Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

آبنائے ہرمز سے جڑی عالمی معیشت

آبنائےہرمزاس وقت پوری دنیاکی توجہ کامرکز بنا ہوا ہے۔یہ خلیج فارس اور خلیج عمان کے درمیان واقع ایک انتہائی تنگ لیکن اہم سمندری گزرگاہ ہے۔دنیا میں خام تیل کی نقل وحمل کاسب سےبڑا بحری راستہ بھی یہی ہےجہاں سے عالمی تیل کی سپلائی کا قریباً 20فیصد سے زائدحصہ گزرتا ہے۔خلیجی جنگ کے بعد ایران نےاس بحری گزرگاہ کی چونکہ بندش کررکھی ہے۔اس لئےگزشتہ قریبا ًایک ماہ سے کارگو جہازوں کی آمدورفت آبنائے ہرمزمیں معطل ہےجس کےباعث دنیامیں تیل اورمعیشت کاسنگین بحران پیداہوچکا ہے۔ پاکستان بھی اس بحران کی زدمیں ہےتاہم بہترحکومتی اقدامات اور منصوبہ بندی سے یہاں بحران کی وہ کیفیت نہیں،جو بھارت سمیت کئی دیگرملکوں میں محسوس کی جا رہی ہے۔ آبنائے ہرمزکاجغرافیائی محل وقوع دیکھیں تو یہ ایران کےجنوب اورمتحدہ عرب امارات کے شمال میں واقع ہے۔اس کی چوڑائی 21میل یعنی قریباً 40کلومیٹر ہے۔دنیامیں اسکی تجارتی اہمیت کا اندازہ لگائیں تو یہ آبی گزرگاہ خلیجی ممالک،جن میں سعودی عرب،ایران،قطر اور یواےای شامل ہیں،تیل اورایل پی جی سمیت دیگر کئی اشیا کی یورپ اور شمالی امریکہ تک ترسیل کا اہم ذریعہ ہے۔یہ گزرگاہ توانائی کی شہ رگ بھی کہلاتی ہے۔اپنی سٹریٹجک اہمیت کی وجہ سے آبنائے ہرمز اکثر ایران اور امریکہ کے مابین سیاسی اور فوجی کشیدگی کا باعث بھی بنی رہتی ہے-جیسا کہ آج کل ہم دیکھ رہے ہیں جو صورت حال ہے،کشیدہ اور بہت بگڑی ہوئی ہے۔اس جنگ کے باعث ایران اور اسرائیل سمیت خلیجی ریاستوں کا کافی زیادہ مالی اور جانی نقصان ہو چکا ہے۔
ایران کی جانب سےآبنائے ہرمز کی بندش نےدنیا کی ہر بڑی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔دنیا بھرکی سٹاک ایکسچینج بھی مندی کاشکار ہیں۔لوگوں کااربوں روپیہ ڈوب چکا ہے۔خلیج میں جو جنگ ہے،اسے ہم ایک لاحاصل جنگ کہہ سکتے ہیں جس کا کوئی انجام نہیں۔انٹرنیشنل میڈیا اب یہ خبر بھی دےرہا ہے کہ امریکہ کی جزیرہ خارگ پر نظر ہے۔جہاں سے ایران اپنے خام تیل کا 90فیصد دوسرےملکوں کو سپلائی کرتا ہے۔تاہم ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ نے اس جزیرے پر قبضہ کی کوشش کی تو پوری طاقت سے اس کا جواب دیاجائے گا۔خلیجی جنگ رکوانے کے لئے مصر، ترکیہ اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر پاکستان نے اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں۔اس تناظر میں چار فریقی ایک میٹنگ بھی اسلام آباد میں انعقاد پذیر ہوئی۔ اگرچہ میٹنگ کا دورانیہ مختصر تھا لیکن مصر، ترکیہ اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ نے اسحاق ڈارکی زیرصدارت انعقاد پذیراس میٹنگ میں کافی سیر حاصل گفتگو کی اور مشرق وسطیٰ کو جنگ سےپاک کرنے کےلئے جو تجاویز سامنے آئیں ، شرکا نے بعدازاں وزیراعظم شہبازشریف سےملاقات کرکے میٹنگ میں ہونے والی گفتگو سے انہیں آگاہ کیا- تینوں غیر ملکی وزرائے خارجہ نے خلیج میں امن کے لئےپاکستان کی کاوشوں اور کوششوں کو سراہاجس کے بعد مصر، ترکیہ اورسعودی عرب کےوزرائے خارجہ اپنےاپنےملک روانہ ہو گئے۔