پاکستان میں طالبان یعنی فتنہ خوارج کی بڑھتی ہوئی دہشت گردی ایک بار پھر ملک کی سلامتی کے لئے سنگین چیلنج بن چکی ہے۔ خیبر پختونخوا اور پنجاب کے شمالی اضلاع اس وقت اس لپیٹ میں آ چکے ہیں جہاں حملوں کی شدت اور تعدد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ بنوں کے علاقے فتح خیل میں پولیس چوکی پر بارود سے بھری گاڑی ٹکرا کر خودکش دھماکہ کیا گیا ،چارسدہ کے علاقے اتمانزئی میں مولانا شیخ محمد ادریس پر گھات لگا کر فائرنگ کی گئی اور وہ موقع پر ہی شہید ہو گئے۔ یہ ایک عام قتل نہیں تھا بلکہ ریاست اور اس کی فوج کی حمایت کرنے والوں کو ایک واضح پیغام تھا کہ جو بھی فتنہ خوارج کے خلاف آواز اٹھائے گا اسے بھی نشانہ بنایا جائے گا۔ ڈیرہ اسماعیل خان اور میانوالی کے علاقوں سے ہوتے ہوئے یہ خطرات پنجاب کے شمالی اضلاع اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد تک پہنچ چکے ہیں۔ دو روز قبل بلوچستان سے ایک خاتون خودکش بمبار کو گرفتار کیا گیا جو اسلام آباد میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے کا ارادہ رکھتی تھی۔ یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دہشت گرد عناصر اب خواتین کو بھی اپنے جال میں پھنسا کر بمبار بنا رہے ہیں اور ان کا ہدف صرف سرحدی علاقے نہیں بلکہ وفاقی دارالحکومت تک ہے۔دو روز قبل ہی اٹک کی تحصیل جنڈ میں ایک بہادر شہری نے ممکنہ بڑے حملے کو ناکام بنا دیا۔ ایک روز قبل ہی سرائے نورنگ بازار میں ایک بار پھر دہشت گردوں نے خونریز حملہ کیا۔ یہ واقعہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ فتنہ خوارج اب کے پی کے کے اندرونی علاقوں میں بھی اپنی کارروائیوں کو تیز کر چکے ہیں اور عام شہریوں کو نشانہ بنانے سے بھی نہیں ہچکچاتے۔ یہ سوال اٹھتا ہے کہ سرحد پار سے ملنے والی حمایت اور لوجسٹک سہولیات کی وجہ سے یہ عناصر اب بھی فعال ہیں یا اندرونی طور پر کوئی غفلت اور ہم آہنگی کی کمی کام کر رہی ہے۔رواں سال کے دوران کے پی کے میں حملوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ بنوں، چارسدہ، ڈیرہ اسماعیل خان، لکی مروت، ٹانک اور دیگر علاقوں میں پولیس پوسٹس چیک پوسٹس اور سکیورٹی فورسز پر حملے معمول بنتے جا رہے ہیں۔ دہشت گرد نئی حکمت عملی اپنا رہے ہیں جس میں خودکش حملوں کے ساتھ ساتھ گروپ حملے، ڈرونز کا استعمال ، مقامی سطح پر نوجوانوں اور خواتین کی بھرتی اور حساس مقامات کو نشانہ بنانا شامل ہے۔ یہ تمام کارروائیاں منظم طور پر افغانستان میں پناہ گاہوں سے منسلک نظر آتی ہیں۔ریاست نے ان عناصر کے خلاف متعدد فوجی اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کئے ہیں۔
سرحد پار کارروائیاں بھی جاری ہیں لیکن اندرون ملک دہشت گردی کو روکنے کے لئے جامع اور کثیرالجہتی حکمت عملی کی شدید ضرورت ہے۔ افغانستان کی طرف سے پناہ گاہوں کی فراہمی مقامی سطح پر بعض عناصر کی خاموش حمایت سابقہ فاٹا کے علاقوں میں گورننس کے مسائل اور سماجی معاشی خلا اس میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ماضی میں آپریشن ضرب عضب اور رد الفساد نے بڑی کامیابیاں دی تھیں لیکن نئی صورتحال کے مطابق نئی حکمت عملی بنانی پڑے گی۔عوام میں تشویش عروج پر ہے۔ کے پی کے کے لوگ روزانہ دہشت کا شکار ہو رہے ہیں۔ سکول بازار مساجد اور عوامی مقامات پر خوف طاری ہے۔ معاشی سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں سرمایہ کاری رک رہی ہے اور روزگار کے مواقع کم ہو رہے ہیں۔ پنجاب کے شمالی اضلاع اٹک جنڈ میانوالی اور دیگر علاقوں میں بھی یہی صورتحال پیدا ہو رہی ہے جو ملک کے معاشی مرکز پنجاب کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ اگر یہ لہر مزید پھیل گئی تو پورا ملک ایک بار پھر 2000کی دہائی والے دہشت گردی کے دور میں واپس چلا جائے گا جہاں ہزاروں معصوم شہید ہوئے اور اربوں روپے کا نقصان ہوا۔ حکومت اور فوج کو مل کر ایک جامع قومی پلان بنانا چاہیے۔ انٹیلی جنس نیٹ ورک کو مزید مضبوط کرنا، مقامی عوام کے تعاون کو بڑھانا، علمائے کرام کو شامل کر کے فکری اور نظریاتی جنگ لڑنا اور سابقہ فاٹا کے علاقوں میں ترقیاتی کاموں کو تیز کرنا ضروری ہے۔ گورننس کے مسائل حل کئے بغیر خلا پیدا ہوتا رہے گا اور دہشت گرد بھرتے رہیں گے۔مولانا شیخ محمد ادریس جیسی شخصیات کی شہادت سے واضح ہے کہ فتنہ خوارج اب معاشرے کے اندر فکری اور مذہبی سطح پر بھی تقسیم پیدا کر رہے ہیں۔ علما کرام سیاسی جماعتیں سول سوسائٹی اور میڈیا کو متحد ہو کر اس فتنے کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔ فتوے جاری کیے جائیں کہ خودکش حملے بم دھماکے اور معصوموں کا قتل اسلام کے نام پر سب سے بڑا گناہ ہے۔ جنڈ میں شہید لیاقت علی کی قربانی عام عوام کے عزم اور بہادری کی مثال ہے۔ ایسے بہادر شہریوں کو ہیرو قرار دیا جائے اور ان کے خاندانوں کی بھرپور دیکھ بھال کی جائے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ طویل اور صبر طلب ہے۔ عالمی برادری سے بھی تعاون طلب کیا جائے کہ وہ اس مشترکہ خطرے کے خلاف پاکستان کے ساتھ کھڑی ہو۔ انڈیا کی مداخلت ، دہشت گردوں کو مالی تعاون اور سہولت کاری کے ثبوت دنیا کے سامنے پیش کئے جائیں۔ افغانستان کے ساتھ تعلقات میں توازن رکھتے ہوئے ان عناصر کی سرگرمیوں کو روکنا ہو گا۔اب وقت آ گیا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں فوج عوام اور ادارے ایک پیج پر آ جائیں۔ کوئی بھی غفلت یا تاخیر مہنگی پڑ سکتی ہے۔اللہ پاکستان کو اس فتنے سے محفوظ رکھے شہدا کی قربانیوں کو رنگ لائے اور قوم کو اتحاد و ہمت عطا فرمائے۔ آمین