Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

بے بسی کی چیخیں

قوموں کے عروج و زوال کی داستانیں صرف مادی وسائل کی فراوانی یا عسکری قوت کے بل بوتے پر نہیں لکھی جاتیں بلکہ ان کے پیچھے وہ قومی غیرت اور خودمختاری کا جذبہ کارفرما ہوتا ہے جو کسی بھی جبر کے سامنے سر جھکانے سے انکار کر دے۔ آج مشرقِ وسطیٰ کی بساط پر جو صورتحال نظر آ رہی ہے وہ اسی قدیم کشمکش کا ایک جدید ایڈیشن ہے جہاں ایک طرف وقت کی فرعونی طاقت اپنی تمام تر سفارتی ریشہ دوانیوں اور معاشی ہتھکنڈوں کے ساتھ کھڑی ہے اور دوسری طرف ایران جیسا ملک ہے جس نے ثابت کر دیا ہے کہ اگر عزم راسخ ہو تو عالمی طاقتوں کے غرور کا بت پاش پاش کیا جا سکتا ہے۔ یہ کہنا ہرگز مبالغہ نہیں ہوگا کہ تہران نے اپنی پالیسیوں اور استقامت سے واشنگٹن کے ایوانوں میں وہ کھلبلی مچائی ہے کہ اب وہاں سے صرف بے بسی کی چیخیں ہی سنائی دے رہی ہیں۔امریکہ کی جانب سے سیز فائر معاہدے میں حالیہ توسیع کی پیشکش کو اگر گہرائی سے دیکھا جائے تو یہ کوئی خیر سگالی کا جذبہ یا عالمی امن کی تڑپ نہیں ہے بلکہ یہ صدر ٹرمپ کی اس بوکھلاہٹ کا شاخسانہ ہے جو انہیں اسلام آباد مذاکرات کے تناظر میں درپیش ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں اسے اپنی گرتی ہوئی ساکھ بچانے کے لیے کسی معجزے یا کسی ایسی فیس سیونگ کی ضرورت ہے جو انہیں دنیا کے سامنے مکمل شکست خوردہ ثابت نہ ہونے دے۔
اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ رابطے دراصل امریکی ڈپلومیسی کی وہ آخری کوشش تھے جس کے ذریعے وہ ایران کو اپنی شرائط پر لانے کا خواب دیکھ رہے تھے مگر تہران کے آہنی عزم نے ان تمام خوابوں کو چکنا چور کر دیا ہے۔ جب کوئی ریاست اپنی بقاء اور خودمختاری کا سودا کرنے سے انکار کر دیتی ہے تو پھر بڑے بڑے اتحاد اور سپر پاورز کے دعوے ریت کی دیوار ثابت ہوتے ہیں۔ایران نے جس طرح امریکی شرائط کو مسترد کیا ہے وہ دراصل اس کی اس طویل جدوجہد کا ثمر ہے جو اس نے دہائیوں سے جاری پابندیوں کے سائے میں گزاری ہے۔ یہ وہی خودمختاری ہے جس کا درس تاریخ کے عظیم مصلحین نے دیا ہے کہ جیو تو ایسے جیو کہ دشمن بھی تمہاری ہمت کی داد دینے پر مجبور ہو جائے۔ امریکہ سمجھتا تھا کہ معاشی حصار کے ذریعے وہ ایرانی قیادت کو گھٹنوں کے بل لے آئے گا اور پھر اپنی مرضی کے معاہدے مسلط کر دے گا لیکن اسے یہ اندازہ نہیں تھا کہ تیرہ سو سالہ انقلابی ورثہ رکھنے والی قوم کو بھوک اور پیاس سے نہیں ڈرایا جا سکتا۔ ایران کا یہ دو ٹوک موقف کہ وہ کسی بھی ایسی شرط کو تسلیم نہیں کرے گا جو اس کی قومی سالمیت کے خلاف ہو ایک ایسا طمانچہ ہے جس کی گونج تادیر وائٹ ہائوس کی راہداریوں میں سنائی دیتی رہے گی۔صدر ٹرمپ کی سیاست ہمیشہ سے دھونس اور سودے بازی کے گرد گھومتی رہی ہے مگر اس بار ان کا پالا ایک ایسی دیوار سے پڑا ہے جس میں دراڑ ڈالنا ان کے بس کی بات نہیں۔ وہ چاہتے تھے کہ اسلام آباد مذاکرات کی میز کو اپنی انتخابی مہم یا بین الاقوامی ساکھ کے لئے ایک ڈھال کے طور پر استعمال کریں لیکن ایران نے ان کے ہاتھ میں کوئی ایسا کارڈ نہیں چھوڑا جسے وہ اپنی کامیابی کے طور پر پیش کر سکیں۔ امریکی صدر کی بے چینی اس بات سے عیاں ہے کہ وہ بار بار سیز فائر اور رعایتوں کی بات کر رہے ہیں حالانکہ یہی وہ شخص ہے جو کچھ عرصہ قبل ایران کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی دھمکیاں دیتا تھا۔ یہ تبدیلی ایران کی اس سفارتی اور دفاعی حکمت عملی کی جیت ہے جس نے امریکہ کو دفاعی پوزیشن پر آنے پر مجبور کر دیا۔ایران کی اس جرات مندی پر اسے جتنی بھی شاباش دی جائے وہ کم ہے کیونکہ آج کے مصلحت پسند دور میں جہاں بڑی بڑی ریاستیں محض چند ڈالروں کے عوض اپنی پالیسیاں بدل لیتی ہیں وہاں ایک ملک کا اپنی زمین اور اپنے اصولوں پر ڈٹ جانا کسی کرشمے سے کم نہیں۔ ایران نے یہ پیغام پوری دنیا بالخصوص مسلم امہ کو دیا ہے کہ حقیقی طاقت واشنگٹن یا لندن کے محلوں میں نہیں بلکہ اللہ پر توکل اور عوامی تائید میں ہوتی ہے۔
امریکہ کی چیخیں اس بات کی گواہی دے رہی ہیں کہ اب وہ زمانہ گیا جب بحری بیڑے بھیج کر حکومتیں بدلی جاتی تھیں یا شرائط منوائی جاتی تھیں۔ اب دنیا ایک نئے عالمی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں مزاحمت کی اپنی ایک زبان ہے اور اس زبان کا سب سے معتبر لہجہ اس وقت ایران کا ہے۔ایران کی قیادت بالخصوص سپریم لیڈر مجتبیٰ علی خامنہ ای نے دہائیوں سے جاری عالمی پابندیوں اور شدید سفارتی و عسکری دبا کے باوجود اپنے نظریات اور قومی مفادات پر سمجھوتہ نہ کرنے کی ایک منفرد تاریخ رقم کی ہے۔ ان کے فیصلے محض وقتی سیاست نہیں بلکہ ایک گہری سٹریٹجک سوچ اور اسلامی مزاحمت کے فلسفے کی عکاسی کرتے ہیں۔ نامساعد حالات اور عالمی طاقتوں کی دھمکیوں کے سامنے سینہ سپر ہونا اور اپنی خود مختاری کا دفاع کرنا ان کی قیادت کا وہ خاصہ ہے جسے ان کے مخالفین بھی نظر انداز نہیں کر سکتے۔ ان کی ثابت قدمی نے ایران کو علاقائی سیاست میں ایک ناقابلِ تسخیر قوت کے طور پر ابھارا ہے۔مغربی دنیا کی جانب سے لگائی گئی سخت ترین اقتصادی پابندیوں اور زیادہ سے زیادہ دباو کی پالیسی کے جواب میں ایران کی قیادت نے جس جرات کا مظاہرہ کیا وہ ان کی سیاسی بصیرت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ سپریم لیڈر کی ہدایت پر مزاحمتی معیشت کا تصور ہو یا دفاعی شعبے میں خود کفالت ہر قدم پر انہوں نے یہ پیغام دیا کہ وہ کسی بھی بیرونی طاقت کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کریں گے۔ مسلسل دھمکیوں کے سائے میں ایٹمی پروگرام کو جاری رکھنا اور خطے میں اپنی موجودگی کو برقرار رکھنا ان کے اس غیر متزلزل عزم کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنی زمین اور اصولوں کی حفاظت کے لیے آخری حد تک جانے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔اس پورے منظرنامے میں ایک بات واضح ہو کر سامنے آئی ہے کہ خودداری کی قیمت تو چکانی پڑتی ہے مگر اس کا صلہ مستقل وقار کی صورت میں ملتا ہے۔ ایران نے ثابت کر دیا کہ وہ عالمی تنہائی قبول کر سکتا ہے معاشی مشکلات جھیل سکتا ہے لیکن اپنے اسلاف کی دی ہوئی غیرت کا سودا نہیں کر سکتا۔ امریکہ کی تمام تر لفاظی اور سیز فائر کے بہانے دراصل اس کی اس تھکاوٹ کا اظہار ہیں جو اسے ایران کے خلاف طویل بے سود مہم جوئی کے بعد لاحق ہوئی ہے۔ اب یہ طے ہے کہ مستقبل قریب میں امریکہ کو مشرق وسطیٰ میں اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنی پڑے گی کیونکہ ایران نے یہ باور کرا دیا ہے کہ اسے دیوار سے لگانا اب کسی کے بس میں نہیں۔ تہران کا یہ سر فخر سے بلند رکھنا اور امریکی شرائط کو پاں تلے روندنا ہی وہ فتح ہے جس کی تمنا ہر مظلوم قوم کرتی ہے۔ ایران نے واقعی ثابت کر دیا کہ وہ ایک زندہ اور جاوید قوم ہے جو طوفانوں کا رخ موڑنے کا ہنر جانتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں