قرنِ اول میں ’’فقہ‘‘ اور ’’تفقہ‘‘ کا لفظ جس مقصد کے لیے اور جس معنٰی میں بولا جاتا تھا وہ آج کے اس مفہوم سے بہت زیادہ وسیع تھا جس پر ہمارے اِس دور میں فقہ کا اطلاق ہوتا ہے۔ ’’التوضیح والتلویح‘‘ میں حضرت امام ابوحنیفہؒ کے حوالے سے فقہ کی یہ تعریف بیان کی گئی ہے ’’معرفۃ النفس ما لہا و ما علیہا‘‘ کہ ایک انسان اپنے حقوق و فرائض کی پہچان حاصل کرے۔ حقوق و فرائض کا یہ دائرہ دین کے تمام شعبوں کو محیط ہے اس لیے فقہ اس دور میں دین کے مجموعی فہم کو کہا جاتا تھا۔ چنانچہ صاحبِ توضیح و تلویح نے لکھا ہے کہ امام صاحبؒ کے زمانے میں علم الحقیقہ، علم الطریقہ اور علم الشریعہ تینوں فقہ میں شامل تھے، اور احکام و مسائل کے ساتھ ساتھ تصوف و سلوک اور اعتقادات و ایمانیات کو بھی فقہ کا حصہ سمجھا جاتا تھا۔ اسی لیے حضرت امام ابوحنیفہؒ نے عقائد پر جو رسالہ لکھا اسے ’’الفقہ الاکبر‘‘ کا نام دیا۔ بعد میں فقہاء نے ’’معرفۃ النفس ما لہا و ما علیہا‘‘ کے ساتھ ’’عملاً‘‘ کا لفظ بڑھا کر فقہ کو احکام و مسائل تک محدود کر دیا۔
یہ بات امام غزالیؒ نے بھی ’’احیاء علوم الدین‘‘ میں بیان کی ہے اور اس بات کا شکوہ کیا ہے کہ فقہ کے مفہوم سے ایمانیات اور تصوف و سلوک کو الگ کر دینے سے فقہ کی حیثیت ایک ٹیکنیکل علم (صناعۃ) کی رہ گئی ہے جس سے وہ مقاصد پورے نہیں ہوتے جن کے حوالے سے قرآن کریم نے فقہ و تفقہ کا ذکر کیا ہے۔ امام غزالیؒ کا کہنا ہے کہ قرآن کریم نے ’’لیتفقہوا فی الدین‘‘ کے ساتھ ’’ولینذروا قومہم‘‘ کا ذکر فرما کر فقہ کا مقصد یہ بیان کیا ہے کہ اس کے ساتھ قوم کو خدا کی ناراضگی اور عذاب سے ڈرایا جائے، اور ظاہر ہے کہ ’’انذار‘‘ کا یہ مقصد صرف احکام و مسائل کے فنی علم سے حاصل نہیں ہو سکتا بلکہ اس کے ساتھ ایمان و یقین کی پختگی اور نفس کی اصلاح و تزکیہ بھی ضروری ہے۔ اس لیے امام غزالیؒ فرماتے ہیں اور میری طالب علمانہ رائے بھی یہ ہے کہ فقہ کو اس وسیع مفہوم و تناظر میں دیکھنا چاہیے جو اسے قرنِ اول میں حاصل تھا، اور اس کی تعلیم و تدریس میں ان مقاصد کو سامنے رکھنا ضروری ہے جو امام ابوحنیفہؒ کے دور میں اس علم کے اہداف کے طور پر متعارف تھے۔
میری اس گزارش کا مقصد یہ نہیں ہے کہ فقہ کے موجودہ نصاب اور مواد میں یہ دو مضمون بڑھا دیے جائیں کیونکہ یہ فوری طور پر خاصا مشکل کام ہوگا۔ البتہ یہ ضرور چاہوں گا کہ پڑھانے والے اساتذہ کے ذہنوں میں فقہ کا یہ وسیع تر مفہوم اور اس کے مجموعی مقاصد ضرور موجود رہیں تاکہ وہ تدریس کے دوران اپنے طرز و اسلوب کے ذریعے طلبہ کی ذہن سازی کرتے رہیں۔
