Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

نتھ فورس بمقابلہ پیرافورس

نتھ فورس پاکستان کی سیاسی تاریخ کی ایک متنازع اورطنزیہ اصطلاح ہےجو 1977ء کی تحریکِ نظامِ مصطفی کے دوران مشہور ہوئی۔ اس زمانے میں بھٹو حکومت پر یہ الزام لگایاجاتاتھاکہ احتجاجی مظاہروں کو دبانے اورخصوصاً خواتین مظاہرین کو ہراساں کرنے کے لئےغیررسمی جتھوں کااستعمال کیاگیاچونکہ ان گروہوں سے وابستہ بعض عورتیں روایتی طورپرنتھ یعنی ناک کےزیور سےپہچانی جاتی تھیں اس لیےمخالفین نےطنزاانہیں نتھ فورس کہناشروع کردیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ اصطلاح پنجاب کی سیاسی زبان میں ایسے گروہوں کےلئے خاص بن گئی جو طاقت دبائو یا غنڈہ گردی کے ذریعے اثر و رسوخ قائم کرتے ہوں۔وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی پنجاب حکومت نےایک نیاطاقتور محکمہ قائم کیاہےجسے پیرا فورس یا پی ای آر اے کے نام سےجاناجاتاہے۔ یہ پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کے تحت کام کر رہا ہے۔ 2024 ء میں منظور ہونےوالے متعلقہ قانون کے تحت وجود میں آنے والی یہ فورس 2025 ء میں عملی طور پرفعال ہوچکی ہے۔ اسکا مقصد صوبے بھر میں مہنگائی منافع خوری،ذخیرہ اندوزی اورناجائزتجاوزات جیسے مسائل کاموثرحل تلاش کرناہے۔ حکومت کادعویٰ ہےکہ یہ فورس عوام کوریلیف فراہم کرےگی اورمارکیٹوں میں شفافیت لائے گی۔پیرا فورس کے اہم کاموں میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کی نگرانی، روٹی، آٹا، تیل، ادویات اور دیگرروزمرہ اشیاء کی ذخیرہ اندوزی روکنا،سڑکوں،فٹ پاتھوں اورسرکاری زمینوں پر ناجائز قبضے ہٹانا ، زمینوںپرکئےجانےوالےقبضےکےخلاف کارروائی جرمانےعائدکرنااور ضروری صورتوں میں ایف آئی آر درج کرناشامل ہیں۔ خود وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اس کی چیئرپرسن ہیں۔ ہیڈکوارٹر لاہور میں قائم ہےاور ریٹائرڈکیپٹن فرخ عتیق خان اس کےڈائریکٹرجنرل ہیں۔اس فورس میں تقریبا ًآٹھ ہزار پانچ سو اہلکار تعینات کئےگئےہیں۔
صوبے کےتمام اضلاع اورتحصیلوں میں اسکی موجودگی یقینی بنائی گئی ہے۔ اب تک ایک سوچوون انفورسمنٹ سٹیشنزقائم کئےجاچکےہیں۔ اہلکاروں میں خواتین بھی بڑی تعداد میں شامل ہیں۔ مختلف رینکوں کےافسران بھرتی کئےگئےہیں جن میں انفورسمنٹ آفیسر اور انویسٹی گیشن آفیسرشامل ہیں۔ لاہورڈویژن سےشروع ہونےوالی یہ فورس اب صوبہ بھر میں پھیل رہی ہے۔حکومت نے اس نئےمحکمے پراربوں روپےکا بجٹ خرچ کیا ہے۔ نئے سٹیشنز کی تعمیراہلکاروں کی بھرتی اورتربیت جدید آلات کی خریداری اوروسیع پیمانے پر گاڑیوں کی فراہمی پربڑی سرمایہ کاری کی گئی۔فورس کے لئے درجنوں آپریشنل گاڑیاں، موٹر سائیکلیں، جدید اسلحہ اورحفاظتی سامان فراہم کیا گیا ہے۔ ہر اہلکار کو مناسب وسائل دیے گئے ہیں تاکہ وہ میدان میں موثر کارروائی کر سکیں۔اس فورس کے قیام کو ایک طرف تو عوامی فلاح کا بڑاقدم قرار دیاجارہاہےتو دوسری طرف عوام اور کاروباری طبقوں کی جانب سے اسے پولیس کے متوازی ادارے کےطور پرتنقید کانشانہ بھی بنایاجارہا ہے۔تاہم حکومت کا موقف ہے کہ پیرا فورس صوبےمیں قانون کی بالادستی قائم کرنےاورعام شہریوں کوریلیف دینےمیں اہم کردار ادا کرےگی۔ اس وقت روزانہ مختلف کارروائیوں کی خبریں سامنے آرہی ہیں۔انکے کام دیکھ کرلوگ اب یہ کہنے پرمجبورہوچکے ہیں کہ ہم نے نتھ فورس سنی تھی پیرا فورس دیکھ لی۔ یہ نئی انفورسمنٹ فورس اب غریب عوام کےلئے عذاب بن چکی ہے۔ تجاوزات کےخاتمے اور مہنگائی کنٹرول کےنام پر شروع ہونےوالایہ محکمہ اب غریب ریڑھی والوں چھابڑی فروشوں اور سڑک کنارےاپنا گزارہ کرنےوالوں پرقہربن کرٹوٹ رہا ہے۔سوشل میڈیا پر روزانہ ویڈیوز وائرل ہورہی ہیں۔ پیرا فورس کے اہلکار ریڑھیاں توڑتےسامان اٹھاکر پھینک دیتے غریب مزدور کودھکے دیتےاوربھاری جرمانےعائد کرتےنظر آتے ہیں۔ بعض جگہوں پر پیرافورس کےاہلکار عام لوگوں پرتشددکرتےبھی دکھائی دئیے گئےہیں۔ اجازت شدہ اشیاسگریٹ وغیرہ کوبھی ضبط کرلیاجاتا ہے۔ ایک غریب کا پورے دن کا روزگار چند لمحوں میں برباد کردیاجاتا ہے۔
