یہ ایک کہانی ہے ایک ایسے ملک کی ہے جو ہر دن اپنے اندر سے ٹوٹ رہا ہے اور پھر بھی خود کو مضبوط سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کہانی میں کوئی افسانہ نہیں بلکہ وہ حقیقت ہے جو روز اخبار کی سرخیوں میں چھپ کر بھی چیخ رہی ہوتی ہے۔ اس کہانی کا آغاز اس لمحے سے ہوتا ہے جب وزیر داخلہ محسن نقوی نے تاجروں کے سامنے کھڑے ہو کر ایک ایسا جملہ کہا جس نے پورے معاشی منظر نامے کو ہلا کر رکھ دیا۔ انہوں نے کہا کہ دو تین لوگ اٹھا لیں تو پتہ چل جائے گا کہ پاکستان کا سو ارب ڈالر کیسے باہر گیا۔ یہ جملہ بظاہر ایک دھمکی آمیز بیان تھا مگر اس کے اندر ایک پورے نظام کی بے بسی چھپی ہوئی تھی۔ یہ وہ لمحہ تھا جب ریاست نے پہلی بار اپنے اندر کے زخم کو لفظوں میں تسلیم کیا مگر اس تسلیم کے ساتھ کوئی علاج سامنے نہیں آیا۔یہ ملک برسوں سے ایک ایسے سفر پر ہے جہاں راستے واضح نہیں اور منزلیں دھند میں چھپی ہوئی ہیں۔ سو ارب ڈالر کا ملک سے باہر جانا صرف ایک مالی نقصان نہیں بلکہ ایک پورے اعتماد کا جنازہ ہے۔ یہ وہ سرمایہ تھا جو فیکٹریوں میں زندگی بن سکتا تھا جو کھیتوں میں خوشحالی لا سکتا تھا جو شہروں میں روزگار کے دروازے کھول سکتا تھا مگر وہ سب امکانات خاموشی سے سرحد پار چلے گئے۔ یہ کوئی ایک دن کا حادثہ نہیں تھا بلکہ برسوں کے فیصلوں اور غلطیوں کا نتیجہ تھا جنہوں نے آہستہ آہستہ اس معیشت کو کمزور کر دیا۔جب کسی ملک میں کاروبار کو شک کی نظر سے دیکھا جانے لگے جب پالیسی ہر کچھ مہینوں بعد بدل جائے جب ٹیکس کا بوجھ غیر متوقع ہو جائے اور جب توانائی کی قیمتیں کسی بھی وقت بدلنے لگیں تو وہاں سرمایہ ٹھہر نہیں سکتا۔
سرمایہ جذباتی نہیں ہوتا وہ صرف ماحول دیکھتا ہے اور اگر ماحول غیر یقینی ہو جائے تو وہ خاموشی سے وہاں سے نکل جاتا ہے۔ یہی خاموشی آج پاکستان کی معیشت کی سب سے بڑی آواز بن چکی ہے۔ٹیکسٹائل انڈسٹری اس پوری کہانی کا سب سے دردناک باب ہے۔ یہ وہ شعبہ تھا جس نے کبھی پاکستان کو پہچان دی تھی اور زرمبادلہ کا سب سے بڑا ذریعہ تھا۔ آج وہی صنعت خاموشی سے زوال کا شکار ہے۔ فیکٹریاں بند ہو رہی ہیں مشینیں رک رہی ہیں مزدور بے روزگار ہو رہے ہیں اور صنعتکار اپنے مستقبل کو بچانے کے لئے اپنے سرمایہ کو بیرون ملک منتقل کر رہے ہیں۔ یہ صرف صنعت کا زوال نہیں بلکہ ایک پورے معاشی اعتماد کا خاتمہ ہے۔ریاست کا کردار اس کہانی میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ ریاست کبھی سہارا بننے کی کوشش کرتی ہے کبھی دبا کا ذریعہ بن جاتی ہے اور کبھی غیر یقینی کا ایسا ماحول پیدا کرتی ہے جس میں کاروبار سانس نہیں لے پاتا۔ یہی غیر یقینی سرمایہ کار کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہوتی ہے کیونکہ سرمایہ استحکام چاہتا ہے نہ کہ ردعمل پر مبنی فیصلے۔ جب فیصلے مستقل مزاج نہ ہوں تو سرمایہ اپنا راستہ بدل لیتا ہے اور یہی کچھ آج اس ملک میں ہو رہا ہے۔سو ارب ڈالر کا انخلا کسی ایک وجہ کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک پورے نظام کی کمزوری کا عکس ہے۔ اس میں پالیسیوں کی غیر مستقل مزاجی بھی شامل ہے اداروں کی کمزوری بھی اور سیاسی عدم استحکام بھی۔ یہ تمام عوامل مل کر ایک ایسا ماحول بناتے ہیں جس میں سرمایہ خود کو غیر محفوظ محسوس کرتا ہے۔اگر اس رقم کا موازنہ ملک کے دفاعی اخراجات سے کیا جائے تو صورتحال اور زیادہ سنگین نظر آتی ہے۔ یہ سرمایہ دفاعی بجٹ سے کئی گنا زیادہ ہے۔ اگر یہ سرمایہ ملک میں رہتا تو نہ جانے کتنے ڈیم بنتے نہ جانے کتنے اسپتال قائم ہوتے نہ جانے کتنے تعلیمی ادارے کھلتے اور نہ جانے کتنے نوجوانوں کو روزگار ملتا۔ مگر یہ سب امکانات اب صرف ایک خواب بن کر رہ گئے ہیں۔حکومت کی طرف سے یہ کہنا کہ کچھ سرمایہ واپس آیا ہے بظاہر ایک مثبت خبر لگتی ہے مگر حقیقت میں یہ اس بڑے نقصان کے مقابلے میں بہت معمولی ہے۔ یہ ایسے ہے جیسے کسی گہرے زخم پر وقتی مرہم رکھ دیا جائے اور سمجھا جائے کہ مریض ٹھیک ہو گیا ہے۔ لیکن زخم اپنی جگہ موجود رہتا ہے اور درد اپنی شدت کے ساتھ باقی رہتا ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اعتماد کو دوبارہ بنانا صرف اعداد و شمار سے ممکن نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے ایک طویل اور سنجیدہ عمل درکار ہوتا ہے۔
آج پاکستان سے صرف بیرونی سرمایہ نہیں جا رہا بلکہ اندرونی سرمایہ بھی غیر محفوظ ہو چکا ہے۔ کاروباری طبقہ اپنے بچوں کو بیرون ملک منتقل کر رہا ہے اپنے اثاثے محفوظ مقامات پر لے جا رہا ہے اور خود ذہنی طور پر اس ملک سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ یہ سب خاموشی سے ہو رہا ہے مگر اس کے اثرات بہت گہرے ہیں۔ یہ صرف معیشت کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک پورے سماج کی نفسیاتی کیفیت کا مسئلہ ہے۔ریاست اور کاروبار کے درمیان فاصلہ بڑھتا جا رہا ہے۔ ریاست فیصلے کرتی ہے اور کاروبار ان فیصلوں کے نتائج بھگتتا ہے۔ ریاست اعلان کرتی ہے اور سرمایہ اس اعلان کے جواب میں ملک چھوڑ دیتا ہے۔ یہ ایک ایسا چکر ہے جو بار بار دہرا رہا ہے اور ہر بار پہلے سے زیادہ نقصان چھوڑ جاتا ہے۔اس کہانی میں سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا یہ سب اتفاق ہے یا ایک مسلسل پالیسی کا نتیجہ ہے۔ اس سوال کا جواب آسان نہیں کیونکہ حقیقت بہت پیچیدہ ہو چکی ہے۔ لیکن ایک حقیقت بہت واضح ہے کہ سرمایہ وہاں رہتا ہے جہاں اسے تحفظ ملے جہاں اسے عزت ملے اور جہاں اسے یقین ہو کہ کل آج سے بہتر ہوگا۔ملک میں امن و امان کی صورتحال انتہائی کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ عام شہری ہو یا کاروباری طبقہ سب ایک غیر یقینی اور خوف کے ماحول میں زندگی گزار رہے ہیں۔ سڑکوں پر عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے اور اداروں پر اعتماد کمزور ہو چکا ہے۔ لوگ اپنے مستقبل کے بارے میں سوچتے ہوئے بھی پریشان ہیں کیونکہ انہیں اپنی جان اور مال دونوں کے بارے میں کوئی واضح تحفظ نظر نہیں آتا۔ معاشرے میں ایک عمومی بے چینی پھیل چکی ہے جو روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔دوسری طرف ریاستی اداروں کا کردار بھی سوالات کی زد میں ہے۔ ایف آئی اے ایف بی آر اور نیب جیسے اداروں کو اس قدر کھلی کارروائی کی اجازت ملی ہوئی ہے کہ کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں اور سرمایہ کاری رک چکی ہے۔ سرمایہ کار اس ماحول میں خود کو محفوظ نہیں سمجھتے اسی لیے سرمایہ ملک کے اندر رہنے کے بجائے بیرون ملک منتقل ہو رہا ہے۔ یہاں نہ قانونی تحفظ مضبوط ہے نہ مالی استحکام اور نہ ہی سیاسی اور اخلاقی اعتماد باقی رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معیشت جمود کا شکار ہے اور اعتماد کا بحران مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے۔یہ یقین آج پاکستان میں کمزور ہوتا جا رہا ہے اور یہی اس کہانی کا سب سے بڑا المیہ ہے۔ اگر اس ملک نے وقت پر اپنے فیصلے نہ بدلے اگر اس نے اعتماد بحال نہ کیا تو یہ کہانی مزید طویل ہو جائے گی اور نقصان مزید گہرا ہو جائے گا۔