تاریخِ حرب وضرب کی دبیزکتاب جب بھی ورق درورق کھولی جائے،اوراس کامطالعہ محض واقعات کے اندراج کے طورپرنہ کیاجائے تواس کے اوراق کے پسِ پردہ کارفرمافکری روایات،تہذیبی محرکات اورعلمی ارتقاکی ایک ہی صدا،ایک ہی حقیقت ابھرکرروزِروشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ اقوام کی بقاء محض شمشیرکی جھنکاریاتوپ کی گھن گرج میں مضمرنہیں ہوتی،نہ ہی محض اس کادارومدار قوتِ بازوکامرہونِ منت اورصرف عسکری قوت پرہوتاہے،بلکہ اس قوت کے پس منظرمیں کارفرما فکری بصیرت وتمکنت،سائنسی شعور ومہارت اور حکمتِ عملی کی بالغ نظری کی گہرائی اس کے حقیقی ستون ہی وہ اصل سرچشمہ دکھائی دیتے ہیں جہاں سے طاقت اپنی معنویت کشید کرتے ہوئے اسے دوام عطاکرتے ہیں۔ طاقت اگر عقل ودانش سے محروم ہوتومحض ایک بے لگام سیلاب بن جاتی ہے،مگر جب یہی طاقت بصیرت کے سانچے میں ڈھلتی ہے توتاریخ کے دھارے کوموڑنے کی صلاحیت حاصل کرلیتی ہے۔
انسانی تاریخ دراصل قوت اورتوازن کے مابین ایک نہ ختم ہونے والامسلسل مکالمہ ہے ،ایک ایسا مکالمہ جوکبھی میدانِ جنگ میں برپا ہوتاہے اورکبھی دانش گاہوں اورتجربہ گاہوں کی خاموش فضا میں۔ قدیم زمانوں میں یہ مکالمہ تلواروں کی چمک اورنیزوں کی ٹکراہٹ میں ڈھلتا تھا، پھر بارودنے اپنی دھاک بٹھائی،توپوں نے افق کو دہلا دیا اور اب یہ سلسلہ فضاء کی وسعتوں میں تیرتے ہوئے میزائلوں کی برق رفتاری میں جلوہ گرہے اورآج یہ فضاء کی وسعتوں میں تیرتے ہوئے میزائل انسانی ذہانت کے نئے مظاہربن چکے ہیں۔آج کا دور اس حقیقت کامظہرہے کہ جنگیں محض میدانوں میں نہیں بلکہ ذہنوں میں لڑی جاتی ہیں،اوران کافیصلہ اس بات پرہوتاہے کہ کس قوم کے پاس زیادہ بصیرت، بہترمنصوبہ بندی اور جدید ترٹیکنالوجی موجود ہے۔ گویازمانہ بدلتا نہیں، اپنی ہیئت تبدیل کرتا ہے؛ اورہرنئی ہیئت اپنے ساتھ ایک نیا فکری زاویہ بھی لے کرآتی ہے۔
اقوام کی بقاء کارازاب صرف عسکری قوت میں نہیں بلکہ اس قوت کے استعمال کی حکمت،اس کے پسِ پشت فکری شعور،اوراس کے گرد لپٹی ہوئی تہذیبی بصیرت میں پوشیدہ ہے۔ برصغیر،جوصدیوں تک تہذیب وتمدن کامرکزاورگہوارہ رہا،آج عسکری توازن کے ایک نازک مرحلے کی باریک لکیر پرکھڑاہے ،ذراسی لغزش اسے ٹوٹنے کے دہانے تک لے جاسکتی ہے۔یہ خطہ آج ایک ایسے دوراہے پرکھڑا ہے جہاں عسکری توازن کی نزاکت کسی باریک شیشے کی مانندہے ،ذراسی لغزش اسے پاش پاش کرسکتی ہے۔ایسے میں پاکستان کے فتح تھری کروزمیزائل کی رونمائی محض ایک دفاعی پیش رفت نہیں بلکہ ایک فکری اعلان،ایک سائنسی پیش رفت کاجدید عہد،ایک سیاسی اشارہ اورپیغام ہے ،ایساپیغام جس میں خود اعتمادی کی خاموش قوت اورحکمت کی متانت جھلکتی ہے۔جودفاعی خودمختاری، تکنیکی ارتقاء اورجدید ترین اسٹریٹیجک کاحسین امتزاج جھلکتاہے۔یہ اعلان بظاہر خاموش مگر معنوی اعتبار سے نہایت بلند آہنگ ہے،ایک ایساپیغام جس میں خوداعتمادی کی ٹھہری ہوئی روانی،احتیاط کی سنجیدگی اورحکمت کی پختگی یکجاہوگئی ہے۔یہ تحریراسی تناظرمیں فتح تھری اوربراہموس کے تقابلی مطالعے کوایک وسیع،تحقیقی اورادبی پیرائے میں پیش کرتی ہے تاکہ قاری نہ صرف معلومات سے آگاہ ہوبلکہ اس عہدکی فکری روح کوبھی محسوس کرسکیوہ روح جوخاموشی میں بولتی ہے اوراشاروں میں اپنی پوری داستان سنادیتی ہے۔
