Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

روشنیاں بحال جیبیں مالا مال

پاکستان کی توانائی کی تاریخ میں ساہیوال کول پاور پلانٹ ایک ایسا باب ہے جسے صرف ایک بجلی گھر کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ منصوبہ دراصل اس سوچ کی علامت تھا جس میں فوری سیاسی کامیابی کو قومی معیشت کی طویل مدتی قیمت پر ترجیح دی گئی۔ اس منصوبے کو ترقی کی علامت بنا کر پیش کیا گیا۔ قوم کو یقین دلایا گیا کہ اب اندھیرے ختم ہوں گے۔ صنعتوں کے پہیے چلیں گے۔ معیشت سانس لے گی اور عوام کو سستی بجلی میسر آئے گی۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہ روشنیاں قومی خزانے کے لئے ایسا بوجھ بن گئیں جن کی قیمت آج بھی عوام اپنے بجلی کے بلوں میں ادا کر رہے ہیں۔ایک ہزار تین سو بیس میگاواٹ کا یہ منصوبہ اس وقت مسلم لیگ ن کے میاں نواز شریف کے دور حکومت میں چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت شروع کیا گیا۔ اس وقت ملک بدترین لوڈشیڈنگ کا شکار تھا۔ شہروں سے دیہات تک عوام بجلی کے عذاب میں مبتلا تھے۔ حکومت پر دبائو تھا کہ فوری طور پر بجلی پیدا کرنے کے منصوبے لگائے جائیں۔ یہی وہ ماحول تھا جس میں ساہیوال کول پاور پلانٹ کو نجات دہندہ بنا کر پیش کیا گیا۔ حکومت نے دعویٰ کیا کہ یہ منصوبہ پاکستان کی تقدیر بدل دے گا۔ مگرافسوس کہ ایسا نہ ہو سکا۔سب سے حیران کن پہلو یہ تھا کہ پاکستان اپنے وسیع تھر کوئلے کے ذخائر رکھنے کے باوجود درآمدی کوئلے پر انحصار کر بیٹھا۔ انڈونیشیا اور جنوبی افریقہ سے کوئلہ منگوانے کا فیصلہ کیا گیا۔ دلیل یہ دی گئی کہ مقامی کوئلہ کم معیار کا ہے اور جدید ٹیکنالوجی کے مطابق نہیں۔ یوں ایک ایسا ماڈل اختیار کیا گیا جس میں ایندھن بھی باہر سے آئے گا۔ زرمبادلہ بھی خرچ ہوگا اور قومی معیشت بھی عالمی منڈی کے رحم و کرم پر رہے گی۔ اس وقت شاید یہ فیصلہ وقتی طور پر آسان محسوس ہوا مگر بعد میں یہی فیصلہ معیشت کے گلے کا پھندا بن گیا۔ساہیوال تک کوئلہ پہنچانے کے لیے الگ ریلوے نظام بنایا گیا۔ ہزاروں ایکڑ زرعی زمین اس منصوبے کی نذر ہوئی۔ ایک زرعی زرخیز علاقے میں کوئلے سے چلنے والا بجلی گھر لگانا خود ماہرین کے لئے سوالیہ نشان تھا۔
ماحولیات کے ماہرین نے خبردار کیا کہ اس سے فضائی آلودگی بڑھے گی۔ زرعی پیداوار متاثر ہوگی اور مقامی آبادی بیماریوں کا شکار ہو سکتی ہے۔ مگر اس وقت کی حکومتی ترقی کے شور میں یہ آوازیں دبا دی گئیں۔اصل مسئلہ صرف پلانٹ کی تعمیر نہیں تھا بلکہ وہ معاہدے تھے جنہوں نے آنے والی نسلوں تک کو باندھ دیا۔ حکومت نے ایسے معاہدے کیے جن کے تحت پلانٹ چلے یا نہ چلے ادائیگی ہر صورت کرنا تھی۔ یہی وہ کیپیسٹی چارجز ہیں جنہوں نے آج بجلی کے شعبے کو تباہ کن بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ عوام بجلی کم استعمال کریں تب بھی اربوں روپے نجی کمپنیوں کو اداکئے جاتے ہیں۔ یعنی نقصان میں بھی منافع کی ضمانت۔ دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا کاروبار ہو جہاں سرمایہ کار کو ہر حال میں منافع ملے اور نقصان صرف قوم برداشت کرے۔جب عالمی منڈی میں کوئلے کی قیمت بڑھی تو اس منصوبے کی حقیقت مزید کھل کر سامنے آگئی۔ ساٹھ ڈالر فی ٹن والا کوئلہ دو سو پچاس ڈالر تک جا پہنچا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ بجلی کی پیداواری لاگت آسمان سے باتیں کرنے لگی۔ پلانٹ کم چلایا گیا مگر ادائیگیاں بدستور جاری رہیں۔ عوام کو مہنگی بجلی ملی اور حکومت گردشی قرضوں میں ڈوبتی چلی گئی۔ یہ وہی ماڈل تھا جسے کبھی معاشی انقلاب کہا گیا تھا۔تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ کوئلے کی خریداری میں مبینہ طور پر زائد قیمتیں وصول کی گئیں۔ مارکیٹ میں سستا کوئلہ دستیاب تھا مگر پلانٹ کو مہنگے داموں فراہم کیا جاتا رہا۔ اگر یہ الزامات درست ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ عوام صرف مہنگی بجلی ہی نہیں بلکہ بدعنوانی کا بوجھ بھی برداشت کرتے رہے۔ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ ایسے معاملات میں تحقیقات شروع تو ہوتی ہیں مگر انجام تک نہیں پہنچتیں۔ سیاسی مفاہمتیں احتساب پر غالب آ جاتی ہیں اور قوم صرف خبریں پڑھ کر رہ جاتی ہے۔پھر مارچ دو ہزار چوبیس میں ایک اور تہلکہ خیز انکشاف سامنے آیا جب کوئلے کی خریداری میں مبینہ اضافی قیمتوں کا معاملہ اٹھا۔ مارکیٹ میں کوئلہ پینتالیس ہزار روپے فی ٹن دستیاب تھا مگر پلانٹ کو چوہتر ہزار روپے فی ٹن کے حساب سے فراہم کیا جا رہا تھا۔ نیپرا کے ریکارڈ اور مختلف رپورٹس اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ صرف اٹھارہ ماہ کے دوران اربوں روپے کی مبینہ زائد بلنگ کی گئی جس کے تانے بانے پسندیدہ سپلائرز سے جا ملتے ہیں۔ یوں یہ منصوبہ صرف مہنگی بجلی ہی نہیں بلکہ بدعنوانی کے سوالات کی علامت بھی بنتا چلا گیا۔ قومی احتساب بیورو نے تحقیقات کا آغاز کیا تو مجموعی طور پر چار سو تراسی ارب روپے کی مبینہ بے ضابطگیوں کا ذکر سامنے آیا جن میں سے ایک سو پچھتر ارب روپے کا تعلق انہی تین درآمدی کوئلے کے منصوبوں سے جوڑا گیا۔ بعد ازاں دو ہزار تیئیس میں نیب قوانین میں تبدیلیوں کے بعد یہ تحقیقات سرد خانے کی نذر کر دی گئیں۔
