(گزشتہ سے پیوستہ)
ایران کاپراکسی نیٹ ورک،جس میں حزب اللہ،حوثی،حماس اوردیگرگروہ شامل ہیںاس کی ’’فارورڈ ڈیفنس حکمت عملی‘‘ کابنیادی جزو اورجنگی حکمت عملی کا ستون ہیں۔ یہی وہ جال ہے جس کے ذریعے ایران اپنے دشمنوں کودورسے الجھائے رکھتاہے،اوربراہِ راست تصادم سے بچتے ہوئے اپنے مفادات کاتحفظ کرتا ہے مگریہی نیٹ ورک امریکااوراسرائیل کے لئے ایک مستقل خطرہ تصورکیاجاتاہے۔ اسرائیل اسے اپنے وجودکے لئے خطرہ سمجھ کراس کے خاتمے کاخواہاں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکااورایران میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کے لبنان پرمسلسل فضائی حملے جاری ہیں جس کی سنگینی پراب عالمی اوریورپی رہنماؤں کی طرف سے بھی تشویش کا اظہار کیاجارہاہے۔
ادھردوسری طرف ایران کی معیشت طویل عرصے سے پابندیوں کے باعث دباؤ کا شکار اور پابندیوں کے بوجھ تلے کراہ رہی ہے۔عوام کی بڑھتی ہوئی بے چینی اس امرکی نشاندہی کرتی ہے کہ داخلی سطح پربھی حکومت کوچیلنجز کاسامناہے۔عوام کی خواہش ہے کہ وسائل جنگی سرگرمیوں اورمہمات کی بجائے فلاحِ عامہ پرصرف ہوں،مگرریاستی پالیسی اورترجیحات ابھی تک اس خواہش کی ہم نوانظرنہیں آتی کیونکہ ایک طویل عرصے سے امریکااوراسرائیل نے ایران پرجنگ ٹھونس رکھی ہے اورایران سلامتی کے پیشِ نظرملکی دفاع پر خطیر رقم خرچ کرنے کے لئے مجبورہے۔
ایران کاایک بڑامطالبہ یہ ہے کہ اس کے منجمد اثاثے بحال کیے جائیں اوربین الاقوامی پابندیاں ختم کی جائیں۔مگرامریکاکی جانب سے ایسی فراخ دلی کاامکان کم دکھائی دیتاہے ۔ اوردن بدن اس مطالبے کوقبول کرنے کے امکانات محدوددکھائی دیتے ہیں۔یہی وہ مقام ہے جہاں امیداورحقیقت کے درمیان خلیج وسیع ہوجاتی ہے اورمذاکرات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ حائل ہوجاتی ہے۔
یہ تمام قضیہ اس حقیقت کی آئینہ داری کرتے ہیں کہ امریکااورایران کے درمیان تنازع محض چند نکات کااختلاف نہیں،بلکہ نظریات، مفادات، طاقت اورتاریخ کاایک ایساپیچیدہ امتزاج ہے،جس کے بوجھ کاتصادم بالخصوص مشرقِ وسطی اوربالعموم ساری دنیا کو تباہی کے کنارے پرلاکھڑاکیاہے اوراب تومشرقِ وسطی کے عوام بھی برملاکہہ رہے ہیں کہ امریکا اس خطے میں اسرائیل کی بالا دستی کے لئے ہمارے وسائل کوبھی لوٹ رہاہے۔یہ ایک ایسی داستان ہے جس کاہرباب نئے سوالات کوجنم دیتاہے،اورہرکوشش کے باوجوداس کا انجام ابھی تک تحریرنہیں ہوسکا۔یہ ایک ایسی گرہ ہے جسے کھولنے کے لئے صرف سفارت کاری نہیں،بلکہ اعتماد، بصیرت اوروقت تینوں کی ضرورت ہے۔
یہ تمام ترمنظرنامہ ایک تلخ حقیقت کوبے نقاب کرتاہے کہ دنیاآج بھی طاقت کے توازن کی بنیادپرچل رہی ہے،انصاف اورانسانیت کے اصول ابھی تک عملی دنیامیں مکمل طورپرنافذ نہیں ہوسکے۔یہ تنازعات،یہ جنگیں،یہ سفارتی کشمکشیں یہ سب دراصل اس بات کا ثبوت ہیں کہ انسان ابھی تک اپنی فطری درندگی سے مکمل طورپر نجات حاصل نہیں کرسکا۔مگرسوال یہ ہے کہ آخرکب تک؟کب تک انسانیت کے نام پر انسانوں کے خون سے کھیل کھیلا جاتا رہے گا؟کب تک معصوم جانیں طاقت کے ایوانوں کی نذرہوتی رہیں گی؟اورکب تک امن کی آوازکوبارود کی گھن گرج میں دبایاجاتارہے گا؟
دنیاکی امن پسندقوتوں کے لئے یہ ایک لمحہ آزمائش ہے۔اگرآج بھی وہ خاموش رہیں،توتاریخ انہیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔وقت کاتقاضا ہے کہ وہ میدانِ عمل میں آئیں،اورایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کران ظالم اورجارح قوتوں کے سامنے کھڑی ہو جائیں جواپنے مفادات کے لئے پوری دنیاکوتباہی کے دہانے پرلے آئی ہیں۔امن کوئی کمزوری نہیں،بلکہ سب سے بڑی طاقت ہے۔یہ وہ قوت ہے جوقوموں کو جوڑتی ہے،تہذیبوں کوپروان چڑھاتی ہے اور انسانیت کو بقاء عطاکرتی ہے۔اس کے برعکس جنگ ایک ایسی آگ ہے جونہ صرف دشمن کوبلکہ خوداپنے وجودکوبھی جلاڈالتی ہے۔اس لیے ضروری ہے کہ عالمی برادری محض بیانات اورقراردادوں تک محدود نہ رہے،بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے ان قوتوں کا سدباب کرے جودنیاکوایک نئے عالمی المیے کی طرف دھکیل رہی ہیں۔یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ جب تک مفادات کی سیاست کواصولوں کی سیاست پرفوقیت حاصل رہے گی، تب تک امن ایک خواب ہی رہے گا۔اس خواب کوحقیقت میں بدلنے کے لئے ضروری ہے کہ عالمی نظام کوانصاف،مساوات اورباہمی احترام کی بنیادوں پراستوارکیا جائے۔
آج انسانیت ایک دوراہے پرکھڑی ہے،ایک راستہ جنگ،تباہی اوربربادی کی طرف جاتاہے،جبکہ دوسرا امن،استحکام اوربقاکی طرف،انتخاب ہمیں کرنا ہے۔ اگرہم نے آج بھی خاموشی اختیارکی،توکل تاریخ ہمارے بارے میں یہی لکھے گی کہ جب دنیاجل رہی تھی،ہم تماشائی بنے بیٹھے تھے۔پس، وقت کی پکاریہی ہے کہ انسانیت کے علمبرداراٹھیں،ظلم کے خلاف آواز بلند کریں،اوراس دنیاکوایک بارپھرامن کا گہوارہ بنانے کے لئے اپنی ذمہ داری اداکریں کیونکہ اگرآج ہم نے انسانیت کونہ بچایا،توکل شاید انسانیت ہمیں بچانے کے لئے موجود نہ ہو۔
فی الحال،یہ کشتی بیچ منجدھارمیں سیاست کے طوفانی سمندرمیں ہچکولے کھارہی ہے،اورساحل ابھی نگاہوں سے دوراوراوجھل توقعات اورامیدوں کے دم توڑنے کاپتہ دے رہاہے مگرپھر بھی کچھ غیبی ہاتھ انسانیت کی بقاء کے لئے مسیحائی کاکردارادا کر رہے ہیں اورعالمی طورپرپاکستان پرسب کی نگاہیں اٹکی ہوئی ہیں کہ کب دائمی جنگ بندی کی نامکمل داستان مکمل ہو کر دنیامیں امن کاپیام بن کرابھرے۔