Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

قدرت کاانتقام

(گزشتہ سے پیوستہ)
تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جنگ صرف میدان میں نہیں لڑی جاتی بلکہ معیشت،خوراک اور رسد کے محاذپربھی اس کے فیصلے ہوتے ہیں۔ یادرہے کہ جنگ ہمیشہ بارودسے نہیں لڑی جاتی،کبھی کبھی روٹی بھی ہتھیار بن جاتی ہے۔یو اے ای کی سترفیصدخوراک زمینی راستوں سے آتی تھی،اور جب یہ راستے مسدودہوئے توبازاروں میں مہنگائی کاطوفان امڈ آیا ۔گویایواے ای کاخوراک کے لئے بیرونی انحصاراس کی سب سے بڑی کمزوری بن کرسامنے آیا۔جب زمینی راستے مسدود ہوئے تواشیائے خوردونوش کی قلت پیداہوگئی۔قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں،اوروہ معاشرہ جو آسائش کا عادی تھا،اچانک ضرورت کی سطح پر آ گیا ۔ یہ منظرایک تلخ حقیقت کی یاددہانی تھاکہ ترقی کاوہ ماڈل جوخودکفالت سے عاری ہو،وہ بحران کے وقت بکھرجاتاہے۔ایک ہفتے کے اندر قیمتوں کاچار سوفیصدبڑھ جانااس بات کاثبوت تھا کہ معیشت کی عمارت کتنی نازک بنیادوں پرکھڑی تھی۔سپر مارکیٹوں میں راشن بندی،بندہوتے کیفے ، اورخالی میزیںیہ سب اس بات کی گواہی دے رہے تھے کہ آسائش کا یہ قلعہ اندرسے کتناکھوکھلاتھا ۔ یہ منظرایک تلخ حقیقت کی یاددہانی تھاکہ ترقی کا وہ ماڈل جوخودکفالت سے عاری ہو،وہ بحران کے وقت بکھرجاتا ہے۔ بھوک،جوہمیشہ خاموشی سے آتی ہے،یہاں بھی آہستہ آہستہ اپنے قدم جمارہی تھی۔
معیشت کی دنیامیں کرنسی کسی بھی ریاست کی معاشی خودمختاری کی علامت ،اورریاست کی نبض ہوتی ہے۔جب درہم پردباؤبڑھاتویو اے ای کی معیشت کی بنیادیں ہلنے لگیں۔درہم لڑکھڑانے سے توگویا پورا وجود لرز اٹھاہے۔زرمبادلہ کے ذخائرتیزی سے کم ہونے لگے ، اور اعتمادکی فضا زائل ہونے لگی۔یواے ای اپنے زرمبادلہ کے ذخائر کوبے دریغ خرچ کر رہا تھا،جیسے کوئی پیاسا سمندرسے پانی نکالنے کی کوشش کرے۔یہ وہ مرحلہ تھا جہاں فیصلے مشکل اورنتائج سنگین تھے۔ دو راستے سامنے تھے:یاتوکرنسی کوآزادچھوڑدیا جائے اورعوام کی جمع پونجی کوخطرے میں ڈال کر ڈوبنے دیا جائے،یاسخت پابندیاں لگاکرسرمایہ کاری پر پابندیاں لگاکردنیاکودروازے سے باہرکردیا جائے ۔دونوں صورتوں میں دبئی معجزہ،جوکبھی ترقی کی علامت تھا،اب ایک نازک خواب ثابت ہورہاتھا۔ ایک افسانہ بننے کوتھاایساافسانہ جسے سن کرآنے والی نسلیں حیران ہوں گی کہ کیاواقعی ایسابھی ہواتھا؟۔
یہ وہ لمحہ تھاجب حقیقت نے فریب کانقاب چاک کردیا کیونکہ دونوں راستے تباہی کی طرف لے جاتے تھے۔سیاسی دنیامیں تنہائی سب سے بڑاعذاب اور ایک ایسازہرہے جوآہستہ آہستہ اثر کرتاہے مگراس کاانجام ہمیشہ مہلک ہوتاہے ۔ یواے ای کے لئے یہی زہراب حقیقت بنتاجا رہا تھا ۔ اس کے اتحادی ایک ایک کر کے دورہورہے تھے،اورجوباقی تھے وہ بھی محتاط خاموشی اختیارکیے ہوئے تھے۔مصر اور بحرین کاریاض کے ساتھ کھڑا ہونا،اسرائیل کاخاموش مفادپرستی اختیار کرنا، اور ابراہام معاہدے کابوجھ ،یہ سب یواے ای کے لئے ایک ایسی زنجیر بن گئے جس نے اس کی سفارتی پروازکوروک دیا۔اسرائیل کے ساتھ تعلقات، جو کبھی ایک کامیابی سمجھے گئے تھے،اب ایک بوجھ بن گئے تھے۔