جبکہ اگلے ہی روزنائب وزیراعظم اوروزیر خارجہ اسحاق ڈارمیٹنگ منٹس کےساتھ چین چلے گئےجہاں چینی وزیرخارجہ سےملاقات کی اور پاکستانی وزیراعظم کاایک خصوصی پیغام بھی چینی حکومت تک پہنچایا۔خطےمیں امن کےلئےچینی حکومت بھی کوشاں ہے۔اس حوالے سے پاکستان کی طرف سےکی جانے والی کوششوں کو قدر کی نگاہ سےدیکھاجارہا ہے۔جہاں تک آبنائے ہرمزکا معاملہ ہےوہ اس وقت کارگوجہازوں کی آمدورفت کےلئےمکمل طور پربند ہے۔تاہم ایران نےٹینشن کے اس ماحول میں صرف پاکستانی فلیگ والے20 کارگو جہازوں کو ہرمز سے گزرنےکی اجازت دی۔ ہرمز واحد گزرگاہ ہے جس کے ذریعے ایشیا،یورپ اور شمالی امریکہ کو تیل کی سپلائی ہوتی ہے۔ایران کی جانب سے دھمکیوں اور اسے بندکئےجانےکےبعد عالمی سطح پرتیل کی قیمتوں میں بےحد اضافہ دیکھنے میں آرہا ہےجس سے دنیا بھر کی معیشتیں انتہائی متاثر ہیں۔
آبنائےہرمزصرف تیل کی سپلائی کےلئےمختص ہی نہیں،خلیجی ممالک کےلئےانتہائی اہم تجارتی اوردفاعی گزرگاہ بھی ہےجسے ایران نےدبائو بڑھانے کے لئےبندکررکھا ہے۔اپنے اس مقصد میں ایران کافی حد تک کامیاب بھی رہا ہے۔خلیجی ممالک سے تیل کی سپلائی رک جانے سے دنیا جس بحرانی کیفیت کاشکارہےاس کا اندازہ لگایاجا سکتا ہے۔اس بندش سے عالمی سطح پر دبائو بڑھ رہا ہے۔امریکہ سمیت تمام یورپی ممالک میں بھی ایران جنگ کی مخالفت میں وسیع پیمانے پر مظاہرے ہوئے ہیں۔لاکھوں افراد نے امریکہ مخالف ریلیوں میں شرکت کی ہے اور ٹرمپ مخالف نعرے لگائےجس سےغمازی ہوتی ہےکہ خلیجی ممالک اور آبنائے ہرمز بند ہونے سےلوگوں کی زندگیوں پرکتنے ہی برے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ صدرٹرمپ بھی یہ بات سمجھ رہےہیں اورمحسوس کررہےہیں کہ انکے اتحادی بھی جنگ میں ان کا ساتھ چھوڑ گئے ہیں۔ مزیدبرآں ان کی مخالفت میں بیان بھی دے رہے ہیں اس صورت حال سے صدر ٹرمپ کی اپنےملک میں یہ حالت ہو گئی ہے کہ ایک سروے کے مطابق 67 فیصد امریکی ٹرمپ کی مخالفت میں بولے ہیں اور کھل کر اظہارخیال کر رہےہیں امریکی شہری جنگ کے فیصلے کو ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔صدر ٹرمپ پریہ نہایت برا اور کٹھن وقت ہے جس سے اندازہ ہوتاہےکہ وہ اپنی مقبولیت کھوچکےہیں۔شاید ہی اگلا صدارتی الیکشن جیت سکیں۔اس خلیجی جنگ سےایک بات توثابت ہوگئی ہےکہ دنیا کی سپرپاور (امریکہ)کو جدید اسلحے، ٹیکنالوجی اورفضائی برتری کےباوجود ایران سے ہزیمت اٹھانی پڑی ہے۔ ٹرمپ جنگ سے راہ فرار کے لئے اب فیس سیونگ کےخواہش مند ہیں اور مختلف نفسیاتی حربے استعمال کر رہے ہیں۔ بادی النظرمیں امریکہ یہ جنگ ہار چکا ہے ۔ اسے مایوسی اور شرمندگی کا سامنا ہے۔ایران نے اپنی بھرپور عسکری صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہےشدید ترین مزاحمتی ایکشن سے دنیا پر ثابت کیا ہےکہ ایران کے لوگ بڑےنڈر اوربہادر ہیں۔ بڑے سے بڑے جارح کو بھی سزا دینے کی قدرت رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں