Search
Close this search box.
اتوار ,07 جون ,2026ء

اتحادِ امت کا نیا موڑ

(گزشتہ سے پیوستہ)
ماضی کے مشترکہ دفاعی معاہدے اکثر کاغذی ثابت ہوئے۔عرب لیگ کے دفاعی معاہدے ہوں یا دیگرعلاقائی کوششیں ان میں ادارہ جاتی قوت اورسیاسی عزم کی کمی رہی۔سب سے بڑاچیلنج ماضی کےوہ دفاعی معاہدےہیں جوکبھی عملی شکل اختیارنہ کرسکے۔ بعض اوقات تومعاہدہ کرنے والے ممالک باہم متصادم بھی ہوئے۔یہ تاریخی تجربہ ہرنئے منصوبے کو احتیاط کادرس دیتاہے کہ اتحاد محض اعلامیہ سے نہیں، مستقل اداروں اور مشترکہ کمانڈ اسٹرکچرسے بنتاہے۔یہ تاریخ کابوجھ ہے جوہرنئے خواب کی پیشانی پر سوالیہ نشان ثبت کرتا ہے ۔امریکاواسرائیل کی ممکنہ مزاحمت، خطے کی داخلی سیاسی تبدیلیاں،اورباہمی بداعتمادی اس راہ کے کانٹے ہیں۔ اگراتحادمحض ردِعمل ہوگاتوپائیدارنہ ہوگا، اسے مثبت ایجنڈا اور اقتصادی ودفاعی انضمام کی بنیاد درکار ہوگی جس کے لئے ضروری ہے کہ باہمی تنازعات کے حل کے لئے ثالثی کونسل قائم کی جائے۔فرقہ وارانہ یانظریاتی اختلافات کوسیاسی حکمت سے سنبھالا جائے۔ اتحادکوکسی ایک ملک کی بالادستی سے محفوظ رکھاجائے۔
ترکی،مصراورسعودی عرب کے درمیان بعض علاقائی امورپراختلافات برقرارہیں۔مزیدبرآں امریکا اور اسرائیل جیسے طاقتورفریق اس اتحادکواپنے مفادات کے منافی سمجھ سکتے ہیں۔اگربیرونی دباؤبڑھا تو داخلی کمزوریاں آشکارہوسکتی ہیں۔عرب یوریشین اسٹڈیزسینٹرکے مطابق سب سے زیادہ قابلِ عمل صورت لچکدار ہم آہنگی ہے یعنی مکمل ادارہ جاتی اتحادکے بجائے موضوعاتی تعاون سے آغازکیا جائے۔ابتدامیں دفاعی صنعت،انٹیلی جنس شیئرنگ ،اورسیاسی مشاورت کانظام اورمشترکہ مشقوں تک محدود تعاون رکھاجائے،مگرمکمل عسکری معاہدہ نہیں۔یہ راستہ تدریجی ہے مگرقابلِ عمل بھی ہے۔رفتہ رفتہ اسے جامع دفاعی معاہدے کی شکل دی جائے۔یہ حقیقت پسندی کاراستہ ہے۔کم سے آغاز،تدریج سے ارتقاء کاسفرشروع کیا جائے۔ ذرائع ابلاغ اورتعلیمی اداروں کے ذریعے اتحادکامثبت بیانیہ تشکیل دیاجائے۔عوام کوباور کرایا جائے کہ یہ اتحادتصادم کے لئے نہیں بلکہ امن وسلامتی کے لئے ہے۔
ترکی کامصرکےساتھ 350ملین ڈالرکادفاعی معاہدہ اورسعودی دلچسپی عسکری تعاون کی عملی جہت اوراس امرکی علامت ہےکہ دفاعی صنعت اتحادکی بنیادبن سکتی ہے۔ مشترکہ پیداوار،ٹیکنالوجی کی منتقلی اوراسلحہ سازی میں اشتراک وہ ستون ہیں جن پر مستقبل کی عمارت کھڑی ہوسکتی ہے۔ممکنہ رکاوٹوں کاواحدحل یہی ہےکہ بیرونی دباؤکامقابلہ داخلی اتحاد سے کیاجائے۔اقتصادی انحصار کم کیا جائے۔ شفافیت اوراحتساب کے ذریعے اعتماد سازی کی جائے۔