حقیقت یہ ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت بننے والے ان منصوبوں کی لاگت دیگر ملتے جلتے منصوبوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ رہی۔ یہی فرق اوور پرائسنگ کے شبہات کو تقویت دیتا ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ حکومت دوبارہ تھر کے مقامی کوئلے کی طرف واپسی کی بات کر رہی ہے۔ ان پلانٹس کو مقامی کوئلے پر منتقل کرنے کے لیے ایک ارب ڈالر سے زائد لاگت جبکہ نئی ریلوے لائنوں پر اربوں روپے خرچ کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ گویا پہلے درآمدی کوئلے کے نام پر قومی خزانے پر بوجھ ڈالا گیا اور اب تبدیلی کے نام پر قوم کو ایک نئے مالی امتحان سے گزارا جا رہا ہے۔ یہ پالیسی کا وہ الٹ پھیر ہے جو ایک دہائی بعد اس وقت سامنے آیا جب درآمدی کوئلے کا زرمبادلہ بوجھ معیشت کے لیے ناقابل برداشت بن چکا تھا۔ اگر یہی کام کرنا تھا تو قوم کو اتنے بڑے تجربے سے کیوں گزارا گیا۔ پہلے درآمدی کوئلے کے نام پر قومی خزانہ لٹایا گیا اور اب تبدیلی کے نام پر نئی سرمایہ کاری کا بوجھ عوام پر ڈالا جا رہا ہے۔یہ مسئلہ صرف ساہیوال تک محدود نہیں۔ پورٹ قاسم اور حب کے درآمدی کوئلے والے منصوبے بھی اسی کہانی کا حصہ ہیں۔ اربوں ڈالر کے یہ منصوبے کم پیداوار کے باوجود قومی خزانے سے بھاری رقوم وصول کرتے رہے۔ گردشی قرضہ بڑھتا گیا۔ بجلی مہنگی ہوتی گئی اور عوام کے لیے زندگی مشکل تر بنتی گئی۔ ایک طرف صنعتکار چیخ رہے ہیں کہ بجلی مہنگی ہونے سے کاروبار بند ہو رہے ہیں اور دوسری طرف عام آدمی اپنے گھر کا بل دیکھ کر پریشان کھڑا ہے۔ن لیگ کا ترقیاتی ماڈل ہمیشہ بڑے منصوبوں کے گرد گھومتا رہا ہے۔ موٹرویز ہوں یا بجلی گھر ہر منصوبے کو سیاسی کامیابی کے طور پر پیش کیا گیا۔ مگر اب وقت یہ ثابت کر رہا ہے کہ ان منصوبوں میں قومی مفاد کی ترجیح کی بجائے ذاتی اور سیاسی فائدے دیکھے گئے۔ ترقی صرف عمارتیں کھڑی کرنے کا نام نہیں۔ اصل ترقی وہ ہوتی ہے جو آنے والی نسلوں کو معاشی آزادی دے نہ کہ قرضوں اور معاہدوں کی زنجیروں میں جکڑ دے۔یہ حقیقت اپنی جگہ درست ہے کہ اس وقت ملک کو بجلی کی شدید ضرورت تھی۔ اگر منصوبے نہ لگتے تو شائد لوڈشیڈنگ مزید بڑھ جاتی۔ مگر اچھی نیت بھی ناقص منصوبہ بندی کا جواز نہیں بن سکتی۔ اگر منصوبے قومی وسائل کو تیس تیس سال کے لیے گروی رکھ دیں تو پھر ترقی کا نعرہ کھوکھلا محسوس ہونے لگتا ہے۔آج پاکستان کو ایک نئے توانائی وژن کی ضرورت ہے۔ ایسا وژن جو مقامی وسائل پر انحصار کرے۔ جو شمسی توانائی ہوا اور تھر کے ذخائر کو قومی خودمختاری کے ساتھ استعمال کرے۔ ایسا نظام جس میں عوام پر بوجھ کم ہو اور قومی خزانہ مستقل ادائیگیوں کے عذاب سے نجات پائے۔ کیونکہ قومیں صرف بجلی گھروں سے ترقی نہیں کرتیں بلکہ دیانت دار منصوبہ بندی شفاف معاہدوں اور قومی مفاد کو مقدم رکھنے سے آگے بڑھتی ہیں۔ جب تک یہی اصول اختیار نہیں کئے جائیں گے تب تک سیاست دانوں اور پالیسی میکرز کی اپنی روشنیاں تو بحال رہیں گی مگر عوام کی جیبیں خالی ہی رہیں گی اور اندھیرے ان کا مقدر رہیں گے۔

یہ بھی پڑھیں