نیتن یاہوکادورہ اوراس کااعتراف گویاجلتی پرتیل تھا۔مسلم دنیامیں یہ پیغام واضح ہوگیاکہ یواے ای کی پالیسی دورخی ہے اوردورخی پالیسیوں کاانجام ہمیشہ بے اعتباری ہوتاہے ۔ مسلم دنیامیں اس کے خلاف جذبات ابھرنے لگے،اوراس کی پالیسیوں پرسوالات اٹھنے لگے۔ یہ وہ لمحہ تھاجب یواے ای کواپنی سفارتی حکمت عملی پر نظرثانی کرنی چاہیے تھی مگروقت ہاتھ سے نکل چکاتھا۔
تاریخ کاسب سے دلچسپ پہلویہ ہے کہ وہ خود کو دہراتی نہیں بلکہ نئے اندازمیں ظاہرکرتی ہے۔ قطر، جو کبھی محاصرے کاشکارتھا،آج ایک نئے کردارمیں سامنے آیا۔2017ء میں جس قطرکو تنہا کرنے کی کوشش کی گئی تھی،وہی آج نئے اتحاد کا مرکزبن گیا۔اس نے نہ صرف سعودی عرب کاساتھ دیابلکہ خودکوایک متبادل مرکزکے طورپرپیش کرنا شروع کیا۔سعودی عرب کے لئے فضائی حدود کھولنا اورمتبادل کانفرنس کی تیاری کرنا،گویاتاریخ کاایک ایساطنزتھاجس میں سبق بھی تھااورانتقام بھی۔ یواے ای،جوکل تک مرکزتھا،آج حاشیے پرآچکا تھا اور یہ حاشیہ بھی ایسا کہ جہاں سے واپسی آسان نہ تھی۔یہ یواے ای کے لئے ایک بڑادھچکا تھا ایک ایسادھچکا جس نے اس کی سفارتی حیثیت کو مزید کمزورکردیا۔
جب ریاستیں بیرونی دباؤکاشکار ہوتی ہیں تواندرونی مسائل اورکمزوریاں بھی سراٹھانے لگتی ہیں۔ اماراتی معاشرہ،جومختلف قومیتوں کا مجموعہ تھا،اب تقسیم کا شکارہونے لگا۔اماراتی خاندانوں کے سعودی عرب سے تعلقات،شہریوں کی دوہری وابستگیاں، غیرملکی آبادی کا تیزی سے انخلا،معاشی غیریقینی صورتحال، اور سماجی اضطراب، یہ سب ایک ایسے طوفان کی علامات تھیں جو اندر ہی اندرجنم لے رہا تھااوریہ سب ایک بڑے بحران کی علامات تھیں۔ہوائی اڈے،جوکبھی زندگی سے بھرپور تھے، اب ویرانی کامنظرپیش کررہے تھے۔گویا ایک شہراپنی سانسیں کھورہاہو۔ریاست کی بنیادیں، جوکبھی مضبوط دکھائی دیتی تھیں،اب لرزنے لگی تھیں۔
ہربحران ایک فیصلہ کن موڑپرپہنچتاہے جہاں انتخاب ناگزیرہوجاتاہے۔یواے ای کے لئے یہ لمحہ بھی آچکاتھا۔پینتالیس دن کامحاصرہ کسی بھی معیشت کوہلا دینے کے لئے کافی ہوتاہے۔ ذخائر ختم ہونے لگے،کرنسی گرنے لگی،امیدیں دم توڑنے لگیں اوراعتمادختم ہورہا تھا۔ وہی پاکستان جس کودباؤمیں لانے کے لئے فوری طورپرعالمی بینک میں مشروط شرائط کے لئے رکھے گئے قرض کی فوری واپسی کاکہاگیا، یواے ای کے مربیوں نے اس طرح پاکستان کابازومروڑنے کامشورہ دیاتھا لیکن بات الٹی گلے کوپڑگئی اورپاکستان نے چاردن کے نوٹس میں اس قرض کی مکمل ادائیگی کرکے اس شکنجے سے اپنی گردن چھڑالی لیکن مجبوری بھی کیاچیز ہوتی ہے کہ خودی کوسرنگوں کردیتی ہے۔اس مشکل حالات میں پاکستان سے ثالثی کی درخواست اس بات کاثبوت تھی کہ یواے ای اپنی حدوں کو پہنچ چکاہے۔ایسے میں ثالثی کی کوششیں شروع ہوئیں،مگرنتائج وہ نہ نکل سکے جن کی توقع تھی۔جب جواب میں سردمہری ملی تویہ واضح ہوگیاکہ اب کھیل اپنے آخری مرحلے میں داخل ہوچکاہے۔
( جاری ہے )

یہ بھی پڑھیں