Search
Close this search box.
منگل ,09 جون ,2026ء

الفاظ کے تیر

(گزشتہ سے پیوستہ)
دونوں ممالک کے کامیابی کے دعوے دراصل اس نفسیاتی جنگ اورجدید جنگی حکمت عملی کاحصہ ہیں جسے اطلاعاتی جنگ کہاجاتا ہے جوجدیدجنگوں میں کلیدی کرداراداکرتے ہیں اور عسکری محاذسے زیادہ اہمیت اختیارکرچکے ہیں۔پاکستان کایہ دعویٰ کہ اس نے جدید طیاروں کونشانہ بنایا،اورانڈیاکایہ کہناکہ اس نے اہم تنصیبات کونقصان پہنچایامگرحقیقت یہ ہے کہ اس طرح کے بیانات خطے میں اعتمادکی فضاکو مزیدکمزورکرتے ہیں۔یہ سب بیانات اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ جنگ اب صرف میدان میں نہیں،بلکہ بیانیے میں بھی لڑی جاتی ہے۔
مستقبل میں دوبارہ تصادم کے خدشات اور بیانات اس امرکی نشاندہی کرتے ہیں کہ خطہ ایک غیریقینی کیفیت سے گزررہاہے۔مستقبل کے حوالے سے دیے جانے والے بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان کادفاعی عزم اور انڈیا کاجارحانہ لہجہ ایک ایسی کشمکش کوجنم دے رہاہے جوکسی بھی وقت شدت اختیار کر سکتی ہے اورمعمولی چنگاری بھی شعلہ بن سکتی ہے۔مسلسل دھمکی آمیزبیان بازی خطے میں تزویراتی عدم تحفظ کو بڑھاتی ہے۔علاقائی سلامتی کمپلیکس تھیوری کے مطابق، ایک ریاست کاعدم استحکام پورے خطے کو نہیں بلکہ پوری دنیاکومتاثرکرتاہے
سیناسموادجیسے فورمزبظاہر مکالمے کے لئے ہوتے ہیں،اوران پلیٹ فارمزپرپیش کیے جانے والے خیالات کوتوازن اورذمہ داری کامظہر ہونا چاہیے۔ مگرجب ان میں پیش کیے جانے والے خیالات میں توازن کی بجائے شدت غالب آجائے تووہ مکالمہ نہیں بلکہ اعلانِ جنگ محسوس ہونے لگتاہے۔انڈین آرمی چیف کایہ کہناکہ فوج اورعوام کے درمیان ہم آہنگی جنگی تیاریوں میں اہم ہے،ایک حقیقت توہے،مگر اس کااستعمال کس سمت میں ہو۔اس ہم آہنگی کارخ امن کی طرف ہوناچاہیے،نہ کہ تصادم کی طرف۔یہی اصل سوال ہے، زبان صرف اظہار نہیں،کردارکی آئینہ داربھی ہوتی ہے۔
پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات عائد کرنا ایک پرانابیانیہ ہے جسے وقتافوقتا دہرایاجاتارہاہے اور بری طرح پِٹ چکاہے۔پاکستان پرعائد کیے جانے والے الزامات ایک طویل عرصے سے جاری ہیں،مگر ان کے ثبوت عالمی سطح پرکبھی بھی اس شدت کے ساتھ تسلیم نہیں کئے گئے جس طرح انہیں پیش کیاجاتا ہے ۔ پاکستان کی جانب سے پیش کئے گئے شواہداس امرکی نشاندہی کرتے ہیں کہ خطے میں دہشت گردی کامسئلہ یک طرفہ نہیں بلکہ کثیرجہتی ہے۔پاکستان پرالزامات اوراس کے جوابات اس امرکی نشاندہی کرتے ہیں کہ دہشت گردی کا مسئلہ محض سیکیورٹی نہیں بلکہ سیاسی بیانیے کا حصہ بھی ہے۔پاکستان کی جانب سے عالمی سطح پرپیش کئے گئے شواہداس امرکی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ حقیقت اس بیانیے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔یہ الزام تراشی دراصل ایک ایسی حکمت عملی کاحصہ معلوم ہوتی ہے جس کامقصد داخلی مسائل سے توجہ ہٹانا اوربیرونی دبا ؤپیداکرنا ہے۔
گزشتہ ایک برس کے دوران دونوں ممالک کے بیانات میں تلخی کابڑھنااس بات کاثبوت ہے کہ سفارتی ذرائع کمزورپڑرہے ہیں۔دونوں ممالک کے لہجوں میں بڑھتی ہوئی تلخی اس بات کاثبوت ہے کہ سفارتی زبان اپنی شائستگی کھوتی جارہی ہے۔جب الفاظ میں زہر گھلنے لگے تواندازہ ہوجاتاہے کہ دلوں میں کتنی کدورت جمع ہوچکی ہے۔ان حالات میں تصادم کے امکانات بڑھ جاتے ہیں جبکہ بین الاقوامی نظام میں توازن کیلئے سفارت کاری بنیادی ستون ہے۔
