ضلع قصور کے سرحدی علاقے میں واقع ایک چھوٹے سے گاں کا غریب کسان گرمی کی ایک حبس زدہ رات اپنے گھر کے باہر بچھی چارپائی پر بیٹھا تھا۔ کئی گھنٹوں سے بجلی غائب تھی۔ پنکھے بند تھے۔ اس کے بچے بے چینی سے کروٹیں بدل رہے تھے۔ پسینہ اس کے چہرے سے ٹپک رہا تھا اور گرم ہوا کے تھپیڑے اس کی بے بسی میں مزید اضافہ کر رہے تھے۔اس کی نظریں بار بار سرحد کے اس پار جا رہی تھیں۔ سامنے چند ہی کلومیٹر کے فاصلے پر بھارتی پنجاب کے ضلع امرتسر کا سرحدی گائوں بھیکھی ونڈ جگمگا رہا تھا۔ گھروں کی روشنیاں صاف دکھائی دے رہی تھیں۔ گلیاں روشن تھیں۔ پنکھے چل رہے تھے۔ ادھر پاکستان کے ضلع قصور کے اس سرحدی گائوں میں اندھیرا پھیلا ہوا تھا۔ نہ بجلی تھی نہ ہوا اور نہ ہی سکون۔کسان حسرت بھری نگاہوں سے سرحد کے اس پار پھیلی روشنیوں کو دیکھ رہا تھا۔ چند روز قبل ہی وہ اپنی فصل بیچ کر بجلی کا بھاری بھرکم بل جمع کرا آیا تھا۔ وہ سوچ رہا تھا یہ کیسا نظام ہے کہ چند قدم کے فاصلے پر واقع لوگ بجلی کی سہولت سے مستفید ہو رہے ہیں اور ہم مہنگے ترین بل ادا کرنے کے باوجود اندھیروں میں بیٹھے ہیں۔سیاست میں وعدہ کرنا آسان ہوتا ہے مگر اسے نبھاتا وہی ہے جس کے ارادے سچے ہوں اور نیت صاف ہو۔ جنوبی ایشیا کے تین صوبوں میں تین وزرائے اعلیٰ نے اپنی اپنی عوام سے بجلی کی سہولت فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔ دو نے اپنا وعدہ نبھایا اور ایک نے عوام کو مایوسی کے سوا کچھ نہ دیا۔ آئیے ان تینوں کے وعدوں اور ان پر عمل کا تقابلی جائزہ لیتے ہیں۔انڈین پنجاب میں عام آدمی پارٹی کے وزیراعلیٰ بھگونت مان نے جب 2022ء میں اقتدار سنبھالا تو انہوں نے انتخابی مہم میں کیا گیا سب سے بڑا وعدہ فوری طور پر پورا کیا۔ انہوں نے اعلان کیا تھا کہ ہر گھرانے کو ماہانہ تین سو یونٹ تک بجلی بالکل مفت ملے گی۔ یہ اعلان محض اعلان نہ رہا بلکہ جولائی 2022 ء سے ہی عملاً نافذ کر دیا گیا۔نتیجہ سب کے سامنے ہے۔
انڈین پنجاب کے تقریبا ًنوے فیصد گھرانوں کو ہر ماہ بجلی کا بل صفر آتا ہے۔ جو گھر تین سو یونٹ سے کم بجلی استعمال کرتے ہیں انہیں ایک پیسہ بھی ادا نہیں کرنا پڑتا۔ حکومت یہ بوجھ اپنے خزانے سے برداشت کرتی ہے اور سالانہ دس ہزار کروڑ روپے اس مد میں خرچ ہوتے ہیں۔ ستر لاکھ سے زیادہ گھرانے اس اسکیم سے فیض یاب ہو رہے ہیں۔بھگونت مان نے ثابت کیا کہ سیاسی وعدہ اگر دل سے کیا جائے تو اسے پورا کرنا ناممکن نہیں ہوتا۔ انہوں نے نہ کوئی بہانہ تراشا نہ کسی بیرونی دبا کا رونا رویا۔ عوام نے ووٹ دیا اور انہیں ریلیف مل گیا۔ یہی جمہوریت کا اصل حسن ہے۔تامل ناڈو میں ایک نئی سیاسی تاریخ رقم ہوئی جب مشہور فلمی اداکار وجے نے اپنی جماعت تمل ناگا وتری کژگم کے ذریعے الیکشن میں فتح حاصل کی اور وزیراعلیٰ کا حلف اٹھایا۔ تامل ناڈو میں ساٹھ سال سے دو بڑی جماعتیں باری باری حکومت کرتی آ رہی تھیں۔ وجے نے اس روایت کو توڑا اور عوام نے انہیں بھرپور مینڈیٹ دیا۔ وجے نے حلف اٹھانے کے بعد پہلے ہی دن جو فیصلہ کیا وہ ان کے کردار کی غمازی کرتا ہے۔ انہوں نے ماہانہ دو سو یونٹ تک بجلی مفت کرنے کے حکم پر دستخط کیے۔ تامل ناڈو پہلے سے سو یونٹ مفت دے رہا تھا۔ وجے نے اسے دوگنا کر دیا۔ دو ماہ کے بلنگ سائیکل میں چار سو یونٹ مفت ملیں گے بشرطیکہ کل استعمال پانچ سو یونٹ سے زیادہ نہ ہو۔ناقدین نے فوری طور پر یہ سوال اٹھایا کہ تامل ناڈو کی بجلی کمپنی پہلے سے مالی مشکلات میں ہے اور یہ اضافی بوجھ کہاں سے اٹھایا جائے گا۔ یہ تشویش بے جا نہیں۔ مگر وجے نے ایک بات بالکل واضح کر دی کہ وعدہ پورا کرنا سب سے پہلی ذمہ داری ہے۔ عوام کو وعدے پر اعتماد ہو یہ سیاسی رشتے کی بنیاد ہے اور اس بنیاد کو وجے نے پہلے ہی دن مضبوط کر دیا۔اب آتے ہیں پاکستانی پنجاب کی طرف جہاں وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے انتخابی مہم میں دو سو یونٹ تک بجلی مفت کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ عوام نے انہیں ووٹ دیا۔ مسلم لیگ نون نے حکومت بنائی اور مریم نواز پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ بنیں۔ یہ ایک تاریخی موقع تھا کہ وہ اپنے وعدے کو عملی جامہ پہنا کر عوام کا اعتماد مزید مضبوط کرتیں۔ مگر ایسا نہ ہوا۔مریم نواز کا وہ وعدہ جو انہوں نے لاکھوں غریب گھرانوں سے کیا تھا آج تک پورا نہیں ہوا۔ دو سو یونٹ مفت بجلی تو کجا بجلی کے بل پہلے سے بھی زیادہ بھاری ہو گئے۔
پاکستانی پنجاب میں فی یونٹ ریٹ بائیس روپے سے شروع ہو کر پینسٹھ روپے تک جا پہنچتا ہے۔ جو گھر تین سو یونٹ استعمال کررہا ہے اس کا بل دس سے پندرہ ہزار روپے ماہانہ بنتا ہے۔ جبکہ انڈین پنجاب میں وہی گھر ایک پیسہ بھی ادا نہیں کرتا۔حکومت نے اپنی ناکامی چھپانے کے لئے کئی راستے اختیار کیے۔ اگست اور ستمبر 2024ء میں پانچ سو یونٹ تک استعمال کرنے والوں کو دو ماہ کے لئے چودہ روپے فی یونٹ کمی دی گئی۔ یہ پینتالیس ارب روپے کا عارضی بندوبست تھا جو صرف دو مہینے چلا اور پھر سب کچھ پہلے جیسا ہو گیا۔ عوام کو مستقل ریلیف کی ضرورت تھی مگر انہیں عارضی مرہم دے کر خاموش کرانے کی کوشش کی گئی۔اس کے بعد روشن گھرانہ پروگرام کا اعلان ہوا جس میں دو سو یونٹ والے گھرانوں کو مفت سولر پینل دینے کی بات کی گئی۔ آٹھ لاکھ سے زیادہ گھرانوں نے درخواستیں دیں۔ قرعہ اندازی ہوئی اور صرف چوراسی ہزار گھر منتخب ہوئے۔ یعنی لاکھوں گھرانے خالی ہاتھ رہے۔ مفت بجلی کا وعدہ مفت سولر کی قرعہ اندازی میں بدل گیا اور وہ بھی مٹھی بھر لوگوں کے لیے۔حکومت کا موقف ہے کہ بجلی وفاقی معاملہ ہے اور آئی ایم ایف کی شرائط آڑے آتی ہیں۔ یہ بات حقائق سے متصادم نہیں مگر یہ وعدہ کرتے وقت بھی یہی صورتحال تھی۔ پھر عوام سے وہ وعدہ کیوں کیا گیاجسے پورا کرنا ممکن نہیں تھا۔ وعدہ جو پورا نہ ہو سکے اسے کرنا دھوکہ ہے اور یہی سیاست کا سب سے بڑا جرم ہے۔بھگونت مان نے تین سو یونٹ مفت کا وعدہ کیا اور نوے فیصد عوام کو صفر بل مل رہا ہے۔ وجے نے دو سو یونٹ مفت کا وعدہ کیا اور حلف اٹھانے کے پہلے دن اس پر عمل ہو گیا۔ مریم نواز نے دو سو یونٹ مفت کا وعدہ کیا اور آج بھی پاکستانی پنجاب کا غریب گھرانہ بھاری بجلی بل کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔فرق صرف نیت کا ہے۔ فرق صرف ارادے کا ہے۔ انڈین پنجاب اور تامل ناڈو میں بھی مالیاتی چیلنجز موجود ہیں۔ وہاں بھی سرکاری خزانے پر دبا ہے۔ پھر بھی انہوں نے اپنی عوام کو ریلیف دیا۔ پاکستانی پنجاب میں وسائل کی کمی سے زیادہ ارادے کی کمی ہے اور یہی وہ فرق ہے جو عوام کو سب سے زیادہ تکلیف دیتا ہے۔جمہوریت کا بنیادی اصول یہ ہے کہ عوام کا ووٹ ایک امانت ہے اور اس امانت کا بدلہ وعدوں کی تکمیل سے دیا جاتا ہے۔ بھگونت مان اور وجے نے اس اصول کو سمجھا اور اپنی عوام کا اعتماد قائم رکھا۔ مریم نواز نے اس اصول کو نظرانداز کیا اور عوام کی توقعات کو ٹھیس پہنچائی۔پاکستانی پنجاب کا عام شہری آج بھی چاہتا ہے کہ اسے ریلیف ملے۔ وہ یہ دیکھ رہا ہے کہ ہمسائے کی عوام کو مفت بجلی مل رہی ہے اور وہ خود مہنگے بل بھرنے پر مجبور ہے۔ یہ تقابل اسے تکلیف دیتا ہے اور یہ تکلیف سیاستدانوں کے لیے ایک سبق ہے کہ وعدہ اگر کرو تو پورا کرو ورنہ مت کرو۔جو حکمران عوام سے کیے گئے وعدے نبھاتے ہیں عوام انہیں یاد رکھتے ہیں اور جو وعدے کو توڑتے ہیں عوام انہیں بھی نہیں بھولتے۔ بھگونت مان اور وجے نے اپنا باب روشن لکھا۔ مریم نواز کے پاس ابھی وقت ہے کہ وہ اپنا باب دوبارہ لکھیں مگر ہر گزرتا دن ان کی ناکامی کی گواہی دیتا ہے اور عوام کا صبر ہمیشہ لامحدود نہیں ہوتا۔