پاکستانی فوج کی جانب سے فتح تھری کروز میزائل کی رونمائی ایک ایسے وقت میں غیرروایتی مگر نہایت بامعنی اندازمیں کی گئی جبکہ خطہ پہلے ہی عسکری کشیدگی کی دھندمیں لپٹاہواتھا۔ فتح تھری کی رونمائی اپنے اسلوب کے اعتبارسے ایک غیرمعمولی واقعہ تھی۔ رونمائی ایک ایسے اسلوب میں کی گئی جوبظاہرسادہ مگرمعنوی لحاظ سے نہایت عمیق تھا۔نہ الفاظ کی بھرمار،نہ خطابات کی طویل قطارنہ کوئی روایتی اعلان ۔یہ نہ توروایتی پریس کانفرنسوں کے شورمیں ڈوبی ہوئی تھی،نہ ہی بیانات کے انبارمیں گم ہوئی؛بلکہ ایک مختصرتشہیری ویڈیوکے پردے میں وہ حقیقت پیش کی گئی جوبسااوقات خاموشی میں زیادہ بلندآوازہوتی ہے۔گویاالفاظ کی جگہ تصویر نے لے لی ہو،اورتصویرنے خاموشی سے وہ کہہ دیا جو بیانات میں ممکن نہ تھا۔وہ پیغام دیا گیا جسے سمجھنے کے لئے الفاظ کی نہیں، بصیرت کی ضرورت تھی۔یہ اندازگویااس حقیقت کی عملی تعبیرتھا کہ بعض اوقات خاموشی سب سے زیادہ بلیغ زبان ہوتی ہے۔یہ اعلان نہیں، ایک اشارہ تھا؛اوراہلِ نظرجانتے ہیں کہ اشارے کبھی کبھی اعلان سے زیادہ گہری معنویت رکھتے ہیں۔
تصویرنے وہ کچھ کہہ دیاجوالفاظ کے بس میں نہ تھا۔گویایہ ایک ایسا پیغام تھاجسے سمجھنے کے لئے کان نہیں بلکہ بصیرت درکارتھی۔فتح تھری کی رفتارجوآوازکی رفتارسے کئی گنازیادہ بتائی جاتی ہے ،محض ایک تکنیکی عددنہیں بلکہ ایک نفسیاتی حربہ بھی ہے۔ ماہرینِ دفاع کے مطابق یہ میزائل آوازکی رفتارسے تین سے چارگنا تیزہے،یہ مستقبل کی جنگوں میں پریسیژن سٹرائیکس کا استعارہ ہے جواسے سپرسونک کروز میزائلوں کی صف میں لاکھڑاکرتاہے۔یہ رفتارمحض تکنیکی نہیں بلکہ ایک نفسیاتی برتری بھی ہے،کیونکہ جنگ کے میدان میں وقت ہی سب سے قیمتی سرمایہ ہوتاہے۔جنگ میں وقت کی اہمیت وہی ہے جوزندگی میں سانس کی؛ جواسے قابو میں کرلے، وہی برتری حاصل کر لیتا ہے۔یوں یہ میزائل پاکستان کی اس حکمتِ عملی کاعکاس اورمظہرہے جس میں قوت کو شوروغوغاسے نہیں بلکہ وقاراورخاموشی کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ یہ کہنابے جانہ ہوگاکہ فتح تھری کی رونمائی دراصل پاکستان کی اس پالیسی کامظہر ہے جس میں خاموشی میں قوت کوترجیح دی جاتی ہے۔وہ تیرجوکمان میں چھپاہو،زیادہ مہلک ہوتاہے۔
جدیدعہدمیں معلومات کی فراوانی نے تجزیے کوعام کردیاہے۔سوشل میڈیاکے افق پرہرنئی خبرایک بحث کاآغازبن جاتی ہے اورہرنئی ایجادفوراتقابل کی کسوٹی اورموازنہ کی میزپرآ بیٹھتی ہے۔یہی حال فتح تھری کابھی ہوا،جسے فوراًانڈیا کے براہموس میزائل کے مقابل لا کھڑاکیاگیا۔یہ تقابل محض تکنیکی نہیں بلکہ نفسیاتی بھی ہے،ایک ایسامقابلہ جوخطے میں طاقت کے توازن کی علامت بن چکاہے۔بلکہ یہ کہنازیادہ مناسب ہوگاکہ دراصل یہ دوہتھیاروں کانہیں بلکہ دوریاستوں کے دفاعی فلسفوں کاہے،گویایہ دو ہتھیار نہیں بلکہ د و نظریات آمنے سامنے ہوں۔
(جاری ہے)