پیرا فورس کے بےرحم اورسفاک اہلکاروں کی جانب سےغریبوں اوردیہاڑی داروں کی ریڑھیاں سرعام سڑکوں پر نکال کرتوڑدینےکی مثالیں عام ہو چکی ہیں۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ فورس مظلوم کی امیداورظالم کی دہشت ہےمگر زمینی حقیقت اسکےبالکل برعکس ہے۔ طاقت کا استعمال صرف کمزورپرہو رہا ہے۔سب سے افسوس ناک بات یہ ہے کہ یہ فورس جو کرپشن روکنے کے لیے بنی تھی خود کرپشن کے الزامات میں گھری ہوئی ہے۔ بھتہ خوری کی ویڈیوز اور رشوت لینے کے واقعات سامنے آ چکے ہیں۔پیرا فورس کے اہلکار کئی دکانوں سے نقدی لیتے بھی دیکھے گئے ہیں۔ ایک گاڑیوں کی ورکشاپ کو گندگی کے الزامات پر سیل کر دیا گیا۔ اسی طرح پیرا فورس کا ایک اہلکار دکاندار سے ایف بی آر کے ٹیکس کے کاغذات مانگتا دیکھاگیااورکہہ رہاتھا کہ آپ لوگ ٹیکس نہیں دیتے۔ حکومت کو باڈی کیمرے لازمی قراردینے پڑے۔ کچھ اہلکاروں کو معطل بھی کیا گیا مگر یہ اقدامات سطحی لگتے ہیں۔ جہاں 78 سالہ اداروں کو کرپشن کا شکار ہونے میں دہائیاں لگیں وہاں پیرافورس نے یہ سفر صرف چند ماہ میں طے کر لیا۔یہ غریب پاکستان کی کہانی ہے۔ جب کوئی عدالت یا ادارہ اشرافیہ کے خلاف فیصلہ دے تو وزیراعظم کمیٹی بنا دیتے ہیں مگر غریب کی ریڑھی توڑنے والوں اور کھانے پینے کی اشیا سڑکوں پر پھینک کر کفران نعمت کرنے والے اہلکاروں پر کوئی احتساب نہیں۔ مریم نواز کے پنجاب میں وردی والوں کاراج ہے۔ اشرافیہ کی حکمرانی میں غریب کا جینا دوبھر کر دیا گیا ہے۔ وہ جو آواز اٹھاتا ہےاس پربھی یہی قوت استعمال ہوتی ہے۔ عوامی فلاح کے نام پر غریب کاخاتمہ نہیں کیاجاسکتا۔ اگر واقعی مہنگائی اور تجاوزات کا خاتمہ کرنا ہے تو بڑے مافیا،بڑے گروپس اور طاقتور لوگوں پرہاتھ ڈالا جائے۔ غریب کی ریڑھی توڑکر معاشرے کو مزید بےچین نہ کیا جائے۔ ورنہ تاریخ میں صرف نتھ فورس نہیں پیرا فورس بھی یاد رکھی جائے گی۔ ایک ایسےادارے کےطور پرجو غریب کےسر پر الیٹ کا ہتھوڑا بنا۔یہ ایک نہایت اہم اور غورطلب سوال ہےکہ جب مقامی سطح پرضلعی انتظامیہ، تحصیل اور میونسپل کمیٹیوں کا عملہ اورانکا مکمل انفراسٹرکچر پہلےسےفعال ہےتو پھر ان ہی موجودہ اداروں سے یہ خدمات کیوں نہیں لی گئیں؟جب ہرضلع میں ضلعی انتظامیہ،تحصیل انتظامیہ، قیمتوں پرکنٹرول کرنے والے مجسٹریٹس اوربلدیاتی اداروں کا ایک وسیع اور فعال نیٹ ورک پہلے سے موجود ہے تو انہی اداروں کو مزید متحرک اور موثر بنانے کی بجائے ایک متوازی نظام کیوں قائم کیا گیا ہے؟ یہ نہ صرف وسائل کو ضائع کرنے کے مترادف ہے بلکہ انتظامی پیچیدگیاں بھی پیدا کرتا ہے۔ موجودہ محکموں کو بااختیار بنانے ان کی کارکردگی بڑھانے اور انہیں جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنے کے بجائے ایک نیا الگ ڈھانچہ کھڑا کرنا حکومت کے لئے غیر ضروری بوجھ اور افسر شاہی کا ایک اور طویل سلسلہ ثابت ہوا ہے۔ ایک ایسے مقروض ملک اور مالی دبائو کے شکار صوبے میں جہاں پہلے ہی معاشی وسائل کی شدید کمی ہو وہاں ان کاموں کے لیے اربوں روپے کے خطیر بجٹ سے ایک بالکل نیا محکمہ قائم کرنے کا کیا جواز ہے؟

یہ بھی پڑھیں