Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

سفید پوشی کا بھرم اور مہنگائی کا نوحہ

کسی بھی معاشرے کی اصل بنیاد اس کا متوسط طبقہ یعنی مڈل کلاس ہوتا ہے جو نہ تو محلوں کی رنگینیوں میں گم ہوتا ہے اور نہ ہی خیرات کی لائنوں میں کھڑا نظر آتا ہے بلکہ یہ وہ طبقہ ہے جو اپنی محنت تعلیم اور سفید پوشی کے بھرم سے ریاست کے پہیے کو رواں رکھتا ہے۔ لیکن آج کے پاکستان کے معاشی منظرنامے پر نظر دوڑائیں تو ایک ہولناک حقیقت سامنے آتی ہے کہ مہنگائی کے بے رحم طوفان نے اس متوسط طبقے کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ معاشرہ بڑی تیزی سے ایک ایسی خلیج کی طرف بڑھ رہا ہے جہاں درمیان کا راستہ ختم ہوتا جا رہا ہے اور ہم محض دو حصوں یعنی انتہائی امیر اور انتہائی غریب میں تقسیم ہو رہے ہیں۔ یہ تقسیم محض اعداد و شمار کی نہیں بلکہ ایک زندہ جاوید انسانی المیے کی داستان ہے جو ہر گلی ہر محلے اور ہر گھر میں لکھی جا رہی ہے۔سفید پوش طبقہ ہمیشہ سے اپنی انا اور خودداری کے لیے جانا جاتا ہے جو تنگی کی حالت میں بھی اپنی ضرورت کا اشتہار نہیں بنتا لیکن موجودہ معاشی صورتحال نے اس طبقے سے وہ بھرم بھی چھین لیا ہے۔ مہنگائی کی لہر اب محض ایک معاشی اصطلاح نہیں رہی بلکہ یہ ایک ایسا عفریت بن چکی ہے جو عام آدمی کے خوابوں سکون اور صحت کو نگل رہی ہے۔ جب پٹرول کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں تو اس کا اثر صرف گاڑی رکھنے والے تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ اثر ہر اس چیز تک پہنچتا ہے جو ٹرانسپورٹ کے ذریعے مارکیٹ تک آتی ہے۔ ایک عام سرکاری ملازم یا نجی ادارے میں کام کرنے والا شخص جب اپنی موٹر سائیکل کی ٹینکی بھروانے کے لیے جیب میں ہاتھ ڈالتا ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ اس کی تنخواہ کا ایک بڑا حصہ اب صرف دفتر پہنچنے کی نذر ہو رہا ہے۔ یہ معاشی ناہمواری نہیں تو اور کیا ہے کہ ایک طرف پروٹوکول والی لمبی گاڑیاں شاہراہوں پر دندناتی پھرتی ہیں اور دوسری طرف ایک باپ اپنے بچے کوسکول چھوڑنے کے لیے پٹرول کے پیسے بچانے کی خاطر میلوں پیدل چلنے پر مجبور ہے۔
بجلی کے بلوں کا مسئلہ بھی ایک قومی المیہ بن چکا ہے جس نے مڈل کلاس گھرانوں کے بجٹ کو مکمل طور پر تہہ و بالا کر دیا ہے۔ وہ گھرانے جو کبھی ماہانہ بنیادوں پر کچھ نہ کچھ بچت کر لیا کرتے تھے اب اس فکر میں دبلے ہو رہے ہیں کہ آیا وہ بچوں کی سکول فیس ادا کریں یا بجلی کا بل بھر کر اندھیروں سے بچیں۔ بجلی کے بل میں شامل ٹیکسوں کی بھرمار نے عام آدمی کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ وہ بجلی استعمال کرنے کی قیمت ادا کر رہا ہے یا ریاست کی نااہلیوں کا تاوان بھر رہا ہے۔ جب ایک سفید پوش شخص اپنے خون پسینے کی کمائی کا نصف حصہ صرف یوٹیلیٹی بلوں کی نذر کر دیتا ہے تو اس کے اندر موجود ریاست پر اعتماد کا رشتہ ٹوٹنے لگتا ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جو نہ تو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسی امداد کا حقدار ٹھہرتا ہے اور نہ ہی اس کے پاس اتنے وسائل ہوتے ہیں کہ وہ بڑھتی ہوئی قیمتوں کا مقابلہ کر سکے۔معاشرے کی یہ دو حصوں میں تقسیم ایک خاموش انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ جب متوسط طبقہ ختم ہوتا ہے تو معاشرے سے دانش اعتدال اور توازن بھی رخصت ہو جاتا ہے۔ اشرافیہ اپنے بند محلوں میں بیٹھ کر مہنگائی کے اس شور سے بے نیاز ہے کیونکہ ان کی دولت اور اثاثے عالمی منڈیوں سے جڑے ہوئے ہیں جبکہ غریب طبقہ کسی نہ کسی صورت امداد یا صدقات کے سہارے جینے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس سب کے درمیان پستا ہوا مڈل کلاس وہ ہے جو اپنی ضرورت بتاتے ہوئے شرماتا ہے اور چھپاتے ہوئے مرتا ہے۔ اس طبقے کی روزمرہ کی جدوجہد اب محض بہتر زندگی کی خواہش نہیں رہی بلکہ یہ محض زندہ رہنے کی ایک اذیت ناک کوشش بن کر رہ گئی ہے۔ کچن کے اخراجات میں کٹوتی، دودھ اور گوشت جیسی بنیادی اشیا کا دسترخوان سے غائب ہونا اور بیماری کی صورت میں ادویات کے بجائے ٹوٹکوں پر گزارا کرنا اب اس طبقے کا مقدر بن چکا ہے۔انسانی ہمدردی کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ صورتحال دل دہلا دینے والی ہے۔
ایک باپ جب شام کو گھر لوٹتا ہے اور اس کے ہاتھ میں بچوں کے لیے کوئی معمولی سی خوشی لانے کی سکت بھی نہیں ہوتی تو اس کی نظروں میں موجود بے بسی کسی بھی بڑے معاشی بحران سے زیادہ خطرناک ہے۔ ہم ایک ایسے معاشرے کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں احساسِ محرومی نفرتوں کو جنم دے رہا ہے۔ جب ایک نوجوان دیکھتا ہے کہ اس کی قابلیت اور محنت اسے وہ بنیادی سہولیات بھی فراہم نہیں کر سکتیں جو ایک مخصوص طبقے کو وراثت میں ملی ہیں تو اس کے اندر باغیانہ سوچ جنم لیتی ہے۔ یہ معاشی ناہمواری ملک کے مستقبل کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان ہے کیونکہ جس ملک میں مڈل کلاس ختم ہو جائے اس کی ترقی کے تمام دعوے ریت کے گھروندے ثابت ہوتے ہیں۔موجودہ حکومت نے جب اقتدار کی باگ ڈور سنبھالی تھی تو بڑے فخریہ انداز میں یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ ایک سال کے مختصر عرصے میں عوام کو مہنگائی کے بوجھ سے نجات دلا کر ریلیف فراہم کیا جائے گا مگر وقت کے بے رحم پہیے نے یہ ثابت کر دیا کہ یہ دعوے محض سیاسی سراب سے زیادہ کچھ نہ تھے۔ آج صورتحال یہ ہے کہ حکمران طبقے سے لے کر بیوروکریسی اور افسر شاہی تک اشرافیہ کی اپنی مراعات، شاہانہ پروٹوکول اور پرتعیش اخراجات میں تو روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے لیکن دوسری جانب عام آدمی سے جینے کا حق بھی چھین لیا گیا ہے۔ جس عوام کو سہولتیں دینے کے سہانے خواب دکھائے گئے تھے آج وہی عوام آٹے، بجلی اور ادویات جیسی بنیادی ضرورتوں کے لئے بھی ترس رہے ہیں۔ ریاست کے وسائل کا بڑا حصہ مراعات یافتہ طبقے کی آسائشوں کی نذر ہو رہا ہے جبکہ غریب اور متوسط طبقے کو ریلیف کے بجائے آئے روز نت نئے ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبا کر بنیادی انسانی سہولیات سے بھی محروم کر دیا گیا ہے جو کسی بھی جمہوری معاشرے کے لئے ایک بڑے المیے سے کم نہیں۔موجودہ حالات کا تقاضا ہے کہ ریاست اپنی ترجیحات کا ازسرِ نو جائزہ لے اور عام آدمی کو محض اعداد و شمار کی حد تک نہ دیکھے۔ معاشی اصلاحات کا مطلب صرف آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنا نہیں ہونا چاہیے بلکہ ان کا مقصد اس سفید پوش طبقے کو ریلیف دینا ہونا چاہیے جو اس ملک کا اصل بوجھ اٹھائے ہوئے ہے۔ اگر بجلی، پٹرول اور اشیائے خوردونوش کی قیمتیں اسی طرح بے لگام رہیں تو وہ وقت دور نہیں جب معاشرے کا توازن مکمل طور پر بگڑ جائے گا اور پھر اسے سنبھالنا کسی کے بس میں نہیں رہے گا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ایک مستحکم پاکستان کے لیے ایک خوشحال اور مطمئن مڈل کلاس کا ہونا ناگزیر ہے ورنہ یہ امیر اور غریب کی بڑھتی ہوئی خلیج ہمیں کسی بڑے حادثے سے دوچار کر سکتی ہے۔ وقت پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ اس سے پہلے کہ متوسط طبقہ قصہ پارینہ بن جائے ان کے زخموں پر مرہم رکھا جائے اور انہیں ان کی خودداری کے ساتھ جینے کا حق دیا جائے۔ کہ وہ ایک زندہ اور جاوید قوم ہے جو طوفانوں کا رخ موڑنے کا ہنر جانتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں