Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

سیاست برائے خدمت یا انتشار

سیاست برائے خدمت کا تصور ہماری سیاست سے ناپید ہو چکا ہے۔مطالعہ کریں تو سیاست کی تاریخ قدیم یونانی ریاستوں (ایتھنز)سے شروع ہو کر جدید دور کی پارلیمانی سیاست،ڈکٹیٹر شپ اور بادشاہت پر محیط ہے۔سیاست کا یہ ارتقائی سفر ریاست،سیاست نظریات اور اسلامی و مغربی حکومتوں کے گرد گھومتا ہے۔جس میں اقتدار کی تقسیم اور عوامی حقوق بنیادی موضوعات رہے ہیں۔قدیم دور میں سیاست کی ابتدا یونانی فلسفیوں (ارسطو،افلاطون)کے نظریات سے ہوئی جہاں ایتھنز میں جمہوریت کا تصور پیش کیا گیا۔یہ وہ دور تھا جب ہر طرف ایک ریاست کے تناظر میں خلافت اور مسلم بادشاہت کا تصور غالب تھا۔اس دورِ سیاست میں اسلامی قوانین اور خلافت کے مسلمہ اصولوں پر زور دیا گیا۔جبکہ قدیم دور کے برعکس اس جدید دور میں جمہوری سیاست کے تحت شخصی آزادی اور انفرادی حقوق پر مبنی نظام ہمارے سامنے آتا ہے۔جبکہ سیاست کی اس تاریخ میں بڑے پیمانے پر بہت سی تبدیلیاں مشاہدے میں آتی ہیں۔تاریخی تناظر میں سیاسی تصورات کا جائزہ لیں تو ریاست وہ ہوتی ہے جہاں کوئی ملت منظم ہو کر کسی ایک علاقے پر حکومت کرتی ہے جبکہ معاشرے میں کام کرنے کے اصول اور عقائد اس کے سیاسی نظریات پر محیط ہوتے ہیں۔اقوامِ عالم کے سلامتی کے ادارے اقوام متحدہ کا ارتقا بھی بین الاقوامی سیاسی نظریات کے تحت ہی ہوا۔سیاست (Politics) کا لفظ ساس سے نکلا ہے جو یونانی زبان کا لفظ ہے۔اس کے معنی شہر یا شہر نشین کے ہیں۔
قرآن کریم میں اگرچہ سیاست کا لفظ کہیں نہیں ملتا۔تاہم ایسی بہت سی آیتیں موجود ہیں جو سیاست کے مفہوم کو واضح کرتی ہیں۔قرآن کا بیشتر حصہ موضوعِ سیاست پر محیط ہے لہٰذا سیاست اور اسلام لازم و ملزوم ہیں۔دین صرف عبادات کا ہی نام نہیں،بلکہ انسانی زندگی کے تمام معاملات بشمول معاشرتی،قانونی اور حکومتی امور میں رہنمائی کرتا ہے۔اسلامی سیاست کا بنیادی مقصد عدل و انصاف کا قیام اور فتنہ و فساد کاخاتمہ ہے۔یہ نظام شریعت کے اصولوں کے تحت چلتا ہے۔اسلام،دین اور سیاست کو الگ نہیں کرتا،بلکہ ایک مکمل ضابطہ حیات پیش کرتا ہے۔جو معاشرے کی اصلاح پر مبنی ہے۔عدل و انصاف اسلامی ریاست کا سب سے اہم اور رہنما اصول ہے جہاں کسی حکمران کو ظلم سے روکنا ضروری ہے۔وہاں مظلوم کی دادرسی کرنا بھی ضروری ہے۔اسلامی سیاست کی بنیاد مشاورت (شوریٰ) پر رکھی گئی ہے۔جس میں اہل علم اور منتخب عوامی نمائندوں سے رائے لی جاتی ہے۔مجموعی طور پر اسلام میں سیاست،عبادت کا ایک حصہ ہے جس کا مقصد دنیا میں عدل و انصاف قائم کر کے آخرت کی کامیابی حاصل کرنا ہے۔اسلام عوامی فلاح پر مبنی سیاسی نظام پیش کرتا ہے۔یہ حکمرانی کو امانت سمجھتا ہے۔جہاں کوئی بھی حکمران قرآن و سنت کے تابع رہ کر عوام کی خدمت کا پابند ہوتا ہے۔نظم،انسان کی اجتماعی اور سماجی ضرورت ہے۔پوری کائنات پر اقتدارِ اعلیٰ صرف اللہ کا ہے جبکہ اختیارات کا استعمال ایک مقدس امانت ہے۔ریاستی طاقت اور اختیار کا استعمال عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے کیا جاتا ہے۔پاکستان کو بنے 78 سال ہو گئے لیکن وقت اور تاریخ سے ہم کوئی سبق نہ سیکھ سکے۔قائد اعظم نے تقسیم ہند کے بعد پاکستان میں عدل و انصاف، سچ، ایمانداری و دیانت داری پر،جس سیاست کی بنیاد رکھی، ہم اس کی حفاظت نہ کر پائے۔