اسلام نے سیاست سے منع نہیں کیا لیکن سیاست کا بھی کوئی چلن ہونا چاہیئے۔لگ بھگ دو عشروں سے ہمارے ہاں سیاستدان اور ان کے ماننے والے سیاست کا ستیاناس کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔اس کی مٹی پلید کر رکھی ہے۔ہماری سیاست جس نہج پر پہنچ گئی ہے اس کا حال کچھ نہ پوچھئے۔سیاست تو خدمت کے لیئے ہوتی ہے،عبادت کا بھی درجہ رکھتی ہے۔لیکن نہ تو خدمت ہو رہی ہے،نا عبادت۔لگتا ہے سیاست کے اس حمام میں کافی سارے لوگ ننگے ہو چکے ہیں۔اسی لیئے عوام کا اعتماد بھی سیاست اور سیاستدانوں سے اٹھ گیا ہے۔لوگ بھروسہ کریں،تو کس پر؟ ایک لمبی فہرست ہے۔گنوانے لگے تو ہو سکتا ہے کسی کی تضحیک کا کوئی پہلو نکل آئے۔بس نشاندہی کر کے اپنا فرض نبھانا چاہتے ہیں۔لازم ہے،ضروری بھی ہو گیا ہے کہ شاید ہم ایسا کر کے سیاست کا رخ اسی صحیح سمت موڑنے میں کامیاب ہو جائیں۔ اب تک سیاست کو جتنا پڑھا ہے اس سے یہی نتیجہ اخذ کیا کہ سیاست،معاشرے کے نظم و نسق اور ریاست کو چلانے کے فن اور علم کا نام ہے۔سیاست ہی ہے جو فیصلہ سازی،اقتدار کے حصول اور عوامی فلاح و بہبود کے اصولوں کا احاطہ کرتی ہے۔اسے سمجھنے کے لیئے چند بنیادی نکات کو سمجھنا ضروری ہے۔سیاست کی تعریف یا Definition کیا ہے؟ آئیں،اس پر نظر ڈالتے ہیں۔اصطلاحی طور پر امور حکومت چلانے،لوگوں کے معاملات کو بہترین طریقے سے سنبھالنے اور معاشرتی اصلاح کی انجام دہی کو ہی سیاست کہتے ہیں۔کسی بھی پارلیمانی نظام جمہوریت میں تین اہم بنیادی ستون (Pillars of State) ہوتے ہیں۔مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ مقننہ، قانون سازی کرتی ہے۔جسے عام الفاظ میں پارلیمنٹ یا اسمبلی کہا جاتا ہے۔
انتظامیہ(Executive)قوانین پر عملدرآمد کی ذمہ دار ہے جبکہ عدلیہ (Judiciary) پارلیمنٹ کے بنائے ہوئے قوانین کی حفاظت کرتی ہے اور انصاف فراہم کرنے والے ادارہ کے طور پر اپنا کردار ادا کرتی ہے۔فوجی ڈکٹیٹر شپ نہ بھی ہو تو کبھی کبھار سول ڈکٹیٹر شپ سے بھی واسطہ پڑتا ہے۔جمہوریت کی آڑ میں سول ڈکٹیٹر شپ قائم کر دی جاتی ہے جو کسی بھی ملک کے جمہوری نظام اور اس کی سیاست کے لئے بہت ہی خطرناک ہے۔سیاست کرنے والے اکثر اپنے ریاستی نظریات کو اپنی سوچ کے مطابق اپناتے ہیں۔پاکستان کے سیاسی عمل میں ووٹ کی جو اہمیت ہے اس سے کسی کو انکار نہیں۔یہی وہ طاقت ہے جس سے کسی جمہوری ملک میں استصواب رائے کی بنیاد پر حکومت تشکیل دی جاتی ہے۔جس کی جماعت اکثریت حاصل کر لے۔حکومت بنانا اس جماعت کا حق بن جاتا ہے۔اکثر ووٹنگ کے نتائج کے بعد ہارنے والی جماعت نتائج کو تسلیم نہیں کرتی۔کسی جماعت کی حکومت بن جائے تو مخالف جماعت احتجاج کے لئے سڑکوں پر رہتی ہے۔جلسے کرتی ہے،ریلیاں نکالتی ہے۔جس سے کاروبار مملکت ٹھپ ہو کر رہ جاتا ہے۔مسلسل احتجاجی تحریک کے نتیجے میں دشمن بھی اس کا فائدہ اٹھاتے ہیں اور پراکسی وار کے ذریعے امن و امان کے مسائل پیدا کر دیئے جاتے ہیں کہ صورت حال پر قابو پانا مشکل ہو جاتا ہے۔جس سے معیشت کا چلتا پہیہ رک جاتا ہے۔