Search
Close this search box.
اتوار ,07 جون ,2026ء

بے یقینی کے دلدل میں کھڑی حکومت

(گزشتہ سے پیوستہ)
پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر اتحادی جماعتیں بظاہر حکومت کا حصہ ہیں، مگر اکثر مواقع پر ان کے بیانات اور طرزِ عمل سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ حکومت کے ساتھ بھی ہیں اور اس سے فاصلہ بھی رکھنا چاہتی ہیں۔ اتحادیوں کی یہی دو رخی کیفیت حکمران جماعت کے لیے مسلسل تشویش کا باعث بنتی ہے۔ پاکستانی سیاست میں وفاداریاں موسموں کی طرح بدلتی رہی ہیں۔اس سے بھی زیادہ اہم مسئلہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات کا ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں شاید ہی کوئی حکومت ایسی گزری ہو جس کے مستقبل کا اندازہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات کو دیکھے بغیر لگایا جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی تجزیوں کا ایک بڑا حصہ ہمیشہ اسی سوال کے گرد گھومتا رہتا ہے کہ حکومت اور مقتدر حلقوں کے تعلقات کس نوعیت کے ہیں۔ جب سیاست کا محور عوام کے بجائے طاقت کے دوسرے مراکز بن جائیں تو پھر حکومتیں عوامی کارکردگی سے زیادہ تعلقات کے توازن پر انحصار کرنے لگتی ہیں۔مسلم لیگ (ن) کی قیادت ماضی کے تجربات سے بخوبی واقف ہے۔ وہ جانتی ہے کہ پاکستانی سیاست میں اقتدار صرف حاصل کرنا کافی نہیں، اسے برقرار رکھنا بھی ایک الگ فن ہے۔ شاید اسی لئے حکومتی رویوں میں اکثر احتیاط، تذبذب اور غیر ضروری دفاعی انداز دکھائی دیتا ہے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ حد سے زیادہ احتیاط بھی بعض اوقات کمزوری کا تاثر پیدا کرتی ہے۔بجٹ کی تیاری اور منظوری کا مرحلہ بھی حکومت کے لیے آسان نہیں۔ ایک طرف عالمی مالیاتی اداروں کی شرائط ہیں، دوسری طرف عوامی توقعات کا بوجھ۔ حکومت اگر ٹیکس بڑھاتی ہے تو عوام ناراض ہوتے ہیں، اگر سبسڈیز دیتی ہے تو مالیاتی خسارہ بڑھ جاتا ہے۔ اگر کفایت شعاری کرتی ہے تو معاشی سرگرمی سست پڑ جاتی ہے اور اگر اخراجات بڑھاتی ہے تو بین الاقوامی ادارے اعتراض کرتے ہیں۔ گویا ہر راستہ کسی نہ کسی مشکل کی طرف جاتا ہے۔اصل سوال یہ ہے کہ آخر یہ بے یقینی ختم کیوں نہیں ہو رہی؟ اس کا جواب شاید سیاسی اخلاقیات اور عوامی اعتماد کے بحران میں پوشیدہ ہے۔ جو حکومتیں عوام کے واضح مینڈیٹ سے وجود میں آتی ہیں، وہ نسبتاً زیادہ اعتماد کے ساتھ فیصلے کرتی ہیں۔ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ ان کی اصل طاقت عوام ہیں۔ لیکن جب حکومتیں مختلف سیاسی سہاروں اور سمجھوتوں کے نتیجے میں وجود میں آئیں تو پھر انہیں ہر وقت اپنے اردگرد کے ستونوں کی مضبوطی کا جائزہ لینا پڑتا ہے۔پاکستان کو اس وقت ایسی سیاست کی ضرورت ہے جو اقتدار کے حصول کے بجائے ریاست کے استحکام کو ترجیح دے۔ ایسی سیاست جو مخالفین کو دشمن نہ سمجھے، اختلاف کو غداری قرار نہ دے اور عوامی رائے کو محض ایک رسمی کارروائی نہ سمجھے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں سیاسی جماعتیں اقتدار میں آتے ہی ریاست کو اپنی جاگیر اور اپوزیشن کو اپنا دشمن سمجھنے لگتی ہیں۔مسلم لیگ (ن) کے لیے بھی یہ لمحۂ فکریہ ہے۔ اگر وہ واقعی سیاسی استحکام چاہتی ہے تو اسے محض انتظامی کارکردگی پر اکتفا نہیں کرنا ہوگا بلکہ سیاسی مفاہمت، جمہوری رواداری اور عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے بھی عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ اپوزیشن کو دیوار سے لگانے کی پالیسی وقتی فائدہ تو دے سکتی ہے مگر پائیدار استحکام پیدا نہیں کر سکتی۔حکومتوں کی اصل طاقت پارلیمان کی نشستیں نہیں بلکہ عوام کا اعتماد ہوتا ہے۔ جب عوام یہ محسوس کرنے لگیں کہ ان کی رائے کی قدر کی جا رہی ہے، ان کے مسائل سنجیدگی سے حل کیے جا رہے ہیں اور ریاستی ادارے سب کے لیے یکساں ہیں، تب سیاسی استحکام پیدا ہوتا ہے۔ بصورتِ دیگر اقتدار کے ایوان کتنے ہی مضبوط کیوں نہ ہوں، ان کے اندر بیٹھے لوگوں کے دلوں میں بے یقینی کا دھڑکا موجود رہتا ہے۔آج مسلم لیگ (ن) کی حکومت ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں اسے فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا وہ ماضی کے روایتی سیاسی سانچوں میں رہنا چاہتی ہے یا ایک نئے سیاسی راستے کی بنیاد رکھنا چاہتی ہے۔ کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ بے یقینی کے دلدل سے نکلنے کے لیے مزید سہاروں کی نہیں بلکہ مضبوط عوامی بنیادوں کی ضرورت ہوتی ہے۔اگر حکومت نے سیاسی استحکام کے بجائے محض اقتدار کے استحکام کو ترجیح دی جو ہمیشہ سے اس کا مدعا رہا ہے،تو شاید وقتی طور پر معاملات سنبھل جائیں، لیکن بے یقینی کے بادل چھٹ نہیں سکیں گے۔ اور اگر اس نے عوامی اعتماد، شفاف سیاست اور حقیقی جمہوری عمل کو اپنا سرمایہ بنایا تو یہی مشکلات اس کے لیے طاقت کا ذریعہ بھی بن سکتی ہیں۔تاریخ کا سبق واضح ہے: اقتدار کے محل سمجھوتوں سے تعمیر تو ہو سکتے ہیں، مگر اعتماد کی بنیاد کے بغیر زیادہ دیر قائم نہیں رہتے۔ بے یقینی کے دلدل سے نکلنے کا واحد راستہ عوام کی طرف جاتا ہے، اور جو حکومتیں یہ راستہ بھول جاتی ہیں، وہ بالآخر اپنے ہی خدشات اور وسوسوں کی دلدل میں دھنستی چلی جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں