وطن عزیز کی سیاسی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو ایک دلچسپ اور تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ عوامی فلاح و بہبود کے نام پر شروع کیے جانے والے بیشتر منصوبے وقت گزرنے کے ساتھ اپنی اصل روح کھو بیٹھتے ہیں۔ ابتداء میں ان منصوبوں کے گرد امیدوں، وعدوں اور بلند بانگ دعوئوں کا ایسا حصار کھڑا کیا جاتا ہے کہ عوام انہیں اپنی زندگیوں میں مثبت تبدیلی کا پیش خیمہ تصور کرنے لگتے ہیں، مگر یہی منصوبے مالی بے ضابطگیوں، سیاسی مداخلت، اقربا پروری اور بدعنوانی کی داستانوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ماضی میں پیلی ٹیکسی اسکیم، دانش سکول منصوبہ، میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، آشیانہ ہائوسنگ اور متعدد ترقیاتی پروگرام اسی مناقشے کا حصہ بنتے رہے ہیں۔ ان میں سے بعض منصوبوں نے واقعی عوام کو سہولتیں فراہم کیں، لیکن ان کے ساتھ مالی شفافیت اور وسائل کے استعمال پر اٹھنے والے سوالات کبھی مکمل طور پر ختم نہ ہو سکے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی کوئی نیا بڑا منصوبہ متعارف کرایا جاتا ہے تو عوامی حلقوں میں تعریف کے ساتھ ساتھ شکوک و شبہات بھی جنم لینے لگتے ہیں۔’’ستھرا پنجاب‘‘ پراجیکٹ بھی ایک ایسے ہی پس منظر میں سامنے آیا۔ بظاہر اس منصوبے کا مقصد پنجاب کے شہروں اور دیہاتوں کو صاف ستھرا بنانا، جدید ویسٹ مینجمنٹ سسٹم متعارف کرانا اور شہریوں کوصاف،ستھرا ماحول فراہم کرنا تھا۔ یہ ایک ایسا خواب تھا جس سے اختلاف ممکن نہیں۔ کون ایسا شخص ہوگا جو اپنے شہر کو کچرے کے ڈھیروں، گندگی اور تعفن سے پاک دیکھنا نہ چاہتا ہو؟ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس خواب کی تعبیر واقعی عوام کی فلاح ہے یا پھر کچھ مخصوص طبقات کی مالی حالت کو خوشحالی کا رنگ دینے کی سعی!حالیہ مہینوں میں پنجاب کے مختلف شہروں سے سامنے آنے والی اطلاعات نے اس منصوبے کے بارے میں کئی سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔ صفائی کے لئے خریدے جانے والے ڈمپرز، رکشوں، ٹریکٹروں، کنٹینرز اور دیگر مشینری کی خریداری میں مبینہ بے ضابطگیوں اور مالی بدعنوانیوں کی خبریں زبان زد عام ہیں۔ الزام ہے کہ خریداری کے عمل میں مارکیٹ ریٹ کو نظر انداز کیا گیا، مخصوص کمپنیوں کو نوازا گیا اور سرکاری خزانے پر غیر ضروری بوجھ ڈالا گیا۔ستھرا پنجاب منصوبے کے حوالے سے بھی یہی خدشات ظاہر کئے جا رہے ہیں۔ بعض شہروں میں صفائی کے لئے خریدی گئی گاڑیوں کی قیمتوں اور ان کے معیار پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ جن علاقوں میں بنیادی صفائی کا نظام فعال نہیں، وہاں کروڑوں روپے کی مشینری تو پہنچ گئی لیکن صفائی کے نتائج وہی پرانے ہیں۔ سڑکوں پر کچرا موجود ہے، نالیاں ابل رہی ہیں اور شہری شکایات کا تانتا بدستور بندھا ہوا ہے ۔اس صورتحال میں سوال صرف بدعنوانی کا نہیں بلکہ ترجیحات کا بھی ہے۔ اگر اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود صفائی کے نظام میں نمایاں بہتری نہیں آتی تو پھر اس سرمایہ کاری کا مقصد کیا ہے؟یہاں ایک اور اہم پہلو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پنجاب کی موجودہ حکومت کی سربراہ وزیراعلیٰ مریم نواز بلاشبہ ایک متحرک اور فعال سیاسی شخصیت کے طور پر اپنی شناخت بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر متعدد اجلاس، اعلانات اور دورے ان کی مصروفیات کا حصہ ہیں۔ لیکن کسی بھی حکمران کے لئے سب سے بڑا چیلنج یہی ہوتا ہے کہ وہ اپنے اردگرد موجود انتظامی ڈھانچے پر موثر نگرانی برقرار رکھ سکے۔پاکستانی بیوروکریسی ایک ایسی طاقتور مشینری ہے جو حکمران کی توجہ کمزور پڑتے ہی اپنے روایتی انداز میں کام شروع کر دیتی ہے۔ فائلوں کے اندر چھپے فیصلے، ٹینڈروں کی پیچیدگیاں اور ٹھیکوں کی تقسیم کے معاملات اکثر سیاسی قیادت کی نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب سربراہ حکومت کسی منصوبے کے وسیع خدوخال پر توجہ دے رہا ہوتا ہے تو ماتحت سطح پر ایسے فیصلے ہو جاتے ہیں جن کے نتائج بعد میں اسکینڈلز کی صورت میں عیاں ہوتے ہیں۔ستھرا پنجاب منصوبے میں بھی یہی تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ وزیراعلیٰ کی مصروفیات اور عدیم الفرصتی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بعض عناصر نے اپنی الگ دنیا آباد کر لی ہے۔ فائلیں چل رہی ہیں، خریداری ہو رہی ہے، ادائیگیاں کی جا رہی ہیں اور اس پورے عمل میں احتساب اور شفافیت کا عنصر کہیں پس منظر میں چلا گیا ہے۔ مزید تشویش ناک بات یہ ہے کہ اس نوعیت کے منصوبوں میں صرف سیاستدان اور بیوروکریسی ہی نہیں بلکہ طاقتور غیر سیاسی حلقوں کی دلچسپی کے بارے میں بھی چہ مگوئیاں سنائی دیتی ہیں۔
پاکستان میں جب بھی کسی منصوبے کے گرد اربوں روپے گردش کر رہے ہوں تو مختلف مفادات کا ایک غیر مرئی اتحاد وجود میں آ جاتا ہے۔ اس اتحاد میں شامل ہر فریق اپنے حصے کا فائدہ حاصل کرنا چاہتا ہے اور نتیجتا اصل مقصد، یعنی عوامی خدمت، پس منظر میں چلا جاتا ہے۔بدقسمتی سے یہ صرف ستھرا پنجاب منصوبے کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے نظام حکمرانی کا المیہ ہے۔ پاکستان میں اکثر ترقیاتی منصوبے تعمیرات، خریداری اور ٹھیکوں کے گرد گھومتے ہیں کیونکہ ان میں مالی فوائد کے مواقع زیادہ ہوتے ہیں۔ تعلیم، صحت، تحقیق اور انسانی وسائل کی ترقی جیسے شعبے اس لئے نظر انداز یا تشنہ تکمیل رہ جاتے ہیں کہ وہاں فوری مالی مفادات حاصل کرنا آسان نہیں ہوتا۔ اگر واقعی پنجاب کو صاف ستھرا بنانا مقصود ہے تو اس کے لئے جدید گاڑیوں کی خریداری سے زیادہ اہم چیز ایک موثر، شفاف اور جوابدہ نظام ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ شہروں میں صفائی صرف مشینری کی وجہ سے نہیں بلکہ موثر منصوبہ بندی، نگرانی اور احتساب کے باعث ممکن ہوئی ہے۔ پنجاب حکومت کو چاہیے کہ ستھرا پنجاب منصوبے کے تمام مالی معاملات، خریداری کے معاہدے، ٹینڈرنگ کا ریکارڈ اور ادائیگیوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لائے۔ ایک آزاد آڈٹ کرایا جائے جس میں یہ جانچا جائے کہ خریدی گئی مشینری کی قیمتیں مارکیٹ ریٹ کے مطابق ہیں یا نہیں۔ اگر کہیں بے ضابطگیاں ہوئی ہیں تو ذمہ دار افراد خواہ وہ کتنے ہی بااثر کیوں نہ ہوں، انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ عوام اب صرف اشتہارات اور دعوں سے مطمئن نہیں ہوتے۔ وہ نتائج دیکھنا چاہتے ہیں۔ اگر اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود شہروں کی حالت جوں کی توں رہے تو پھر منصوبے کی کامیابی کے سرکاری دعوے اپنی وقعت کھو دیتے ہیں۔ستھرا پنجاب یقینا ایک اچھا تصور ہے، لیکن اچھے تصورات بھی اس وقت بدنام ہو جاتے ہیں جب ان پر عملدرآمد کرنے والے عناصر اپنی ذاتی خوشحالی کو عوامی مفاد پر ترجیح دینے لگیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب اپنے اس فلیگ شپ منصوبے کا ازسرنو جائزہ لیں، زمینی حقائق کو جانچیں اور ان عناصر کی نشاندہی کریں جو صفائی کے اس مشن کو کمائی کے ایک نئے ذریعہ میں تبدیل کر رہے ہیں۔کیونکہ اگر صفائی کے نام پر صرف فائلیں صاف ہوں، کھاتے صاف ہوں اور مخصوص جیبیں بھر رہی ہوں تو پھر یہ ’’ستھرا پنجاب‘‘ نہیں بلکہ ’’خوشحال مافیا‘‘منصوبہ بن جاتا ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ عوامی فلاح کے نام پر قائم ہونے والے ایسے منصوبے بالآخر عوام کے اعتماد کو بھی اپنے ساتھ بہا