اس کے بعد فقہ کی تدریس کے حوالے سے دینی مدارس کے موجودہ عمومی ماحول کے تناظر میں کچھ باتیں مرحلہ وار عرض کرتا ہوں جن کی طرف اساتذہ کو توجہ دلانا آج کے حالات اور تقاضوں کی روشنی میں میرے خیال میں ضروری ہے۔
پہلی بات یہ کہ ’’فقہ‘‘ کا لفظ ہی یہ تقاضا کرتا ہے کہ صرف مسائل کا معلوم کر لینا اور احکام و ضوابط کا رٹ لینا طالب علم کے لیے کافی نہیں ہے بلکہ فقہ کا تعلق فہم سے ہے۔ اس لیے ایک استاذ کی یہ کوشش ہونی چاہیے کہ اس کے سامنے بیٹھے ہوئے طلبہ کو کتاب میں درج مسائل و احکام صرف معلوم نہ ہوں بلکہ وہ انہیں سمجھ بھی رہے ہیں اور ان کا ذہن انہیں قبول بھی کر رہا ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ ہم حنفی ہیں اور ہمارے مدارس میں فقہ حنفی پڑھائی جاتی ہے۔ اصولی طور پر ہمارے ہاں فقہ حنفی ہی پڑھائی جانی چاہیے لیکن اہلِ سنت کی دوسری فقہوں کے ساتھ، جن میں فقہ شافعی، فقہ مالکی، فقہ حنبلی کے ساتھ فقہ ظاہری کو بھی شامل کروں گا، طلبہ کا تعارف ضروری ہے۔ ہماری فقہ کی درسی کتابوں میں خواہ وہ متون ہوں یا شروح مثلاً قدوری، کنز الدقائق، شرح وقایہ، ہدایہ، شرح نقایہ وغیرہ۔ مصنفین نے اس امر کا اہتمام کیا ہے کہ فقہ حنفی کے مطابق مسائل بیان کرتے ہوئے جہاں ضروری سمجھا ہے وہاں دوسرے فقہی مذاہب کے احکام کا بھی ذکر کیا ہے۔ آج کے دور میں چونکہ باہمی میل جول بڑھ رہا ہے اور ہمارے فضلاء کو ایسے مقامات پر دینی خدمات سرانجام دینا پڑتی ہیں جہاں احناف کے علاوہ دیگر فقہی مذاہب سے تعلق رکھنے والے مسلمان بھی موجود ہوتے ہیں، اس لیے ایسے مشترک ماحول میں دینی خدمت کرنے والے امام، خطیب یا مدرس کو اپنی فقہ کی تفصیلات کے ساتھ ساتھ دوسرے فقہی مذاہب سے بھی واقف ہونا چاہیے تاکہ وہ مسائل میں اختلاف کی وجوہ اور درجات و ترجیحات کو صحیح طور پر سمجھتے ہوئے مسلمانوں کی بہتر انداز میں راہنمائی کر سکیں۔
میں فقہ کے نصاب میں کسی نئے اضافے کی بات نہیں کر رہا بلکہ یہ گزارش کر رہا ہوں کہ وہ کام جو ہمارے فقہاء نے درسی کتابوں کے متون اور شروح میں محدود انداز میں کیا ہے، ضروریات کا دائرہ وسیع ہونے کی وجہ سے اس میں وسعت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ البتہ اس کے لیے استاذ کو زیادہ محنت کرنا ہوگی کہ وہ مشترک ماحول میں عام طور پر پیش آنے والے مسائل کا علم حاصل کریں اور اسے فقہ کی کتاب پڑھاتے ہوئے جہاں جہاں ضرورت ہو طلبہ کے ذہنوں میں منتقل کرتے جائیں۔
(جاری ہے)