یہی وجہ ہے کہ اتنی دہائیاں گزر جانے کے بعد بھی سیاست دان ایک دوسرے سے دست و گریبان ہیں۔یہی وجہ ہے کہ لوگ سیاست اور سیاستدانوں کے رویوں سے آج شاکی اور سخت نالاں ہیں۔اگرچہ پاکستان میں رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں کی تعداد کافی زیادہ ہے لیکن چار،پانچ ہی ایسی سیاسی جماعتیں ہیں جو جماعت ہونے کا درجہ رکھتی ہیں۔خاصی تعداد میں نیشنل اسمبلی اور سینیٹ کی نشستیں حاصل کر لیتی ہیں۔پاکستان کی ساری سیاست صرف انہی دو تین جماعتوں کے گرد گھومتی ہے جس میں خاص طور پر پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف شامل ہیں۔گو کہ ایم کیو ایم،نیشنل عوامی پارٹی، جمعیت علماء اسلام بھی اہم جماعتیں ہیں لیکن یہ صرف نظریاتی،علاقائی اور مذہبی بنیادوں پر ہی سیاست میں سرگرم نظر آتی ہیں۔کوئی احتجاج کرنا ہو،کسی مہم کا حصہ بننا ہو،ریلیوں کی صورت میں یہ اپنی طاقت کا اظہار کرتی ہیں۔رہی بات پاکستان تحریک انصاف یعنی پی ٹی آئی کی تو آج کل اس پر برے دن ہیں۔منتشر اور بہت سی مشکلوں کا شکار ہے۔
سیاست کی بے رحمی دیکھئے کہ ایک بڑی جماعت ہونے کے باوجود ان دنوں کھڈے لائن لگی ہوئی ہے۔بہت سے اہم اور سینئر رہنما پابند سلاسل ہیں یا زیر زمین چلے گئے ہیں۔خود بانی دو سال سے بھی زیادہ عرصے سے جیل کاٹ رہے ہیں۔بہت سے مشکل وقت پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن)پر بھی آئے لیکن دونوں جماعتوں نے استقامت اور بڑی دلیری کے ساتھ حالات کا مقابلہ کیا لیکن کبھی ریاست مخالف بیانیہ نہیں دیا۔نہ ریاست پر چڑھ دوڑے۔یہی وہ واضح فرق ہے جو پی ٹی آئی کو دوسری پارٹیوں سے نیچا ظاہر کرتا ہے۔سیاست ملک میں بہتری لانے کے لیئے ہونی چاہیئے نا کہ انتشار پھیلانے کے لیئے۔ایسی غیر منطقی سیاست کا کیا فائدہ جو آپ ہی کے لئے مشکلات کھڑی کر دے۔جماعت کا شیرازہ بکھرنے لگے اور وہ منتشر نظر آئے۔پی ٹی آئی نے سیاست میں جو غیر مہذبانہ رویہ اور زبان اختیار اور استعمال کی،خود ان کے لئے وبالِ جان بن گئی ہے۔ اسٹیبشلمنٹ سے دوری اور ٹکرا نے پی ٹی آئی کو سیاست کی مشکل راہوں پر ڈال دیا ہے۔پارٹی کے وہ رہنما،جو معتدل رویہ رکھتے ہیں۔جن کی گفتگو میں ہمیشہ اعتدال ہوتا ہے۔سیاست کا عمیق اور گہرا مطالعہ رکھتے ہیں۔ بخوبی جانتے ہیں سیاست میں کیا طرزِ عمل اختیار کیا جائے کہ آپ کی پذیرائی ہو اور آنے والی دہائیوں میں آپ ایک بڑے لیڈر اور بڑی جماعت بن جائیں۔ لوگ کہتے ہیں اب بھی سنبھلنے کا وقت ہے۔لیکن میرا خیال ہے وہ وقت شاید کبھی نہ آئے جو بانی کو پہلے والی پذیرائی دے سکے۔انہوں نے نوجوانوں کو جو شعور دیا امت اور آنے والی نسلوں کے لیئے وہ بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔قوم کو گمراہی کا راستہ دکھایا۔سیاست کو گالی گلوچ کا منبع بنا دیا۔تاریخ کے اوراق پر یہی لکھا ہے۔ایسے لوگوں کا انجام بالآخر وہی ہوتا ہے جو ہم آج پی ٹی آئی اور بانی پی ٹی آئی کا ہوتا دیکھ رہے ہیں۔اپنے ابتدائیے میں کہا تھا سیاست خدمت کا نام ہے۔سیاست کو اسی وژن کے تحت انجام دینا چاہئیے۔اسے تماشا بننا یا بنانا نہیں چاہیئے۔پی ٹی آئی میں موجود معتدل مزاج لوگوں کو معقولیت کے ساتھ سوچنا چاہیئے کہ ہمیں اب کیا کرنا ہے؟ ملک میں سیاست ہر ایک کا حق ہے۔لیکن سیاست کو سیاست ہی کی طرح ہونا چاہیے۔بصورت دیگر کسی کا انجام بخیر نہیں ہو سکتا۔

یہ بھی پڑھیں