ہمیشہ یاد رکھنا چاہیئے ترقی اسی وقت ہو سکتی ہے جب لا اینڈ آرڈر کے مسائل نہ ہوں۔ہر طرف امن اور ہر ادارہ سیکورٹی کے ساتھ اپنا اپنا کام کر رہا ہو۔مگر بدقسمتی سے ہم اس سے محروم ہیں۔ پی ٹی آئی ایک بڑی سیاسی جماعت ہے۔اس کا کہنا ہے ہماری قیادت نے عوام کو شعور دیا ہے۔ہاں،سیاسی شعور دیا ہوتا تو کوئی بات بھی تھی۔ شعور کے نام پر پچھلے پانچ برسوں سے جو کھیل کھیلا جا رہا ہے اس نے تو اب حد ہی کر دی ہے۔تہذیب و تمدن کی جگہ اب گالی گلوچ نے لے لی ہے۔سوشل میڈیا پر تو اس کلچر کی کوئی حد ہی نہیں۔جس کے دل میں جو آتا ہے، شعور کے نام پر کرتا ہے۔ایسا کرتے ہوئے بدتہذیبی انتہا کو چھونے لگتی ہے۔پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے اکثر افراد کا ہدف مخالف سیاسی جماعت (مسلم لیگ ن)یا فو ج ہوتی ہے۔دکھ کی بات تو یہ ہے کہ یہ فوج ہی ہے جو سرحدوں کا دفاع کر کے ہمیں محفوظ بناتی ہے۔
دنیا کی اقوام میں ہمارا سر فخر سے بلند کرتی ہے۔لیکن اسی پر تنقید کے نشتر چلائے جاتے ہیں۔اس دوران الفاظ کے چنا کا بھی خیال نہیں رکھا جاتا۔کیا یہ سطحی رویہ نہیں۔کیا ایسی سیاست کا ہماری تہذیب و تمدن سے کوئی تعلق ہو سکتا ہے۔جس دن سے خان صاحب ایوان اقتدار سے نکلے ہیں کسی کے فیض سے اب تک فیض یاب نہیں ہو سکے۔اگرچہ مختلف مکاتب و فکر کے لوگ سیاست کو عبادت،خدمت اور اخلاقی فریضہ قرار دیتے ہیں۔مگر اب یہ روایات سیاست میں نظر نہیں آتیں۔گو کہ ہماری سیاست مختلف نظریات کے گرد گھومتی ہے مگر اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ سیاست کے نام پر انتشار پھیلایا جائے۔فوج یا فوج کے سپہ سالار نے ایسا کیا کیا ہے کہ آپ باز ہی نہیں آتے اور حد سے گزرتے جا رہے ہیں۔خان صاحب!آپ نے سیاست کرنی ہے تو ضرور کریں یہ آپ کا حق ہے لیکن اپنے سیاسی نظریات کو تو مثبت راستہ دیں۔علامہ اقبالؒ،ارسطو اور دنیا کے بڑے مفکرین کو پڑھیں کہ سیاست کے متعلق ان کے کیا نظریات رہے ہیں تو معلوم ہو گا کہ ان سب کی رائے آپس میں کتنی ملتی جلتی ہے؟ کسی سے سیاسی اختلاف رکھنا ہر ایک کا بنیادی حق ہے۔لیکن کسی کو کبھی اپنی اخلاقی حدود سے باہر نہیں جانا چاہیے۔قرآن و سنت میں اگرچہ سیاست کا کہیں ذکر نہیں لیکن ایسے واقعات ضرور ملتے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ کسی اسلامی فلاحی ریاست میں کس طرح کی سیاست ہونی چاہیے۔اختلاف ضرور رکھیں لیکن اختلاف کے ساتھ احترام کو ضرور ملحوظ خاطر رکھا جائے۔بیشتر جید علماء کا دعویٰ ہے صرف خلافت اور مسلم بادشاہت ہی جائز اسلامی نظام ہیں۔جبکہ دیگر سیاسی نظاموں کی وہ حمایت کرتے نظر نہیں آتے۔تاہم ایک بات پر ہمیں متفق ہونا پڑے گا کہ اسلام جھوٹ سے منع کرتا ہے۔سیاست میں جھوٹ کی آمیزش ہو گی تو پھر یہ سیاست نہیں رہے گی۔پی ٹی آئی کی قیادت غور کرے اور دیکھے کہ اس نے اب تک کی سیاست میں کیا کھویا اور کیا پایا ہے؟ تو اسے خود اندازہ ہو جائے گا کہ پایا کم اور کھویا زیادہ ہے۔لہٰذا پی ٹی آئی کو اپنی سیاست میں ٹھہرا اور لچک کی ضرورت ہے۔ضد کی سیاست کریں گے تو جو بچا ہے وہ بھی کھو دیں گے۔