(گزشتہ سے پیوستہ)
تنخواہ دار طبقہ،رجسٹرڈ کاروبار اور باقاعدہ ٹیکس دہندگان مسلسل دباؤ کا شکار ہیں جبکہ بڑے جاگیردار، طاقتور کاروباری گروہ ،آیوانوں میں بیٹھے خوشحال ،مراعات یافتہ لوگ اور غیر دستاویزی معیشت کے کئی شعبے بدستور مکمل طور پر ٹیکس نیٹ میں شامل نہیں ہو سکے۔ماضی کے بجٹوں میں بھی یہی دعویٰ کیاجاتارہا کہ اس بار ٹیکس چوری کا خاتمہ کیا جائے گالیکن عملی نتائج توقعات کے برعکس سامنے آئے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کے ایک بڑے طبقے میں یہ تاثر موجود ہےکہ بجٹ دراصل کمزور طبقات سے مزیدقربانی لینےکا نام بن چکا ہے۔زراعت کے شعبے کو پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہےلیکن کسان آج بھی کھاد، بیج، زرعی ادویات اور پانی کی قلت جیسے مسائل کا شکار ہے۔ بجٹ 2026ء میں زرعی ترقی کے لیے مختلف اعلانات کیے گئے ہیں مگر ماضی کا تجربہ بتاتا ہے کہ اکثر اعلانات کاغذوں تک محدود رہ جاتے ہیں۔ جب تک کسان کو اس کی فصل کا مناسب معاوضہ، سستی زرعی ضروریات اور منڈی تک براہ راست رسائی فراہم نہیں کی جاتی، زرعی شعبہ بدحالی کا شکار رہے گا۔اسی طرح نوجوانوں کے لیئے روزگار کا مسئلہ ملک کا سب سے بڑاچیلنج بنتاجارہا ہے۔ ہر سال لاکھوں نوجوان عملی زندگی میں داخل ہوتے ہیں مگر روزگار کے مواقع اس رفتار سے پیدا نہیں ہو رہے۔ بجٹ میں نوجوانوں کے لیئے مختلف اسکیموں اور قرضوں کا ذکر ضرور کیا جاتا ہےلیکن اصل ضرورت صنعتی ترقی، برآمدات میں اضافے اور نجی شعبے میں سرمایہ کاری کے فروغ کی ہے۔ روزگار سرکاری اعلانات سے نہیں بلکہ معاشی سرگرمیوں سے پیدا ہوتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی عوام اب بجٹ کی خوبصورت تقریروں اور رنگین اعشاری کرتب بازی اور کرشمہ سازی سے متاثر نہیں ہوتے۔ وہ اپنے گھروں کےاخراجات دیکھتے ہیں،بازار میں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں دیکھتے ہیں، بچوں کی فیسیں اوراسپتالوں کے بل دیکھتے ہیں۔ اگر بجٹ کے چند ماہ بعد بھی ان کی مشکلات کم نہیں ہوتیں تو ان کے نزدیک تمام دعوے بےمعنی ہو جاتے ہیں۔بجٹ 2026ء کے حوالےسے بھی اصل امتحان اعلانات نہیں بلکہ نتائج ہوں گے۔ اگر مہنگائی میں واضح کمی آتی ہے،اگر بجلی اور گیس کے نرخ قابو میں رہتے ہیں،اگر روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور اگر متوسط و غریب طبقے کے گھر کےچولہےجلتے ہیں تو زندگی میں بہتری محسوس ہوتی ہےتو ہی یہ بجٹ کامیاب قرار پائے گالیکن اگر ماضی کی طرح چند ماہ بعد نئے ٹیکس، نئی قیمتیں اور نئے مالی بوجھ عوام کےناتواں کندھوں کا مقدر بن گئے تو یہ بجٹ بھی تاریخ کے ان بےشمار بجٹوں کی فہرست میں شامل ہو جائے گا جنہوں نے امیدیں تو بہت جگائیں مگر نتائج نہ دے سکے۔پاکستان کو اس وقت صرف ایک نئے بجٹ کی نہیں بلکہ ایک نئے معاشی فلسفے کی ضرورت ہے۔ ایسافلسفہ جو اعدادوشمار کے بجائے انسان کو مرکز بنائے، جو قرضوں کے بجائے پیداوار پر توجہ دے،جو اشرافیہ کے بجائے عام شہری کی زندگی آسان بنانے کو کامیابی سمجھےکیونکہ کسی بھی بجٹ کی اصل کامیابی وزارتِ خزانہ کے اعداد و شمار میں نہیں بلکہ اس مزدور کےچہرے پر نظر آنی چاہیے جو دن بھر کی محنت ،مشقت کے بعد اپنےبچوں کے خوابوں کی تعبیر کو قریب آتا دیکھ سکے۔ باعزت زندگی کے سپنوں کے حصول کی راہ کے کانٹے چنتے ہوئے انگلیوں کے زخمی ہونے کو ایک دکھ گرداننے کی بجائے مستقبل کی امید تصور کر سکے۔بجٹ 2026ء عوام کے لیے کتنا ریلیف لاتا ہے، اس کا فیصلہ پارلیمنٹ کی تقریریں نہیں بلکہ آنے والے مہینوں میں بازار، بل اور مفلسوں کی رسوئیاں کریں گی۔