تاریخ عالم کے کے اوراق جب خونچکاں سطروں سے رقم ہوتے ہیں توان میں صرف واقعات نہیں،تہذیبوں کے مقدراوراقوام کے عزائم بھی ثبت ہوجاتے ہیں اوربعض ادوار تو ایسے ہوتے ہیں جب زمانہ خوداپنے بوجھ تلے کراہتامحسوس ہوتاہے۔ایسے میں واقعات محض خبریں نہیں رہتے بلکہ تہذیبوں کے مقدر کا فیصلہ بن جاتے ہیں۔جب تاریخ اپنے سینے میں طوفان چھپائے بیٹھی ہوتوبسااوقات ایک معمولی واقعہ بھی عہدسازموڑاختیارکرلیتاہے۔
مشرقِ وسطیٰ کی سرزمین صدیوں سے تاریخ کے الاؤپرسلگتی رہی ہے،جہاں طاقت کے کھیل، نظریات کی کشمکش اورمفادات کی بساط ہمیشہ سے بچھی رہی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کاحالیہ بحران بھی اسی قبیل کاایک خوفناک اور المناک باب ہے،ایک ایسا باب جہاں طاقت کی سیاست،نظریاتی مزاحمت، اقتصادی مفادات اورتہذیبی شناختیں ایک دوسرے سے برسرِ پیکارہیں۔جہاں طاقت کے ایوانوں میں فیصلے ہوتے ہیں مگران کی بازگشت ریگستانوں،بندرگاہوں اورعالمی منڈیوں تک سنائی دیتی ہے۔یہ تسلیم کرناہوگاکہ مشرقِ وسطیٰ کاحالیہ بحران بھی اسی نوعیت کاایک ہمہ گیرمنظرنامہ ہے جہاں بندوق کی نالی سے نکلنے والی گولی صرف ایک سپاہی کونہیں بلکہ عالمی نظامِ طاقت کوزخمی کرتی ہے۔
یہ قضیہ محض امریکااورایران کی کشمکش نہیں بلکہ ایک وسیع ترجغرافیائی،سیاسی اورتہذیبی تصادم کی عکاس ہے جس کے پس پردہ صدیوں پرمحیط سیاسی وراثت، مذہبی بیانیے،اقتصادی مفادات اورتہذیبی تصادم کی پرتیں کارفرما ہیں۔یہ وہ خطہ ہے جہاں ریت کے ذروں میں بھی تاریخ کی سرگوشیاں بسی ہوئی ہیں۔یہاں ہ فیصلہ صرف حال کانہیں بلکہ ماضی کی گونج اورمستقبل کی تمہید بھی ہوتاہے۔یہ محض جنگ نہیں،بلکہ یہ سوال ہے کہ آنے والی دنیاکی صورت کیاہوگی،اوراس میں کن اصولوں کی حکمرانی ہوگی۔قرآنِ حکیم نے انسانی تاریخ کے ایسے ہی مواقع کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:یہ دن ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان پھیرتے رہتے ہیں۔یہ آیت ہمیں یاددلاتی ہے کہ قوت کاتوازن مستقل نہیں ہوتا،بلکہ وقت کے ساتھ بدلتارہتاہے اوریہی تبدیلی آج مشرقِ وسطیٰ میں وقوع پذیرہورہی ہے۔حالیہ بحران بھی اسی تسلسل کی ایک کڑی ہے،جہاں امریکا،ایران،اسرائیل اورعرب دنیا کے کردارایک پیچیدہ سیاسی بیانیہ تشکیل دے رہے ہیں۔
ٹرمپ کی سیاست ہمیشہ سے ایک تاجرکی ذہنیت کی عکاس رہی ہے ،سودا،نفع،اورفوری نتیجہ۔ انہوں نے ایران کے ساتھ کشمکش کو بھی ایک ایسی سودے بازی سمجھاجس میں طاقت کا مظاہرہ مخالف کوجھکادے گا۔ وینزویلاکی طرح ٹرمپ نے اس معرکے کوابتدامیں ایک ایسی شطرنج سمجھاجس میں چند چالوں کے بعدفتح ان کے قدم چومے گی اورانہیں ایک ایسی فتح نصیب ہوگی جو سیاسی افق پران کانام روشن کردے گی،مگرتہران کی استقا مت اور نیتن یاہو کی بے لگام حکمت عملی اس راہ میں دیوارِچین بن کرکھڑی ہوگئی۔
نیتن یاہوکے مکارڈرانے خواب کی تعبیرکے لئے ٹرمپ نے جس سیاسی جواکھیلا،وہ بظاہرایک فوری فتح کاخواب تھا،مگرحقیقت میں وہ ایک ایسے تاریخی عمل سے ٹکراگیاجومحض طاقت سے زیرنہیں کیاجاسکامگروہ شاید بھول گئے کہ یہ میدان شطرنج نہیں،تاریخ کی وہ کربلا ہے جہاں ہرمہرہ اپنے وجودکی جنگ لڑتاہے۔ایران کوئی روایتی ریاست یامحض جغرافیہ نہیں بلکہ ایک نظریاتی کائنات ہے،جس کی بنیادانقلاب،خودمختاری اور مزاحمت پررکھی گئی ہے۔تہران اپنی خودمختاری کے حصارمیں بنداس وقت ایک ایسے قلعے کی مانند ہے جس کی فصیلیں فولادجیسے ایک نظریاتی استقلال اوردیواریں صرف اینٹوں سے نہیں بلکہ ناقابل یقین قربانی کے عزم سے بنی ہیں ۔ ایران کی موجودہ مزاحمت نے یہ ثابت کردیاہے کہ قومیں محض تلوارسے نہیں،بلکہ اپنے یقین کی حرارت سے زندہ رہتی ہیں۔ایران اسی یقین کی علامت ہے،اوریہی یقین ٹرمپ کی خواہشات کے سامنے ایک آہنی دیواربن گیاہے۔
ایک طرف ایران اپنی خودمختاری پرآنچ نہیں آنے دیناچاہتا،تودوسری طرف اسرائیل ہراس معاہدے کواپنے لیے خطرہ سمجھتاہے جس میں ایران کوریلیف ملے۔خصوصاً نیتن یاہو، اس پورے منظرنامے میں ایک ایسی ظالم وفاسق اورشیطانی سیاسی تلوارہے جوہر مصالحت کواپنے لئے زہرسمجھتاہے اورایک ایسا کرداراداکررہاہے جوخطے میں کسی بھی امن کی کوشش کواپنی سلامتی کے خلاف تصورکرتا ہے۔ان حالات میں گویاٹرمپ ایک ایسے راستے پرچل پڑے ہیں جہاں ہرموڑپرایک نئی رکاوٹ ان کا انتظارکررہی ہے۔
آٹھ اپریل کی جنگ بندی کواگرگہرائی سے دیکھاجائے تویہ ایک ایسے پل کی مانندہے جوطوفانی دریاکے اوپرعارضی طورپرقائم کیاگیا ہو۔ یہ ایک ایسی مہلت جس میں فریقین اپنی صفیں درست کررہے ہیں۔ گویاجنگ بندی کواگرایک جملے میں بیان کیاجائے تویہ ایک ’’وقف اضطراب‘‘ہے،نہ کہ’’وقف اطمینان ‘‘۔ بظاہر توپیں خاموش ہیں،مگریہ خاموشی ایسی ہے جیسے سمندرکی سطح پرسکون ہومگراس کے نیچے طوفان پل رہاہو۔یعنی اس خاموشی کے اندرتوپوں کی گھن گرج کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔فریقین کے بیانات میں چھپی ہوئی سختی اس بات کی غمازہے کہ یہ امن محض ایک وقفہ ہے،دائمی حل نہیں۔
امریکااورایران دونوں نے اس بات کاعندیہ ضروردیاہے کہ وہ دوبارہ جنگ کی دلدل میں نہیں اترنا چاہتے،مگران کے بیانات میں جو احتیاط،جوابہام اور جو سفارتی پیچیدگی موجود ہے،وہ اس امرکی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ امن عارضی ہے۔سفارتی بیانات کے پردے میں چھپی ہوئی تیاری اس بات کاپتہ دیتی ہے کہ یہ امن عارضی ہے گویاطوفان سے پہلے کی خاموشی۔ امریکا اور ایران دونوں نے جنگ سے گریزکاعندیہ ضروردیا ہے، پاکستان،قطراوردیگرممالک کی ثالثی گویاایک باریک دھاگہ ہے جس پریہ پوراامن ٹکاہواہے اوریہ دھاگہ کسی بھی لمحے ٹوٹ سکتا ہے۔قرآن کہتا ہے:اگروہ صلح کی طرف مائل ہوں توتم بھی مائل ہوجا۔مگریہاں مسئلہ یہ ہے کہ صلح کی نیت دونوں جانب مکمل نہیں،بلکہ یہ ایک وقتی حکمت عملی ہے۔