اس معاہدے کے راستے میں جو بنیادی چیلنجزدرپیش ہوں گے ان میں سیاسی عدم استحکام، باہمی بداعتمادی،معاشی کمزوریاں،بیرونی طاقتوں کا دباؤ کا سامناکرناپڑے گااواگران رکاوٹوں کودورنہ کیاگیاتواتحادمحض بیانیہ رہے گا۔بعض تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیلی لابیاں اس اتحاد کوسبوتاژکرنے کی کوشش کرسکتی ہیں۔اگرایسا ہوا تو سفارتی محاذ پر شدید کشمکش متوقع ہے۔اتحادکواپنی قانونی و سفارتی بنیاد مضبوط کرنا ہو گی۔
مستقبل کے منظرنامہ میں سب سے زیادہ ممکنہ صورت یہی دکھائی دیتی ہے کہ مکمل اسلامی نیٹوکی بجائےایک تدریجی،لچکدار اورکثیرسطحی تعاون کاڈھانچہ ابھرے گا۔ یاد رہے کہ اسلامی دفاعی اتحادکاقیام محض عسکری بندوبست نہیں بلکہ تہذیبی خود اعتمادی کااعلان ہوسکتاہے۔پاکستان کی ایٹمی قوت، ترکی کی دفاعی صنعت،خلیجی ممالک کی مالی طاقت ،مصر کی جغرافیائی اہمیت، اورجنوب مشرقی ایشیاکی صنعتی مہارتیہ سب مل کرایک ایسا توازن قائم کرسکتے ہیں جوخطے کوبیرونی مداخلت سے محفوظ رکھے۔ لیکن شرط یہ ہے کہ یہ اتحادردِعمل کی نفسیات سے نکل کرتدبر،تدریج اور تدبیرکی راہ اختیار کرے۔
اسلامی نیٹوکاتصوردراصل ایک سوال ہے کیا مسلم دنیاتاریخ کے دبائوکوموقع میں بدل سکتی ہے؟کیا اختلافات کی خاک سےوحدت کی چنگاری پھوٹ سکتی ہے؟اگرقیادتیں اخلاص، بصیرت اورتدبر سےکام لیں تویہ اتحادمحض عسکری بندوبست نہیں بلکہ تہذیبی احیا کاپیش خیمہ بن سکتاہے۔وگرنہ یہ بھی تاریخ کےاوراق میں ایک خوبصورت مگرناتمام خواب کےطورپردرج ہوجائےگا۔اتحادکی قوت توپ وتفنگ میں نہیں،نیت کی صداقت اور حکمتِ عملی کی پختگی میں ہوتی ہے۔اسلامی عسکری اتحادکاخواب اگرچہ دشوار ہے، مگرناممکن نہیں۔ اسلامی ممالک کایہ اتحاد تدبرکی حکمت ہو، قیادت کاغرورنہیں بلکہ اشتراک کی بصیرت ہو،اور طاقت کامظاہرہ نہیں بلکہ سلامتی کا عہدہو۔تاریخ نے امتوں کوبارہاموقع دیاہے کہ وہ انتشارسے وحدت کی طرف قدم بڑھائیں۔اسلامی عسکری اتحادکاتصورنہ تومحض خواب ہے اورنہ ہی فوری حقیقت۔یہ ایک ایساراستہ ہےجس کے لئے سیاسی بصیرت،معاشی حکمت، عسکری تیاری اورتہذیبی اعتمادسب درکار ہیں۔ پاکستان کی ایٹمی بازدارقوت،ترکی کی دفاعی خودکفالت،خلیجی سرمایہ،مصرکی جغرافیائی اہمیت اورجنوب مشرقی ایشیا کی صنعتی مہارت یہ سب عناصراگرایک متوازن اورتدریجی حکمتِ عملی کے تحت یکجاہوں تو ایک نیاتوازنِ قوت جنم لےسکتاہےمگرشرط یہی ہے کہ اتحادردِعمل کی سیاست اورجذبات کی تپش سے نہیں بلکہ تدبرکی روشنی سے تشکیل پائے۔اگرایساہواتویہ اقدام نہ صرف دفاعی بندوبست ہوگابلکہ تہذیبی وقارکی نئی صبح کاپیامبربھی بن سکتاہے۔

یہ بھی پڑھیں