پاکستان کی معیشت کے بارے میں ایک پرانی کہاوت ہے کہ یہاں ہر حکومت آتے وقت خزانہ خالی پاتی ہے اور جاتے وقت مزید خالی چھوڑ جاتی ہے۔ مگر اب تو معاملہ اس سے بھی آگے نکل گیا ہے۔ خزانہ خالی ہونے کی بات پرانی ہو چکی اب تو قرضوں کے انبار لگتے جا رہے ہیں اور ہر گزرتے سال کے ساتھ وہ بوجھ بڑھتا ہی چلا جاتا ہے جسے بالآخر اسی غریب عوام نے اٹھانا ہے جسے ابھی تک ریلیف کا ایک پیسہ بھی نصیب نہیں ہوا۔ اگر پچھلے تین سالوں کو دیکھا جائے تو یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ملک کس ڈھلوان پر کھڑا ہے اور وہ ڈھلوان ہر روز کچھ اور تیز ہوتی جا رہی ہے۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے تازہ ترین اعداد و شمار نے ایک ایسی تصویر پیش کی ہے جو دیکھنے والے کا دل بٹھا دیتی ہے۔ مارچ 2026 ء تک پاکستان پر مجموعی قرضے اور واجبات کا حجم 97ہزار 307 ارب روپے تک جا پہنچا ہے۔ صرف ایک سال کے اندر 7ہزار 533 ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اگر ہم 2022ء سے موازنہ کریں تو اس وقت یہ قرضہ 55ہزار ارب روپے کے لگ بھگ تھا یعنی محض تین برس کے مختصر عرصے میں یہ بوجھ تقریبا دوگنا ہو گیا۔ مقامی قرضہ 57 ہزار 566 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے جبکہ غیر ملکی قرضہ 35 ہزار ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔ گزشتہ سال یہ مجموعی حجم 89ہزار 774ارب روپے تھا اور اب وہ 97ہزار ارب سے اوپر نکل گیا ہے۔ یہ اعداد و شمار صرف ہندسے نہیں بلکہ ہر پاکستانی کی زندگی پر پڑنے والے اثرات کی داستان ہیں۔اس سارے عرصے میں عوام کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ بجلی مہنگی، آٹا مہنگا، دوائی مہنگی اور تعلیم و صحت کا تو پوچھنا ہی نہیں۔
غریب آدمی جب صبح اٹھتا ہے تو اس کے سامنے مہنگائی کا پہاڑ کھڑا ہوتا ہے۔ بازار جاتا ہے تو جیب خالی ہو جاتی ہے ہسپتال جاتا ہے تو علاج کے پیسے نہیں، بچوں کوسکول بھیجتا ہے تو فیسیں ادا نہیں ہوتیں اور پھر رات کو سوتے وقت اسے یہ خبر ملتی ہے کہ پاکستان نے قرضوں کا نیا ریکارڈ قائم کر لیا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ یہ قرضہ کہاں گیا؟ میری زندگی میں کیوں نہیں آیا؟ بات سادہ ہے مگر جواب اتنا پیچیدہ ہے کہ حکمران اسے سیدھا دینے سے ہمیشہ گریز کرتے ہیں۔ پاکستان کا بجٹ ہر سال ایک بڑے خسارے کے ساتھ بنتا ہے۔ یعنی حکومت جتنا کماتی ہے اس سے زیادہ خرچ کرتی ہے اور یہ فرق قرضہ لے کر پورا کیا جاتا ہے۔ اب جب پرانا قرضہ واپس کرنے کا وقت آتا ہے تو نیا قرضہ لیا جاتا ہے۔ اس طرح قرضہ چکانے کے لیے قرضہ اور قرضے کا سود چکانے کے لیے مزید قرضہ یہ ایک ایسا چکر ہے جو گھومتا جاتا ہے اور اس کا منہ ہر سال اور چوڑا ہوتا جاتا ہے۔ ماہرین اقتصادیات بتاتے ہیں کہ حکومتی اخراجات کا پچاس سے زیادہ فیصد حصہ صرف قرضوں کے سود اور اصل رقم کی واپسی میں چلا جاتا ہے۔ اس کے بعد دفاعی اخراجات اور انتظامی اخراجات آتے ہیں۔ پھر ترقیاتی منصوبوں اور عوامی فلاح کے لیے جو رقم بچتی ہے وہ اتنی کم ہوتی ہے کہ اس سے نہ اسپتال بن سکتے ہیں نہ اسکول اور نہ ہی غریب کو کوئی سہارا مل سکتا ہے۔اب بات کریں بجلی کے بل کی جو ہر گھر میں آج کل کسی عذاب سے کم نہیں لگتا۔ کئی گھروں میں بجلی کا بل گھر کے کرائے سے بھی زیادہ ہو گیا ہے۔ اس کا گہرا تعلق بھی اسی قرضے اور جوڑ توڑ کی سیاست سے ہے۔ بجلی کی پیداوار کے لیے ماضی میں نجی بجلی گھروں یعنی آئی پی پیز کے ساتھ جو معاہدے ہوئے وہ اس قدر بھاری شرائط پر تھے کہ ان کی گنجائش ادائیگیاں یعنی کیپیسٹی چارجز عوام کی کمر توڑ رہی ہیں۔ بجلی استعمال کرو یا نہ کرو، بل آئے گا کیونکہ ان بجلی گھروں کو خالی بیٹھے ہوئے بھی ادائیگی کرنا ہوتی ہے۔ یہ معاہدے کس نے کئے کس نے منظور کئے اور کس نے فائدہ اٹھایا یہ بالکل سادہ سی بات ہے کہ ملک کی اشرافیہ کو نوازنے کا ایک منصوبہ ہے عوام کا کون چوسا جا رہا ہے۔ ملک میں تمام رقم آئی پی پیز کو چلی جاتی ہے اور عوام کے جسموں سے کپڑے تک نوک لئے گئے ہیں مگر اس کا جواب کوئی حکومت دینے کو تیار نہیں۔اسی طرح پیٹرول پر ٹیکس، موبائل فون پر ٹیکس، خوردنی اشیا پر ٹیکس یہ سب کیوں لگائے جاتے ہیں؟ اس لیے کہ آئی ایم ایف نے شرط رکھی ہے کہ حکومت اپنی آمدنی بڑھائے۔
حکومت آمدنی بڑھاتی ہے تو عوام کی جیب سے نکالتی ہے کیونکہ بڑے سرمایہ داروں جاگیرداروں اور سیاسی اشرافیہ سے ٹیکس وصول کرنا اس ملک میں کبھی ممکن نہیں ہوا۔ تنخواہ دار طبقہ جس کی تنخواہ سے پہلے ہی ٹیکس کاٹ لیا جاتا ہے وہ قربانی دیتا ہے اور جو لوگ ارب کھرب کی جائیدادیں رکھتے ہیں وہ زرعی آمدن کی آڑ میں ٹیکس سے بچ جاتے ہیں۔ یہی اس ملک کی معیشت کا سب سے بڑا ظلم ہے اور یہی وجہ ہے کہ قرضہ لیتے رہو اور ٹیکس غریب سے وصول کرتے رہو کا یہ چکر کبھی ختم نہیں ہوتا۔حکومتیں آتی ہیں تو اڑان پاکستان اور خوشحال پاکستان کے نعرے لگاتی ہیں۔ دعوے کئے جاتے ہیں کہ معیشت استحکام کی راہ پر ہے سرمایہ کاری آ رہی ہے برآمدات بڑھ رہی ہیں۔ مگر جب قرضے دوگنے ہو جائیں اور عوام کی زندگی میں کوئی فرق نہ آئے تو یہ اڑان کس کے لئے ہے؟ کیا وہ اڑان اسی بے روزگار نوجوان کے لئے ہے جو ہر صبح نوکری کی تلاش میں نکلتا ہے اور شام کو خالی ہاتھ لوٹتا ہے؟ کیا وہ اڑان اس ماں کے لئے ہے جو بچے کو بخار میں تڑپتا دیکھتی ہے مگر دوائی خریدنے کے پیسے نہیں رکھتی؟ کیا وہ اڑان اس کسان کے لیے ہے جو فصل کاٹتا ہے مگر قرض اتارنے کے بعد اس کے ہاتھ میں کچھ نہیں بچتا؟پاکستان کا اصل مسئلہ قرضہ لینا نہیں ہے۔ دنیا کے بڑے بڑے ترقی یافتہ ممالک بھی قرضہ لیتے ہیں مگر وہ اسے پیداواری کاموں میں لگاتے ہیں۔ قرضہ اگر کسی ایسے منصوبے میں لگے جو روزگار پیدا کرے، صنعت کھڑی کرے، برآمدات بڑھائے تو وہ قرضہ آہستہ آہستہ اپنے آپ کو ادا کر دیتا ہے۔ مگر ہمارے ہاں قرضہ چلتی گاڑی کو چلانے کے لیے لیا جاتا ہے، پرانا قرضہ چکانے کے لیے نیا قرضہ لیا جاتا ہے اور کبھی کبھی ان منصوبوں کے نام پر لیا جاتا ہے جن کا فائدہ عوام کو کم اور چند مخصوص حلقوں کو زیادہ ہوتا ہے۔ جب تک قرضے کا مقصد پیداوار نہیں ہو گا، یہ بوجھ کم نہیں ہو گا۔اس مسئلے کا حل موجود ہے مگر اس کے لیے سیاسی ہمت اور ایمانداری کی ضرورت ہے جو ہمارے حکمرانوں میں ابھی تک نظرنہیں آتی ۔ سب سے پہلے ٹیکس کا دائرہ بڑھانا ہو گا۔ جو امیر ہے وہ ٹیکس دے اور جو غریب ہے اسے ریلیف ملے ۔ یہ اصول اس ملک میں الٹا چل رہا ہے جسے سیدھا کرنا ہو گا۔ سرکاری اخراجات میں بھی کٹوتی ناگزیر ہے۔ غیر ضروری وزارتیں، فضول ادارے، لمبے لمبے پروٹوکول اور اشرافیائی مراعات یہ سب قومی خزانے پر بوجھ ہیں اور انہیں ختم کیے بغیر معیشت نہیں سنبھلے گی۔ برآمدات بڑھانا ضروری ہے تاکہ ملک میں ڈالر آئیں اور قرضوں پر انحصار کم ہو۔ آئی ٹی، زراعت اور ٹیکسٹائل جیسے شعبوں میں سنجیدہ اور پائیدار توجہ دینے کی ضرورت ہے۔97ہزار ارب روپے کا قرضہ صرف ایک عدد نہیں یہ ہر پاکستانی کے کندھوں پر لدا ہوا بوجھ ہے۔ اگر اس قرضے کو ملک کی کل آبادی پر تقسیم کیا جائے تو ہر شہری چاہے وہ نوزائیدہ بچہ ہو یا بڑھاپے میں جھکائو ہوا بوڑھا لاکھوں روپے کا مقروض نکلتا ہے۔ وہ بچہ جو ابھی بولنا بھی نہیں سیکھا، وہ بھی پیدا ہوتے ہی مقروض ہے ۔ یہ کیسا پاکستان ہے جو ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لئے بنا رہے ہیں؟پاکستان کی اڑان کے دعوے اس وقت تک کھوکھلے رہیں گے جب تک یہ اڑان صرف قرضوں کے گراف پر نظر آئے اور عوام کی زندگی میں نہ دکھے۔ اعداد و شمار کی بجائے حکومت کو عوام کی آنکھوں میں دیکھنا چاہیے ۔ وہاں نہ اڑان نظر آئے گی اور نہ خوشحالی ۔ صرف تھکاوٹ ہے، مایوسی ہے اور ایک ایسا سوال جو ہر گھر کی دیوار پر لکھا ہوا ہے یہ قرضہ آخر کہاں گیا؟