خطے میں موجودامریکی بحری بیڑے اورفضائی قوت اس وقت ایک ایسے شکاری پرندے کی مانندہیں جواپنے شکارپرنظریں جمائے چکرلگارہاہے۔ان کی موجودگی صرف عسکری تیاری نہیں بلکہ ایک نفسیاتی دباؤ بھی ہے۔دوسری جانب ایران نے بھی اپنی افواج کو ہائی الرٹ پررکھاہواہے گویاآنے والے معرکے کے لئے خودکوازسرنومنظم کررہاہو۔ایرانی عسکری حکمت عملی ہمیشہ سے دفاعی کے ساتھ ساتھ غیرمتوقع جوابی کارروائیوں پرمبنی رہی ہے۔وہ جانتے ہیں کہ براہِ راست جنگ میں طاقت کاتوازن ان کے خلاف ہوسکتاہے،اس لیے وہ غیرروایتی حربوںجیسے پراکسی نیٹ ورکس،میزائل سسٹمز اور سمندری راستوں کی بند ش کوبطورہتھیاراستعمال کرتے ہیں ۔ گویایہ ایک ایساخاموش مقابلہ ہے جس میں گولی ابھی چلی نہیں،مگرانگلی ٹریگرپرموجوداوراشارہ کی منتظر ہے۔ یہ صورتحال ’’توازنِ خوف‘‘ کی ایک واضح مثال ہے۔امریکااپنی عسکری برتری کے ذریعے دباؤ ڈال رہا ہے، جبکہ ایران اپنی غیرروایتی قوت کے ذریعے اس توازن کوبرقراررکھے ہوئے ہے۔یادرہے کہ جب قوت اورایمان آمنے سامنے ہوں توفیصلہ ہمیشہ میدان میں نہیں بلکہ عزم میں ہوتاہے۔
یہ خطہ اس وقت ایک ایسے بارودی ڈھیرپر کھڑا ہے جہاں ایک غلط فیصلہ،ایک غلط فہمی،یاایک غیرذمہ دارانہ بیان بھی آگ بھڑکاسکتا ہے اورایک معمولی لغزش بھی قیامت برپاکرسکتی ہے۔امریکااپنی فوجی موجودگی اور عسکری حکمت عملی کے ذریعے’’دباؤبڑھاؤاور رعایت حاصل کرو‘‘کی جارحانہ پالیسی پرعمل پیراہے جبکہ ایران کی حکمت عملی’’مزاحمت کرواور توازن قائم رکھو‘‘کی بنیادپراپنی مزاحمت کی داستان دہرارہاہے اوراپنے عمل سے واضح کررہاہے کہ اگرجنگ مسلط کی گئی تواس کادائرہ صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہے گابلکہ خلیج کے اقتصادی ڈھانچے کوبھی اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔یہ دونوں فلسفے ایک دوسرے کے متضادہیں،اوریہی تضاد اس بحران کومزید خطرناک بناتاہے۔یہ کشمکش کسی بھی لمحے تصادم میں بدل سکتی ہے۔تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ بڑی جنگیں اکثرچھوٹی غلطیوں سے شروع ہوتی ہیں۔پہلی جنگِ عظیم ایک قتل سے شروع ہوئی،اورآج کا بحران بھی کسی ایک غلط فیصلے سے بھڑک سکتا ہے۔یہ وہ مقام ہے جہاں قرآن کی یہ تنبیہ انتہائی بامعنی ہوجاتی ہے:آپس میں جھگڑا نہ کروکہ تم کمزورہوجاؤ گے۔ (جاری ہے)