Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

اتحادِ امت کا نیا موڑ

تاریخ کے بعض ادوارایسے ہوتے ہیں جب زمانہ خودسوال بن کراقوام کے دروازے پردستک دیتا ہے۔ امتوں کی تاریخ میں بعض لمحے ایسے آتے ہیں جب وقت کی دھڑکنیں تیز ہو جاتی ہیں اورجغرافیے کی سرحدیں لرزنے لگتی ہیں۔عالمِ اسلام اس وقت تاریخ کے ایک ایسے موڑپرکھڑاہے جہاں سیاسی افق پربادل گہرے ہیں،مگرانہی بادلوں کے پسِ پردہ امکانات کی بجلی بھی چمک رہی ہے۔مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ فضا،عالمی طاقتوں کی صف بندیاں،اورخطے میں طاقت کے نئے توازن کی جستجویہ سب عوامل ایک ایسے تصورکودوبارہ زندہ کررہے ہیں جسے بعض حلقوں نیاسلامی نیٹوکانام دیاہے۔یہ نام محض اصطلاح نہیں،بلکہ ایک خواہش، ایک اضطراب،اورایک حکمتِ عملی کی علامت ہے۔
آج عالمِ اسلام بھی ایک ایسے ہی سوال کے روبروکھڑا ہیگویاقرونِ ماضی کی خوابیدہ آرزونئی تعبیرکی تلاش میں بیدارہورہی ہو۔ یہ محض عسکری بندوبست کا سوال نہیں،بلکہ تہذیبی وقار ،سیاسی خودمختاری اور اجتماعی سلامتی کا قضیہ ہے۔کیامسلمان ممالک بکھری ہوئی جغرافیائی اکائیوں کی صورت میں عالمی سیاست کی موجوں کا سامناکرتے رہیں گے،یاوہ ایک منظم ، مربوط اورباوقار تزویراتی وحدت کی شکل اختیارکریں گے؟ایسے ہی ایک عہدِاضطراب میں اسلامی نیٹوکاتصورپھرسے افقِ سیاست پرنمودار ہوا ہے۔
عالمِ اسلام کی سیاسی فضااس وقت تغیرکے ایک ایسے دوراہے پرکھڑی ہے جہاں ہرسمت سے سوال اٹھ رہے ہیں:کیامسلمان ممالک منتشر قوتوں کامجموعہ رہیں گے یاایک مربوط تزویراتی وحدت کی صورت اختیارکریں گے؟مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی،عالمی طاقتوں کی نئی صف بندیاں،اورعلاقائی تنازعات نے اس سوال کومحض نظری نہیں بلکہ عملی بنادیاہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی،عالمی طاقتوں کی نئی صف بندیاں،توانائی کی سیاست، اور اسرائیل کی عسکری برتری نے مسلم دنیامیں اجتماعی دفاع کے تصورکوازسرِنوزندہ کیا ہے۔امریکااورایران کے درمیان کشیدہ تعلقات اورایران کی جوہری ومیزائل صلاحیتوں کے گردگھومتی عالمی سیاست نے اس امکان کوجنم دیاہے کہ خطہ کسی بڑے تصادم کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ ایسے میں یہ سوال ناگزیرہوگیا ہے کہ کیامسلم ممالک ایک دفاعی وسیاسی اتحادکی شکل میں اپنی اجتماعی سلامتی کویقینی بناسکتے ہیں؟
عالمِ اسلام ایک ایسے عہدِانتقال سے گزر رہا ہے جہاں قوت کامفہوم بدل رہاہے۔اب صرف سپاہ اوراسلحہ فیصلہ کن نہیں،بلکہ ٹیکنالوجی، معیشت، ادارہ جاتی ہم آہنگی اورسیاسی عزم بھی طاقت کے ستون ہیں۔ اسلامی نیٹوکاتصوراگرچہ ابھی بیانیاتی سطح پرہے،مگراس کے امکانات کوعملی صورت دینے کے لئے ہراسلامی ملک کواپنی مخصوص قوت کے ساتھ کردارادا کرنا ہو گا۔
امریکااورایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اوراسرائیل کی عسکری برتری نے مسلم دنیامیں اجتماعی دفاع کے تصورکوازسرِنو زندہ کیاہے۔اسی پس منظرمیں ترکی کے صدررجب طیب اردوغان نے مسلم ممالک کواسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم کے مقابل اتحادکی دعوت دی،اورپاکستان کے وزیرِدفاع خواجہ آصف نیاسلامی نیٹوکی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے ایک نیٹوطرزکے عسکری اتحادکی تجویزپیش کی۔یہ بیانیہ محض سیاسی نعرہ نہیں بلکہ جہاں ایک ایسے فکری وعملی مباحثے کی تمہیدہے جوعالمِ اسلام کی آئندہ سمت کاتعین کرسکتاہے وہاںاسلامی نیٹوکی اصطلاح نے ایک نئی بحث کو جنم دیا۔ یہ مضمون اسی بحث کووسعت دیتے ہوئے ایک جامع خاکہ پیش کرتاہیجس میں تاریخی تناظر،سیاسی تجزیہ،معاشی امکانات، عسکری حکمتِ عملی،تہذیبی جہات اور ممکنہ چیلنجزسب کویکجاکرکے ایک جامع اورمفصل خاکہ پیش کرتا ہے۔
امریکااورایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے مشرقِ وسطیٰ کوایک بارپھربارودکے ڈھیر پر لاکھڑا کیاہے۔اگرایران کی جوہری یا میزائل صلاحیتوں کوہدف بنانے کی کوئی مہم شروع ہوتی ہے تواس کے اثرات سرحدوں تک محدود نہیں رہیں گے؛یہ پورے عالمِ اسلام کوسیاسی وعسکری ارتعاش میں مبتلاکرسکتے ہیں۔ امریکااورایران کے درمیان کشیدگی، اسرائیل کی عسکری پیش رفت،اورخطے میں پراکسی جنگوں کے تسلسل نے عرب ومسلم دنیاکوایک بارپھراجتماعی دفاع کے سوال سے دوچارکیاہے۔اگر ایران کی جوہری یامیزائل صلاحیتوں کوہدف بنانے کی کوئی مہم شروع ہوتی ہے تواس کے اثرات محض تہران تک محدود نہیں رہیں گے؛پوراخطہ اس کے ارتعاش سے لرزسکتاہے۔
امریکاکی جانب سے ایران پرممکنہ حملے کے خدشات اورخطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عرب ومسلم دنیاکوایک بارپھراجتماعی دفاع کی ضرورت کااحساس دلایاہے۔اسلامی نیٹوکا تصوراسی اضطرارکی کوکھ سے جنم لیتاہے۔سوال یہ ہے کہ کیا یہ اتحاد قابلِ عمل ہے یامحض اضطرابِ حال کی پیداوار؟کیایہ اتحادردِعمل کی سیاست ہوگایادوراندیشی کی حکمت؟اگریہ صرف کسی ممکنہ حملے کے خوف سے تشکیل پاتاہے تواس کی بنیاد کمزور ہو گی، لیکن اگریہ اجتماعی سلامتی،دفاعی خودکفالت اور اسٹریٹجک خودمختاری کے تصورپرقائم ہوتویہ پائیدار ڈھانچہ بن سکتاہے۔تاریخ گواہ ہے کہ اتحادمحض جذبات سے نہیں، مشترک مفادات،سیاسی عزم اورادارہ جاتی استحکام سے جنم لیتاہے۔اگریہ عناصرہم آہنگ ہوجائیں تویہ خواب حقیقت کاجامہ پہن سکتاہے،بصورتِ دیگریہ بھی ان معاہدوں کی طرح کاغذی قلعہ ثابت ہوگاجووقت کی پہلی آندھی میں ریزہ ریزہ ہوگئے۔
کسی بھی اتحادکی پہلی اینٹ نظریاتی وضاحت قانونی فریم ورک ہوتی ہے۔تمام اسلامی ممالک کوایک مشترکہ دفاعی منشورتیار کرنا چاہیے جس میں یہ طے ہوکہ اتحادکامقصددفاع ہے ،جارحیت نہیں۔اس منشورمیں یہ شق شامل ہوکہ کسی ایک رکن پرحملہ سب پر حملہ تصورہوگامگراقوامِ متحدہ کے چارٹر اوربین الاقوامی قانون کی پاسداری کے ساتھ۔ ایک مستقل مشترکہ سیکریٹریٹ قائم کیا جائے جو پالیسی،مشاورت اوربحران کے وقت رابطہ کاری سنبھالے۔یہی وہ پس منظرہے جس میں ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے مسلم ممالک کواتحاد کی دعوت دی اور پاکستان کے وزیرِدفاع خواجہ آصف نیاسلامی نیٹوکی اصطلاح کوزبان دی۔یہ بیانیہ وقتی ردِعمل بھی ہوسکتاہے اورایک طویل المدت حکمتِ عملی کی تمہیدبھی۔
اسلامی تاریخ میں اتحاد کا تصور نیا نہیں۔ خلافتِ راشدہ سے لے کر سلطنتِ عثمانیہ تک، مختلف ادوار میں سیاسی وحدت نے امت کو عسکری و تہذیبی قوت عطا کی۔ مگر جدید قومی ریاستوں کے قیام کے بعد عالمِ اسلام جغرافیائی اور سیاسی طور پر منقسم ہو گیا۔عرب لیگ اور دیگر علاقائی معاہدے وجود میں آئے،مگربیشتردفاعی معاہدے کاغذی ثابت ہوئے۔ اس تاریخی تجربے نے یہ سبق دیاکہ اتحاد صرف اعلامیہ نہیں بلکہ ادارہ جاتی استحکام، مشترکہ مفادات اورمستقل مزاج قیادت کا تقاضاکرتا ہے۔
ستمبر2024ء میں رجب طیب اردوغان نے مسلم ممالک کواسرائیل کیتوسیع پسندانہ عزائمکے مقابل اتحادکی دعوت دی۔یہ بیان محض سفارتی جملہ نہ تھابلکہ ترکی کی نئی خارجہ حکمتِ عملی کامظہرتھاوہ حکمتِ عملی جس میں انقرہ خودکومحض پل نہیں بلکہ مرکزِتوازن کے طور پر پیش کررہاہے۔بعدازاں ستمبر2025ء میں خواجہ آصف نے اسلامی نیٹوکی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے ایک نیٹوطرزکے عسکری بندوبست کی تجویز پیش کی۔ خواجہ آصف کی جانب سیاسلامی نیٹوکی اصطلاح کااستعمال ایک علامتی پیش رفت تھی۔پاکستان ، جوایٹمی قوت اورعسکری تجربے کاحامل ہے،اس اتحادمیں وزن ڈال سکتاہے۔اسی تسلسل میں پاک سعودی دفاعی معاہدہ اورترکی،مصراورسعودی عرب کے درمیان حالیہ سفارتی روابط نے اس بیانیے کو مزید مہمیزاورعملی جہت دی ہے۔ ترکی کی فعال خارجہ پالیسی،مصرکی علاقائی اہمیت اور سعودی عرب کی مالی وسیاسی قوت اگریکجاہوجائیں توایک ایسامحورتشکیل پاسکتاہے جومشرقِ وسطیٰ کے توازن کومتاثرکرسکتا ہے۔ یادرہے کہ گزشتہ دوبرسوں میں ترکی،مصراورسعودی عرب کے درمیان سفارتی روابط میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ترکی نے اپنی خارجہ پالیسی کو فعال اورخود مختاربنانے کی کوشش کی ہے۔مصربحیرہ روم اورافریقہ کے سنگم پرواقع ایک کلیدی ملک ہے،جبکہ سعودی عرب خطے میں سیاسی ومالی اثرورسوخ رکھتاہے۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں