آج انسانیت اسی موڑ پر کھڑی ہے جس پر جناب نبی کریمؐ نے صفا پہاڑی پر کھڑے ہو کر ’’أیھا الناس‘‘ کہتے ہوئے پہلی آواز لگائی تھی۔ جہاں انسانیت اس وقت کھڑی تھی آج بھی وہیں کھڑی نظر آتی ہے، آج پھر اسی آواز اور ویسی ہی بائیس تئیس سالہ محنت کی ضرورت ہے۔جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا پہاڑی پر کھڑے ہو کر آواز لگائی تھی ’’أیھا الناس‘‘ اور بائیس تئیس سال کے بعد منیٰ میں کھڑے ہو کر، جو صفا سے تقریباً دس کلو میٹر کے فاصلے پر ہے، اپنی محنت کا نچوڑ کامیابی کے اس اعلان کے ساتھ کہ میں کامیاب جا رہا ہوں، ایک جملے میں بیان فرمایا تھا ’’کل أمر الجاھلیۃ موضوع تحت قدمی‘‘ جاہلیت کی ساری قدریں آج میرے پاؤں کے نیچے ہیں۔ وہ جاہلیت کی ساری قدریں جو تئیس سال کی محنت سے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹا ڈالی تھیں اور پاؤں تلے روند ڈالی تھیں، آج پھر نئے میک اپ اور نئی زیب و زینت کے ساتھ معاشرے پر مسلط ہیں۔ اس لیے انسانیت آج پھر اسی موڑ پر کھڑی نظر آ رہی ہے اور پکار رہی ہے کہ ’’میرا دل بھی چمکا دے چمکانے والے‘‘۔ خدا کرے کہ انسانیت کی اس آواز کو ہم سن سکیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ محنت، وہ پیغام، وہ بائیس تئیس سالہ تگ و دو اور وہ قربانیاں نسل ِانسانی تک پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے۔ انسانیت تو تلاش میں ہے، انسانیت تو پیاسی ہے، آج انسانی سماج اسی ماحول میں کھڑا ہے کہ کوئی چمکانے والا آئے اور وہ اپنے دل کو پیش کریں، اللہ کرے کہ اس حوالے سے ہم اپنا فرض ادا کر سکیں۔
اس وقت چونکہ میں ہسپتال میں مرض، مریض، علاج اور معالج کے ماحول میں بیٹھا ہوں تو میرا جی چاہتا ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ اور سیرتِ مبارکہ کی روشنی میں عرض کروں کہ معالج کیسا ہوتا ہے، بیماری کیا ہوتی ہے اور علاج کیسے کیا جاتا ہے۔ جی چاہتا ہے کہ ہلکے پھلکے انداز میں بات کروں کوئی فلسفہ اور لمبا چوڑا لیکچر نہ ہو۔ چنانچہ مریض، مرض اور معالج کیا ہوتے ہیں؟ اس پر دو تین واقعات عرض کرنا چاہوں گا اور اسی پر اکتفا کروں گا۔
بخاری شریف کی روایت ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو کچھ حضرات کو مدینہ منورہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی، بعض علاقوں کی آب و ہوا مرطوب ہوتی ہے، بعض کی خشک ہوتی ہے، ہر قسم کی آب و ہوا ہر کسی کو راس نہیں آتی۔ مدینہ منورہ اس وقت یثرب کہلاتا تھا، یثرب کی آب و ہوا مہاجرین کی ایک تعداد کو راس نہ آئی، لوگ بیمار ہو گئے اور ان میں دو بڑے نام ہیں، ایک حضرت صدیق اکبرؓ جنہیں بخار ہو گیا، ام المؤمنین حضرت عائشہؓ کہتی ہیں کپکپی کا بخار تھا، آپ ڈاکٹر صاحبان سمجھتے ہیں کہ وہ کیا ہوتا ہے۔ اور دوسرے حضرت بلالؓ تھے، وہ بھی مدینہ منورہ کی آب و ہوا راس نہ آنے کی وجہ سے بیمار ہو گئے۔ بیماری میں وطن زیادہ یاد آتا ہے اور وہ ابھی تازہ تازہ وہاں سے آئے تھے تو دونوں حضرات کو مکہ یاد آرہا تھا اور وہ مکے کی پہاڑیاں اور پرانا وطن یاد کر رہے ہیں، وطن کی محبت فطری بات ہے۔ حضرت صدیق اکبرؓ اٹھتے بیٹھتے کہہ رہے ہیں کہ لوگ اپنے گھروں میں صبح کر رہے ہیں جبکہ میں مسافر ہوں اور حالتِ سفر میں ہوں، ایک انجانے علاقے میں ہوں، پتہ نہیں موت آئے گی تو کیا ہو گا، موت تو جوتے کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہوتی ہے، نہ جانے کس حالت میں آئے گی، اس حوالے سے آپ اشعار پڑھ رہے تھے۔ حضرت بلالؓ بازاروں میں گھوم رہے ہیں، وادیوں میں جا رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ یا اللہ وہ دن کب آئے گا کہ میں مکے کی زمین دیکھوں گا ’’ھل اردن یوماً میاہ مجنۃ‘‘ کبھی مجنہ کے چشموں پر جانے کا اتفاق ہو گا؟ کبھی مکہ مکرمہ کا اذخر گھاس دیکھوں گا؟ کبھی شامہ اور طفیل کے پہاڑ دیکھ سکوں گا؟ دونوں کا یہ حال تھا کہ بیماری کے حصار میں وطن کو یاد کر رہے تھے۔
جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا یا رسول اللہ! مسئلہ پریشانی کا ہے، یہ ہمارے دونوں بزرگ اپنے وطن کو یاد کر کے شعر و شاعری کر رہے ہیں اور پریشان حال ہیں۔ تو اس موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی۔ مریض کا پہلا حق دعا ہے۔ فرمایا کہ یا اللہ! مدینے کی آب و ہوا کو ہمارے موافق کر دے، یا اللہ مدینے کی وبا کو جحفہ بھیج دے۔ یہ عرب کی سرحد تھی۔ یا اللہ مدینہ میں برکت عطا فرما، برکت جیسی مکے میں ہے۔ نہیں بلکہ ’’أو أکثر‘‘ مکے کی برکت سے دگنی عطا فرما، مکے کی محبت سے دوہری محبت ہمیں عطا فرما۔ غرضیکہ اس صورتحال کو دیکھ کر حضورؐ نے محسوس کیا اور دعا فرمائی۔
(جاری ہے)