Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

سلامی بمقابلہ حیرانی

روشنیوں سےجگمگاتا ہال دنیابھر کےسفارت کارکیمروں کی چکاچوند اور چہروں پر سجی وہ مسکراہٹیں جو اکثر دل کی کیفیت کا ساتھ نہیں دیتیں۔ یہ مصر کے ساحلی شہر شرم الشیخ میں منعقد ہونےوالے ایک بین الاقوامی اجلاس کی بات ہے۔ یہ غزہ امن کانفرنس تھی ایک ایسا اجتماع جسے اس امید پر سجایا گیا تھا کہ شاید مشرقِ وسطیٰ کے زخموں پر کوئی مرہم رکھاجاسکے۔اسٹیج پرپاکستان کےوزیراعظم شہباز شریف موجود تھے اور سامنے امریکہ کےصدرڈونلڈ ٹرمپ۔ ماحول میں سنجیدگی بھی تھی اور ایک غیر محسوس کشیدگی بھی۔ پھر وہ لمحہ آیا جب شہباز شریف نے مائیک سنبھالا اور کہا کہ جناب صدر میں آپ کو سلام پیش کرتاہوں اورآپ کو نوبل امن انعام کا حقدار سمجھتا ہوں۔ یہ صرف تعریف نہیں تھی بلکہ ایک اشارہ تھا ایک ایسا پیغام جو شاید کچھ لوگوں کے لئے واضح تھا اور کچھ کے لئےایک معمہ۔مگراس لمحے کی اصل کہانی اسٹیج پرسامنے نہیں بلکہ اسکے پیچھے کھڑی تھی۔ کیمرہ ایک چہرے پر ٹھہر گیا۔یہ اٹلی کی وزیراعظم جورجیا میلونی تھیں۔ انہوں نے بے ساختہ اپنےمنہ پر ہاتھ رکھ لیا آنکھوں میں حیرت اور چہرے پر ایک غیر متوقع ردعمل جیسے وہ خود بھی اس منظر کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہوں۔ یہ کوئی سیاسی بیان نہیں تھا نہ کوئی تیار شدہ ردعمل بلکہ ایک انسانی کیفیت تھی جو لاشعوری طور پر سامنے آ گئی تھی۔ اس وقت دنیاانہیں اتنانہیں جانتی تھی مگر ان کی باڈی لینگوئج اور وہ خاموش ردعمل میرے ذہن میں نقش ہو گیاکیونکہ بعض اوقات الفاظ سے زیادہ خاموشیاں بولتی ہیں۔کہانیاں کبھی یک لخت جنم نہیں لیتیں وہ وقت کے کسی ایک لمحے میں ضرور سامنے آتی ہیں مگر ان کی بنیادیں ماضی کی گہرائیوں میں پیوست ہوتی ہیں۔
شرم الشیخ میں 13اکتوبر 2025ء بھی ایسا ہی ایک لمحہ تھا ایک منظر ایک جملہ ایک حیرت اور پھر ایک ایسا سوال جو ذہن کے دریچوں میں آج تک دستک دے رہا ہے۔وقت گزرتا گیا خبریں بدلتی رہیں اور دنیااپنی رفتار سے آگے بڑھتی رہی مگر پھر ایک دن وہی چہرہ دوبارہ چودہ اپریل دو ہزار چھبیس کو منظر عام پر آیا اس بارحیرت کے ساتھ نہیں بلکہ ایک جراتمند فیصلے کے ساتھ۔ اٹلی کی وزیراعظم جورجیامیلونی نےاسرائیل کے ساتھ دفاعی تعاون معطل کرنےکا اعلان کردیا۔ یہ کوئی معمولی فیصلہ نہیں تھا کیونکہ اس معاہدے میں فوجی تربیت اسلحےکی خریدو فروخت اورجدید دفاعی ٹیکنالوجی کا تبادلہ شامل تھا یعنی یہ صرف مفادات نہیں بلکہ اعتمادکارشتہ بھی تھامگر انہوں نےموجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے اس معاہدے کی تجدید روک دی اورواضح الفاظ میں کہا کہ اسرائیل نے سرخ لکیر عبور کر لی ہےاورفلسطینی شہریوں کےقتل عام کی مذمت کرتے ہوئے انہوں نے یورپی پابندیوں کی حمایت کااعلان بھی کیا۔یہ وہی دنیا تھی وہی سیاست تھی مگر اب لہجہ بدل چکا تھا۔ یورپ جو طویل عرصے سے اسرائیل کے ساتھ کھڑا نظر آتا تھا اب آہستہ آہستہ اپنی صفیں بدلتا دکھائی دے رہا تھا۔ اسپین پہلے ہی سخت موقف اختیارکرچکاتھااوراب اٹلی کا یہ فیصلہ جیسے ایک نئی لہر کا آغاز تھا۔ اس سارے منظر کو دیکھتے ہوئے میں نے دوبارہ اسی لمحے کو یاد کیا وہی کانفرنس، وہی الفاظ اور وہی حیرت زدہ چہرہ۔ کبھی کبھی تاریخ ہمیں پہلے ہی اشارہ دے دیتی ہے مگر ہم اسے سمجھ نہیں پاتے،۔وہ لمحے جو بظاہر معمولی لگتے ہیں دراصل آنے والے وقت کی بنیاد رکھ رہے ہوتے ہیں۔یہ کالم کسی ایک شخصیت کی تعریف یا تنقید نہیں بلکہ اس پیچیدہ کھیل کی عکاسی ہے جسے ہم عالمی سیاست کہتے ہیں۔ ایک ایساکھیل جہاں الفاظ کچھ اور کہتے ہیں اور فیصلے کچھ اور۔ سفارت کاری بظاہر شائستگی کا نام ہے مگر اس کے اندر مفادات کی ایک خام جنگ جاری رہتی ہے۔ یہاں جملے تراشے جاتے ہیں تاثرات سنوارےجاتےہیں اور سچائی کو اکثر مصلحت کی چادر میں چھپا دیا جاتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کو عالمی امن کے انعام کے لیے نامزد کرنے کی بات ہو یا شہباز شریف کا سفارتی انداز یہ سب اسی کھیل کے مہرے ہیں جہاں ہر حرکت سوچ سمجھ کر کی جاتی ہے اور ہر جملہ کسی نہ کسی مقصد کے تحت ادا ہوتا ہےمگرکیا اس کھیل میں انسانیت کی کوئی جگہ باقی رہتی ہے؟ جب غزہ کے بچےملبے تلے دبے ہوں جب ماں کی چیخیں فضا میں گونج رہی ہوں تو کیا اس وقت بھی سفارت کاری کے جملے ویسے ہی خوبصورت لگتے ہیں؟ جورجیا میلونی کا فیصلہ شاید اسی سوال کا ایک جواب تھا۔ شاید انہوں نے وہی دیکھا جو دنیا دیکھ رہی تھی مگر وہ کہہ گئیں جو بہت سے لوگ کہنے کی ہمت نہیں کر پاتے۔ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ان کا یہ قدم تاریخ کا دھارا بدل دے گا مگر یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے ایک خاموشی کو توڑا ہے اور بعض اوقات خاموشی توڑنا ہی سب سے بڑی جرات ہوتی ہے۔
دنیا کی سیاست ہمیشہ سے جوڑ توڑکاشکار رہی ہے۔ یہاں اصولوں سے زیادہ مفادات کی اہمیت ہوتی ہےاورسچائی اکثر طاقت کےنیچے دب جاتی ہےمگر تاریخ یہ بھی گواہ ہے کہ کبھی کبھی ایک آواز ایک فیصلہ یا ایک لمحہ اس پورے نظام کو چیلنج کر دیتا ہے۔ یہ تحریر اسی لمحے کی کہانی ہے ایک ایسا لمحہ جہاں ایک طرف الفاظ کی چمک تھی اور دوسری طرف ایک خاموش احتجاج۔ ایک طرف تعریف کےجملے تھے اور دوسری طرف ایک ایسا چہرہ جو اس سب کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ وقت نے ثابت کیا کہ وہ چہرہ محض ایک ردعمل نہیں تھا بلکہ ایک سوچ کی عکاسی تھا۔اٹلی کی وزیراعظم جورجیا میلونی نے مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ دفاعی تعاون کے معاہدےکی خودکار تجدید معطل کرنے کا جو بہادر اور اصول پسندانہ فیصلہ کیا ہے وہ ان کی قیادت کی ایک روشن مثال ہے۔ اس اقدام سے انہوں نے نہ صرف اٹلی کے قومی مفادات کو ترجیح دی بلکہ عالمی امن اور انسانی حقوق کی آواز کو بھی تقویت بخشی جبکہ بہت سے یورپی رہنما اب بھی خاموشی اختیار کیےہوئے ہیں۔ میلونی نے دکھایا کہ حقیقی قیادت وہ ہوتی ہے جو غلط پالیسیوں کے سامنے ڈٹ جائے اور عوام کی آواز بن کر کھڑی ہو۔یہ فیصلہ میلونی کی دور اندیشی اور عدل پسندی کی نشانی ہے۔ اسرائیل کے ساتھ پرانا دفاعی معاہدہ معطل کر کے انہوں نے ثابت کیا کہ اٹلی اب مشرق وسطیٰ میں جاری خونریزی معصوم شہریوں کی ہلاکت اورعلاقائی عدم استحکام کی خاموش تماشائی نہیں بن سکتا۔ جورجیا میلونی نے ایک بارپھرثابت کردیاکہ وہ ایک ایسی لیڈرہیں جو دبائو کے سامنے جھکتی نہیں بلکہ اصولوں پر کھڑی رہتی ہیں۔ ان کا یہ اقدام نہ صرف اٹلی کے لئے قابل فخر ہے بلکہ دنیابھر کےان لوگوں کےلیے بھی امید کی کرن ہے جو امن اور انصاف کی بات کرتے ہیں۔کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی یہ تو صرف ایک باب ہے ایک ایسا باب جو ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ دنیا کی بڑی بڑی کہانیوں میں بھی چھوٹے چھوٹے لمحے بہت اہم ہوتے ہیں۔ وہ لمحے جو بظاہر معمولی ہوتے ہیں مگر حقیقت میں تاریخ کا رخ موڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ شاید آنے والے دنوں میں مزید فیصلے ہوں گے مزید بیانات آئیں گے اور سیاست کا یہ کھیل اسی طرح جاری رہے گامگر 13 اکتوبر 2025ء کا وہ لمحہ وہ حیرت زدہ چہرہ اور اس کے بعد آنے والا جراتمند فیصلہ ہمیں یہ یاد دلاتا رہے گا کہ سچائی ہمیشہ مکمل طور پر چھپ نہیں سکتی اور شاید یہی ’’جوڑ توڑ‘‘کی اصل حقیقت ہے جہاں ہرکہانی کےدو رخ ہوتے ہیں۔ایک وہ جو ہمیں دکھایا جاتا ہے اور ایک وہ جو ہمیں خود تلاش کرنا پڑتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں