میں نے اسے پہلی بار اسلام آباد کے ایک سادہ سے دفتر میں دیکھا تھا۔ کمرہ بڑا نہیں تھا نہ ہی وہاں کوئی غیر معمولی سجاوٹ تھی مگر اس شخص کی شخصیت میں ایک عجیب سی کشش تھی۔ اس کی آنکھوں میں ایک ایسا اعتماد جھلک رہا تھا جو عام طور پر صرف ان لوگوں میں ہوتا ہے جو اپنے مقصد پر یقین رکھتے ہیں۔ وہ آہستہ آہستہ بات کرتا تھا جیسے ہر لفظ تول کر ادا کر رہا ہو مگر اس کے لہجے میں ایسی سچائی تھی جو دل میں اترتی چلی جاتی تھی۔ وہ کوئی روایتی سرمایہ دار نہیں تھا بلکہ ایک ایسا شخص تھا جو اپنے آپ کو صرف تاجر نہیں بلکہ ایک ذمہ دار شہری سمجھتا تھا جس پر اپنے ملک اور اپنے لوگوں کا قرض ہے اور یہی سوچ اس کے ہر فیصلے میں جھلکتی تھی بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ اس شخص کا نام شوکت مروت ہے اور یہی وہ نام تھا جو آنے والے وقت میں ہزاروں لوگوں کے لیے امید کی علامت بن گیا۔ابتدا میں لوگوں نے اس پر زیادہ توجہ نہیں دی کیونکہ ہمارے معاشرے میں نئے خیالات کو فوراً قبول نہیں کیا جاتا ۔یہاں ہر نیا قدم شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے مگر وقت کے ساتھ ساتھ اس کی محنت اور خلوص نے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنا شروع کر دیا وہ جہاں جاتا وہاں اعتماد کی ایک نئی فضا قائم ہو جاتی اور لوگ اس کی بات پر یقین کرنے لگتے۔ اس نے ایک مالیاتی ادارہ قائم کیا جس کا مقصد صرف سرمایہ کاری نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت تھا اس ادارے کے ذریعے اس نے بیواؤں یتیموں اور کم آمدنی والے افراد کو ایک ایسا سہارا فراہم کیا جس کی انہیں اشد ضرورت تھی۔معمولی سی سرمایہ کاری کے بدلے انہیں ہر ماہ ایک معقول رقم ملتی جس سے ان کے گھروں کے چولہے جلتے رہتے۔ یہ کوئی معمولی کام نہیں تھا بلکہ ایک ایسا خاموش انقلاب تھا جس نے بے شمار زندگیوں کو بدل دیا۔ اسی کے ساتھ ساتھ اس نے ایک فلاحی ہسپتال کے قیام کا منصوبہ بھی شروع کیا۔ اس کا خواب تھا کہ ایک ایسا ادارہ قائم کیا جائے جہاں غریب اور بے سہارا افراد کو مفت اور باعزت علاج کی سہولت میسر ہو۔ اس خواب کی بنیاد رکھی جاچکی تھی اور اس پر کام بھی شروع کیا جا چکا تھا۔ کاروباری میدان میں بھی اس نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اس نے ملک کے مختلف شہروں میں ٹیکسٹائل فیکٹریاں قائم کیں جہاں اعلیٰ معیار کے ملبوسات تیار کیے جاتے تھے ان مصنوعات نے نہ صرف مقامی مارکیٹ میں جگہ بنائی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اپنی پہچان قائم کی۔ اس کے بعد اس نے سپورٹس انڈسٹری میں قدم رکھا اور وہاں بھی کامیابی حاصل کی۔ بڑے شہروں میں اس کے شو رومز قائم ہوئے جہاں روزانہ سینکڑوں لوگ آتے اور اس کے برانڈ پر اعتماد کا اظہار کرتے۔ اس کے کاروبار نے ہزاروں افراد کو روزگار فراہم کیا اور وہ ایک ایسا نام بن چکا تھا جس سے لوگوں کی امیدیں وابستہ تھیں۔رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں بھی اس نے نمایاں سرمایہ کاری کی اور ایسی رہائشی و تجارتی اسکیمیں متعارف کروائیں جن کا مقصد صرف منافع نہیں بلکہ لوگوں کو بہتر زندگی فراہم کرنا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس نے اپنے کاروبار کو بین الاقوامی سطح تک پھیلا دیا اور لندن، دبئی ، سنگا پور، قظر ، نائجیریا ، ترکی اور کوالا لمپور جیسے کاروباری مراکز میں اپنے ادارے قائم کیے۔ اس کی کارکردگی کو عالمی سطح پر بھی سراہا گیا اور اسے لندن سمیت دیگر ممالک کے چیمبر آف کامرس کی رکنیت حاصل ہوئی جو اس کی محنت اور صلاحیتوں کا واضح اعتراف تھا۔ مگر ہمارے معاشرے کی ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ یہاں کامیابی اکثر حسد کو جنم دیتی ہے اور جب کوئی شخص تیزی سے ترقی کرتا ہے تو کچھ طاقتور حلقوں کو یہ ترقی ناگوار گزرتی ہے۔اس کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ وہ ایک مخلص انسان تھا اپنے ملک سے محبت کرتا تھا اور اپنے لوگوں کے لیے کچھ کرنا چاہتا تھا مگر اسی کو اس کی کمزوری بنا دیا گیا۔ کچھ بااثر عناصر کو اس کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور اثر و رسوخ برداشت نہ ہوا اور انہوں نے اسے اپنے لیے خطرہ سمجھنا شروع کر دیا چنانچہ اس کے خلاف کارروائیاں شروع ہو گئیں، مختلف اداروں کے ذریعے اس کے کاروبار کو نشانہ بنایا گیا۔ اسے ہراساں کیا گیا اس کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں اور اسے بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔ وہ خاموش رہنے والا نہیں تھا۔ اس نے ان ناانصافیوں کے خلاف آواز اٹھائی اور سچ کا ساتھ دیا مگر ہمارے ہاں سچ بولنا اکثر سب سے بڑا جرم بن جاتا ہے۔جب وہ بیرون ملک تھا تو اس کے خلاف مقدمات قائم کر دیئے گئے اور پاکستان میں اس کے ادارے کے تمام بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیئے گئے۔ اس کے کاروبار کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔ یہ وہ موقع تھا جب وہ آسانی سے بیرون ملک رہ سکتا تھا اور خود کو ان مسائل سے دور رکھ سکتا تھا مگر اس نے ایسا نہیں کیا۔ وہ واپس آیا کیونکہ اسے اپنے اوپر یقین تھا اور وہ جانتا تھا کہ اس نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔ جیسے ہی وہ پاکستان پہنچا اسے گرفتار کر لیا گیا اور اس کی گرفتاری نے صرف اسے متاثر نہیں کیا بلکہ اس کے ساتھ وابستہ لاکھوں افراد کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ وہ لوگ جو ہر ماہ اس کے ادارے سے حاصل ہونے والی رقم پر انحصار کرتے تھے اچانک بے سہارا ہو گئے۔ سینکڑوں ملازمین بے روزگار ہو گئے اور بے شمار خاندان معاشی مشکلات کا شکار ہو گئے۔گزشتہ دو برسوں سے وہ نیب کی تحویل میں ہے جہاں اسے بغیر کسی واضح جرم کے قید رکھا گیا ہے مگر حیران کن بات یہ ہے کہ اس نے ہمت نہیں ہاری وہ آج بھی کوشش کر رہا ہے کہ کسی نہ کسی طرح اپنے سرمایہ کاروں اور وابستگان کا نقصان پورا کر سکے۔ اس نے دوبارہ اپنے دفاتر کا آغاز کیا ہے اور اپنے لوگوں کو یہ پیغام دیا ہے کہ جنہیں اپنے پیسوں کی ضرورت ہے وہ واپس لے سکتے ہیں۔ ایک ایسا شخص جو خود قید میں ہے مگر آج بھی دوسروں کے بارے میں سوچ رہا ہے۔ اپنے وعدوں کو نبھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہی وہ جذبہ ہے جو کسی بھی انسان کو عظیم بناتا ہے۔ مگر اس کہانی کا دوسرا رخ بھی ہے جو ہمارے معاشرے کی تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے۔ یہ ملک اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک یہاں مخلص اور ایماندار لوگوں کو آگے بڑھنے کا موقع نہیں دیا جاتا۔ ملک کی ترقی کا پہیہ انہی لوگوں کی محنت سے چلتا ہے جو بغیر کسی صلے کی پروا کیےاپنا کردار ادا کرتے رہتے ہیں۔ جب تک اداروں میں بیٹھے عناصر اپنے ذاتی مفادات کو قومی مفاد پر ترجیح دیتے رہیں گے تب تک شوکت مروت جیسے لوگ قربانی کا بکرا بنتے رہیں گے۔ ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم کس سمت جا رہے ہیں؟ کیا ہم ایک ایسے معاشرےکی تعمیر کر رہے ہیں جہاں سچ بولنے والے سزا پاتے ہیں اور جھوٹ بولنے والے کامیاب ہوتے ہیں یا ہم ایک ایسا نظام چاہتے ہیں جہاں انصاف ہو جہاں محنت کی قدر ہو اور جہاں مخلص لوگوں کو ان کا حق ملے ؟ یہ سوال صرف اس ایک شخص کا نہیں بلکہ ہم سب کا ہےاور شاید اسی سوال کے جواب میں ہمارے مستقبل کی سمت چھپی ہوئی ہے۔ فیض احمد فیض نے شاید اسی موقع کے لئے کہا تھا کہ ؎نثار میں تیری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اُٹھا کے چلے۔