انڈین وزیردفاع کے بیانات بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہیں جن میں مستقبل کی کارروائیوں کی دھمکیاں دی گئیں۔ان کے عسکری بیانیے کااستعمال بھی اسی رجحان کی عکاسی کرتاہے،جہاں طاقت کے اظہارکو سیاسی مقبولیت کے لئے استعمال کیاجاتاہے۔ یہ زبان اگرچہ داخلی سیاست میں مقبول ہوسکتی ہے ، مگربین الاقوامی سطح پراس کے اثرات نہایت دوررس اورغیر دانشمندانہ ہوتے ہیں۔مگرتاریخ گواہ ہے کہ ایسے بیانات وقتی فائدہ تو دے سکتے ہیں مگر طویل المدت استحکام کے لئے نقصان دہ ہوتے ہیں۔
پاکستان کے وزیردفاع کاردِعمل نسبتاً متوازن، اصولی اورذمہ دارانہ تھاجونہ صرف بین الاقوامی قانون اوراقوام متحدہ کے اصولوں سے ہم آہنگ ہے بلکہ خطے میں استحکام کیلئے بھی ضروری ہے۔ جہاں امن او استحکام کی خواہش کے ساتھ ساتھ اپنی خودمختاری کے دفاع کا عزم اورعلاقائی سا لمیت کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ ایک ایسی پالیسی کی عکاسی کرتاہے جوجذبات کے بجائے اصولوں پرمبنی ہے۔
سندھ کے حوالے سے دئیے گئے بیانات نے ایک نئی بحث کوجنم دیاہے۔سندھ کے حوالے سے دئیے گئے بیانات دراصل ایک تہذیبی بیانیے کو جغرافیائی دعوے میں تبدیل کرنے کی کوشش ہیں، جوبین الاقوامی اصولوں کے منافی ہے۔یہ ایک ایسے بیانیے کی عکاسی کرتے ہیں جوتاریخ کواپنی خواہشات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتا ہے۔ تاریخ اورتہذیب کے نام پرسرحدوں کوچیلنج کرنا دراصل اس سوچ اور جارحیت کی نشاندہی کرتاہے جوماضی کے سائے سے نکلنے کوتیار نہیں۔یہ پورا منظرنامہ ہمیں اس حقیقت کی یاددہانی کراتاہے کہ جنوبی ایشیااس وقت ایک نازک دوراہے پرکھڑا ہے۔ایک راستہ تصادم،عدم استحکام اورتباہی کی طرف جاتاہے،جبکہ دوسرا راستہ مکالمے، برداشت اور باہمی احترام کی طرف۔جبکہ بنیادی حقیقت یہ ہے کہ طاقت کا توازن ہی امن کی ضمانت ہوتا ہے۔ جب یہ توازن بگڑتاہے توتاریخ اپنے وہی پرانے زخم دہرانے لگتی ہے۔جنوبی ایشیاآج ایک ایسے موڑپر کھڑاہے جہاں دانش، تدبر اورتحمل ہی وہ راستے ہیں جواسے تباہی کے دہانے سے واپس لاسکتے ہیں۔ قوموں کی تقدیر صرف میدانِ جنگ میں نہیں،بلکہ افکارکی دنیامیں طے ہوتی ہے۔اگراس خطے میں بھارتی ہندتواکی متعصب قیادت نے دانشمندی کا مظاہرہ نہ کیا تو تاریخ ایک بارپھرخود کو دہرا سکتی ہے۔ قوموں کی تقدیرصرف میدانِ جنگ میں نہیں،بلکہ افکارکی دنیا میں طے ہوتی ہے۔اگراب بھی مودی نے گزشتہ برس مئی میں ہونے والی عبرتناک تاریخی شکست سے سبق نہ سیکھا توبعید نہیں کہ آنے والے صفحات بھی اسی خونچکاں داستان کو دہراتے نظر آئیں۔ خاکم بدہن وگرنہ ایٹمی تصادم کے نتیجے میں دونون ممالک راکھ کاڈھیر توبن جائیں گے لیکن پھربھی اس کرہ ارض پر 56مسلم رہاستیں موجود رہیں گی لیکن دنیابھرمیں کہیں بھی ہندوریاست کا نام ونشان باقی نہیں رہے گاتاہم اگرعقل وتدبر کورہنمابنایاگیاتو یہی خطہ امن،ترقی اور استحکام کی ایک نئی مثال بھی قائم کرسکتاہے۔
گویایہ تحقیق اس نتیجے پرپہنچتی ہے کہ جنوبی ایشیاء میں امن کاانحصارتوازنِ قوت،فکری اعتدال، اور مؤثرسفارت کاری پرہے۔اگربیانیاتی جنگ کوقابو نہ کیا گیا تویہ خطہ ایک بارپھر تصادم کی طرف بڑھ سکتاہے۔اس کے لئے ضروری ہے کہ ہندوتواکی متعصب قیادت اوران کے فوجی سربراہ کے لئے فوری طورپردماغی معالج سے رجوع کیاجائے تاکہ وہ اپنے اقتدارکو دوام پہنچانے کی بجائے حقائق سے کام لیں۔اقبالؒ کے الفاظ میں تمدن،تصادم سے نہیں،تفاہم سے پروان چڑھتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں