(گزشتہ سے پیوستہ)
سیتھ فرانٹزمین جوموجودہ دورکے ایک معروف امریکی نژاداسرائیل میں مقیم صحافی،سیاسی تجزیہ کار،محقق اورمصنف ہیں،جنہیں خاص طورپرمشرقِ وسطیٰ کی جنگوں،ایران، اسرائیل ، شام،عراق اورعسکری حکمتِ عملی کے تجزیے پرگہری مہارت حاصل ہے۔ان کے مطابق ’’نیوابراہیم اکارڈز‘‘ ایک غیرحقیقی تصورہے کیونکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ان کے مطابق خطہ اس وقت استحکام کے بجائے مزید کشیدگی کی طرف بڑھ رہا ہے،نہ کہ امن کی طرف۔اس لئے ایسے معاہدات کاپھیلاؤ مشکل دکھائی دیتاہے کیونکہ اگران میں انصاف کا عنصر شامل نہ ہواتویہ مزیدتنازعات کوجنم دے سکتے ہیں۔امن صرف معاہدوں سے نہیں بلکہ انصاف سے قائم ہوتاہے۔یہ تجزیہ اس بات کی نشاندہی کرتاہے کہ زمینی حقائق اورسیاسی بیانیے میں کتنافرق ہے۔ایران جنگ کے بعدممکن ہے کہ نئے اتحادابھریں۔ ترکی،سعودی عرب اور پاکستان ایک مشترکہ محاذبناسکتے ہیں۔یہ اتحاد اگر وجود میں آیاتوعالمی سیاست میں ایک نئی قوت کے طورپر سامنے آسکتاہے۔
کیاامریکاگریٹر اسرائیل کے تصورکو فروغ دے رہاہے؟بعض تجزیہ کاروں کے مطابق ایساہی لگتا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق امریکاایک ایسے مشرقِ وسطی کی تشکیل چاہتاہے جہاں اسرائیل مرکزی حیثیت رکھتاہویہی ’’گریٹراسرائیل‘‘ کا تصور ہے۔بعض تجزیہ کاروں کے مطابق امریکااس تصور کوعملی شکل دینے کی کوشش کررہاہے۔یادرہے کہ گریٹر اسرائیل کاتصور ایک ایسا نظریہ ہے جو صرف خطے میں ہی نہیں بلکہ عالمی طورپربے چینی کاسبب بناہواہے۔یہ تصورخطے میں بے چینی کوبڑھا سکتا ہے اورنئے تنازعات کو جنم دے سکتا ہے۔
پاکستان کے ساتھ ماضی میں کیے گئے وعدوں کی خلاف ورزیاںخصوصاسوویت یونین کے خاتمے کے بعدپاکستان کے ساتھ کیے گئے وعدوں کی خلاف ورزیاں اس بات کاثبوت ہیں کہ عالمی سیاست میں مفادات کوترجیح دی جاتی ہے۔گویاعالمی سیاست میں مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتے، صرف مفادات ہوتے ہیں اور امریکا کی تاریخ یہ گواہ ہے کہ اس نے اپنے مفادات کے حصول کے بعد فووری طورپراپنے محسنوں کی گردن پرچھری چلانے میں لمحہ بھرکے لئے تاخیرنہیں کی۔کیاہم اب بھی اس تاریخ سے سبق حاصل کرنے کوتیار ہیں کہ نہیں۔
امریکاکابھارت کے ساتھ بڑھتاہواتعلق اور اسے اسٹریٹجک پارٹنربناناپاکستان کے لئے ایک بڑاچیلنج ہے۔یہ تبدیلی خطے میں طاقت کے توازن کومتاثرکررہی ہے۔امریکی وزیر خارجہ کایہ کہنا کہ وہ پاکستان کے لئے بھارت کوقربان نہیں کرسکتے، دراصل یہ ایک واضح پیغام ہے کہ امریکا کی ترجیحات بدل چکی ہیں اورخطے میں طاقت کے توازن کی نئی سمت کی نشاندہی کرتا ہے۔ پاکستان کے لئے اس صورتحال میں یہ اہم سبق ہے کہ وہ جذباتی فیصلوں سے گریز ورحکمت سے کام لے۔’’بیگانی شادی میں ناچنے‘‘کی روایت ترک کرکے اپنے مفادات کوترجیح اورمقدم رکھناوقت کی ضرورت ہے اوراپنی خارجہ پالیسی کوحقیقت پسندانہ بنیادوں پراستوار کرکے مستقبل کے محفوظ راستے کاانتخاب کرتے ہوئے عالمی سیاست میں توازن برقرار رکھے کیونکہ تاریخ انہی قوموں کو یاد رکھتی ہے جواپنے اصولوں پرقائم رہتی ہیں۔
یہ وقت ہے کہ مسلم دنیااپنی صفوں میں اتحادپیدا کرے۔یہ سوال کہ مسلم دنیاابراہیمی معاہدات میں شامل ہویانہیں،دراصل ایک بڑے سوال کا حصہ ہے ، کیا ہم اصولوں پرقائم رہیں گے یامفادات کے سامنے جھک جائیں گے؟کیایہ فیصلے انصاف پرمبنی ہیں یامحض طاقت کے کھیل کاحصہ؟ اگرانصاف کونظراندازکیاگیا تو امن محض ایک سراب رہے گا۔اگراصولوں کاسوداکیاگیا تو وقتی فائدہ توہوسکتاہے،مگرتاریخ کافیصلہ ہمیشہ اصولوں کے حق میں ہوتاہے۔
تاریخ خاموش نہیں رہتی،وہ ہرعمل کاحساب رکھتی ہے۔آج جوفیصلے کئے جارہے ہیں،وہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کاتعین کریں گے۔ تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ قومیں صرف طاقت سے نہیں بلکہ اصولوں سے زندہ رہتی ہیں۔اگرمسلم دنیانے اپنے اصولوں کاسوداکر لیا تووہ اپنی شناخت کھودے گی لیکن اگرمسلم دنیانے اتحاد،حکمت اوراصولوں کادامن تھام لیاتووہ اس بحران سے سرخروہوسکتی ہے۔ بصورت دیگر،یہ موقع بھی تاریخ کے اوراق میں ایک کھوئے ہوئے امکان کے طورپردرج ہوجائے گا۔یہ وقت ہے کہ ہم ہوش کے ناخن لیں،ورنہ آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔
تاہم یہ تمام سوالات دراصل ایک بڑے سوال کی طرف اشارہ کرتے ہیں،کیادنیاانصاف پرمبنی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے یامحض طاقت کے کھیل میں الجھ رہی ہے؟اگرمسلم دنیا نے اپنے اصولوں کومضبوطی سے تھام لیاتووہ اس طوفان سے گزرکرایک نئی صبح دیکھ سکتی ہے ورنہ یہ اندھیری رات طویل بھی ہوسکتی ہے اور صبرآزما بھی۔