوام پر مسلسل نئے بوجھ ڈالے جا رہے ہیں۔ قومی ترقی کے دعویدار بجلی کے محکمے (نیپرا اورڈسکو کمپنیاں)دراصل عوام کےخون سےکھیل رہے ہیں۔ یہ کوئی مبالغہ نہیں بلکہ ہرگھر میں محسوس ہونے والی حقیقت ہے۔اگر یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ حکومت کے پاس عام شہریوں پر مظالم ڈھانے اور انہیں مہنگائی کے بوجھ تلے دبا دینےکےلئے سب سے بڑا ہتھیار بجلی کا محکمہ ہے۔ اس کے اپنے ادارے نیپرا کے افسران اور ملازمین لاکھوں اور کروڑوں روپے تنخواہوں کے حقدار ہیں اور انہیں شاہانہ طرز کی سہولیات اور مراعات حاصل ہیں۔مگر عام عوام اب اس ادارے کے روزانہ مظالم سے تنگ آ چکے ہیں۔ بجلی کے بڑھتے ہوئے بل فکسڈ چارجز سکیورٹی ڈپازٹ اور دیگر اضافی محصولات نے گھرانے کی معیشت کو بری طرح متاثر کر رکھا ہے اور لوگوں کی صبر کی حدیں لبریز ہو رہی ہیں۔ عوام محسوس کر رہے ہیں کہ ان کا بنیادی حق بجلی اب بوجھ بن کر ان کی زندگی پر مسلط ہے۔سال 2026 کے آغاز سے بجلی کی قومی اوسط شرح 33.38 روپے فی یونٹ مقررکردی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ماہانہ فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ اور سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے مزید بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔ جنوری 2026 ء کےلئے 1.63 روپے فی یونٹ کا اضافہ مارچ کے بل میں شامل کیا گیا جبکہ مارچ سے مئی کے لیے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے تحت 0.35 روپے فی یونٹ کا اضافی چارج لگایا جائے گا۔ یعنی ایک عام گھرانہ جو اوسطا دو سو یونٹ استعمال کرتا ہے اسے اب پہلے سے ہزاروں روپے زیادہ ادا کرنے پڑیں گے۔
سب سے بڑا ظلم نیا مقررہ فکسڈ چارج سسٹم ہےجو موجودہ سال میں جنوری سے نافذ ہوا۔ اب فکسڈچارجز منظور شدہ لوڈ کے حساب سے لگتے ہیں نہ کہ صرف استعمال کے یونٹس کے مطابق۔ گھریلو صارفین کے لیے 200 سے 675روپے فی کلو واٹ ماہانہ تک چارجز ہیں۔ پانچ کلو واٹ لوڈ والا گھرانہ کم از کم 1,687 روپے فکسڈ چارج ادا کرے گا چاہے وہ ایک یونٹ بھی استعمال نہ کرے۔ تین فیز میٹر اور سولر صارفین پر تو اور بھی بھاری چارجز لگ رہے ہیں۔ یہ مقررہ چارجز دراصل ایک نیا ٹیکس ہیں جو بجلی استعمال نہ کرنے والے پر بھی لاگو ہیں۔ پہلے یہ صرف دو سو یونٹ سے زائد صارفین پر محدود تھا مگر اب ہر گھر پر لاگو کر دیا گیا ہے۔نئے کنکشن کی فیس کی صورتحال اور بھی افسوس ناک ہے۔ عام صارف کے لئے نئے کنکشن کی لاگت اب دس ہزار سے بڑھکر لاکھوں روپے تک جا پہنچی ہے۔ فوری کنکشن کی فیس سنگل فیز کے لیے 15ہزار روپے اور تین فیز کے لیے 30 ہزار روپے تک ہے۔ یوں غریب آدمی کے لیےبجلی کا کنکشن بھی ایک انتہائی مشکل ترین کام بن گیاہے۔میٹر فیس میں بھی بالواسطہ اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان میں بجلی کے تقسیم کار اداروں جنہیں عرفِ عام میں ڈسکوز کہا جاتا ہے جیسے LESCO، FESCO اور MEPCOنے 2025 ء کے آخری مہینوں اور 2026ء کے آغاز میں نئے بجلی میٹروں خصوصاً جدید اے ایم آئی (اسمارٹ)میٹروں کی فیس اور ڈیمانڈ نوٹس میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ یہ اضافہ زیادہ تر سنگل فیز گھریلو صارفین کو متاثر کررہا ہےجس کی بنیادی وجہ نئے اسمارٹ میٹروں کی خریداری اور ان کی فراہمی نجی کمپنیوں کے سپرد کرنا بتائی جا رہی ہے مگر اس کا اصل بوجھ براہِ راست عام شہری پر منتقل ہو چکا ہے۔اگر تفصیلات پر نظر ڈالی جائے تو لاہور میں LESCO کے تحت نئے کنکشن کے لئے میٹر کی فیس جو پہلے 6,400 روپے تھی اب بڑھ کر 21,300روپے بلکہ بعض صورتوں میں 25ہزار روپےتک جاپہنچی ہے جس میں میٹر کیبل اور دیگر اخراجات شامل ہیں۔ اسی طرح سنگل فیزاےایم آئی اسمارٹ میٹرکی قیمت 11,665 روپے سے بڑھا کر 17,700روپے کر دی گئی ہے۔ دوسری جانب FESCO میں بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں جہاں سنگل فیزگھریلو میٹر کا ڈیمانڈ نوٹس 11ہزارروپے سے بڑھا کر 22ہزار روپے اور 14ہزار روپے سے بڑھا کر 25ہزار روپے کردی گئی ہے جو کہ تقریبا تین سو فیصد اضافے کے مترادف ہے۔ یہ تمام اقدامات اس بات کی واضح علامت ہیں کہ بجلی جیسے بنیادی حق کو بھی اب بتدریج ایک مہنگی سہولت میں تبدیل کردیا گیاہےجس کابوجھ بالآخر عام آدمی ہی کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔میٹر اور کنکشن کے اضافی مواد کی لاگت پر 12 فیصد اسٹور ہینڈلنگ چارجز لگائے گئے ہیں۔
سولر صارفین پر نیا نیٹ بلنگ نظام نافذ کیا گیا جس سے سرپلس بجلی بیچنے پر کم قیمت ملتی ہے جبکہ گرڈ سے خریدی گئی بجلی 11 روپے فی یونٹ ہے۔ٹیکسوں کا جال بھی الگ ہے۔ بجلی کے بل پر 18فیصدجی ایس ٹی نیپرا چارجز مالیاتی چارجز فیول سرچارج اور دیگر محصولات لگائےجاتے ہیں۔ مجموعی طور پر یہ بل کا 20-25 فیصد حصہ بنتے ہیں۔ ایک 10 ہزارروپے کے بل میں 12-13 ہزار روپے شامل ہو جاتے ہیں۔ حکومت دعوی کرتی ہے کہ سبسڈی دے رہے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ صارفین ہی سبسڈی کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ قومی سرکلر ڈیٹ جو اب لاکھوں کروڑ تک پہنچ چکی ہے اس کا خمیازہ عوام بھگت رہی ہے۔یہ مظالم کیسے ممکن ہوئے؟ بجلی کا محکمہ کارکردگی میں صفر ہے۔ لائن لاسز 18-20 فیصد چوری کرپشن اور نجی بجلی پیداکرنے والی کمپنیوں کو صلاحیت کے مطابق ادائیگی کے ذریعے اربوں روپے دیے جا رہے ہیں چاہے بجلی پیدا نہ ہو۔ نیپرا ریگولیٹر بن کر ڈسکو کمپنیوں کا وکیل بن گیا ہے۔ فیصلے عوام کی رائے کے بغیر پاور ڈویژن کی ہدایات پر ہو رہے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ غریب گھرانہ بجلی چھوڑ کر شمع جلانے پر مجبورہے۔ درمیانہ طبقہ ماہانہ بجٹ سے باہر اور صنعت کار فیکٹریاں بند کر رہے ہیں۔ زراعت اور چھوٹے کاروبار بھی شدید متاثر ہو رہے ہیں۔دیہی علاقوں میں لوگ کنکشن ہی نہیں لے پا رہے۔ سولر صارفین بھی مایوس ہیں کیونکہ نئے قوانین کے تحت سرپلس بجلی کم قیمت پربیچنی پڑتی ہے۔ حکومت دعوی کرتی ہے کہ اصلاحات ہو رہی ہیں مگر عوام پوچھتے ہیں اصلاحات کافائدہ کس کو ہو رہا ہے؟ نجی کمپنیوں کو؟ ڈسکو افسروں کی تنخواہوں کو؟ یا وہ لوگ جو بجلی چوری کرتے ہیں؟ عوام بس بل بھرتے ہیں لائن لاسز برداشت کرتے ہیں اور پھر بھی جب مرضی لوڈشیڈنگ کا شکار ہیں۔یہ صورتحال صرف معاشی نہیں سماجی بھی ہے۔ غربت بڑھ رہی ہے مہنگائی آسمان چھو رہی ہے نوجوان بے روزگار اور بجلی جیسا بنیادی حق بھی لاکھوں روپے کا بوجھ بن چکا ہے۔ نیپرا عوام کا دوست بننے کے بجائے ڈسکو کمپنیوں کا وکیل بن چکا ہے۔ پاور ڈویژن کو شفافیت لانی چاہیےتھی۔ اسی طرح قومی قرض دن بدن بڑھتا ہی جا رہا ہے۔اب وقت آ گیا ہے عوامی پریشر بڑھانے کا،سیاسی جماعتوں خصوصا اپوزیشن جماعتوں کا اصل امتحان بھی یہی ہےکہ وہ محکمہ بجلی کے مظالم اور مہنگائی پر آواز بلند کریں۔ پارلیمنٹ میں بحث ہو میڈیا احتساب کرے اور حکومت فیصلہ کرے کہ بجلی کا محکمہ عوام کا خادم ہے یا ظالم؟ مقررہ فکسڈ چارجزختم سیکیورٹی ڈپازٹ میں ریلیف لائن لاسزکم کرنےکےلیے سخت کار روائی اور فی یونٹ قیمت کو 20روپے تک لانا۔ورنہ یہ مظالم جاری رہیں گے اور عوام کی برداشت کا پیمانہ بھر جائے گا۔ بجلی کا بل نہ صرف گھر کا بجٹ بلکہ قوم کا صبر بھی کھا رہا ہے۔ محکمہ بجلی والو سن لو کہ اب عوام تھک چکے ہیں مزید بوجھ نہ ڈالیں۔ یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحروہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں۔

یہ بھی پڑھیں