بحیثیت مسلمان ہم نے قرآن کریم کو ایک مقدس صحیفہ گردانتے ہوئے اسے ثواب کا ذریعہ سمجھ کر گھر کی الماری کے سب سے اوپر والے شیلف میں انتہائی ادب و احترام کے ساتھ سنبھال کر رکھا ہوا ہے اور مصائب و آلام کی صورت حال میں مدد کاسامان تصور کرتے ہیں ۔ یہاں تک کہ معاشرے کے پڑھے لکھے افراد نے بھی اس کی علمی ، فکر ی حیثیت پر کم کم ہی توجہ دی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ہم قرآن کریم کی حقیقی ضرورت سے نابلد ہیں ۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ قرآن کریم محض ایک مذہبی کتاب نہیں بلکہ عربی زبان و ادب کا وہ معجزہ ہے جس نے زبان، فکر، بیان اور اسلوب ہر سطح پر انسانی فکری نظام کی تشکیل میں اہم کردار ہی ادا نہیں کیا بلکہ ادبیات کو بھی ایک نئی جہت دی۔ اس کے ادبی اور فکری اسلوب کا تجزیہ کئی زاویوں سے کیا جا سکتا ہے۔اگر قرآنی اسلوب کی بنیادی خصوصیات پر غور کیا،جائے توقرآن کریم کا اسلوب نہ تو مکمل طور پر شاعری ہے، نہ عام نثر، بلکہ ایک منفرد الوہی اسلوب ہے جو دونوں سے بلند تر اور مختلف ہے۔اسی طرح قرآن کریم کے اختصار اور جامعیت کو توجہ کا مرکز و محور بنایا جائے تو اس کے ہر ہر لفظ میں وسیع معانی سمائے ہوئے ہیں ہے۔ ایک چھوٹی سی آیت میں پورا فکری نظام، اخلاقی اصول اور قانونی ہدایت حسن تدبیر کے ساتھ موجود ملتی ہے۔یعنی چند الفاظ میں پوری انسانی تاریخ، اخلاق اور انجامِ کار بیان کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح قرآن کریم کے صوتی آہنگ اور آیات کی ساخت پر غور کیا جائے تو ایک غیر معمولی آہنگ نکھر کر سامنے آتا،ہے ہے۔
الفاظ کی تکرار وقفے اور صوتی ہم آہنگی اور قافیہ نما اختتام ،یہ خصوصیات تلاوت کے وقت دل و دماغ پر گہرا اثر ڈالتی ہیں۔اگر اسلوب میں تنوع کا اندازہ کیا جائے تو قرآن ایک ہی طرز پر قائم نہیں رہتا بلکہ ،کبھی نرم اور رحمت بھرا لہجہ اورکبھی سخت تنبیہی انداز،کبھی دلیل اور منطق کبھی تمثیل اور استعارے کا اسلوب اختیار کرتا ہے۔ جو مطالعہ کرنے والے قاری کو ذہنی طور پر بیدار رکھتا ہے۔اسی طرح اگر قرآن مجید کے فکری اسلوب (Intellectual Style)کو موضوع بنایا جائے تو ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن کریم جذباتی خطاب کی بجائے عقلی اور منطقی استدلال یعنی دلیل ،مشاہدہ اور کائناتی شواہدکو بنیاد بنا کر انسان کو سوچنے کی طرف مائل و مجبور کرتا ہے۔مثلاً ’’ افلا تعقلون‘‘(کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟) یہ فکری بیداری کا اسلوب ہے۔قرآن کا فکری دائرہ انسان سے بڑھ کر پوری کائنات تک پھیلا ہوا ہے،آسمان و زمین کی تخلیق،رات دن کا نظام،انسانی نفس کی ساخت یہ اسے ایک کاسمک فلسفہ فراہم کرتا ہے۔اسی طرح قرآن کا فکری اسلوب صرف نظری نہیں بلکہ عملی ہے۔عدل و انصاف ،حقوق العباد،معاشرتی توازن،ظلم کی نفی۔یہ سب ایک مکمل تہذیبی نظام کی تشکیل کا سامان ہے۔جو قرآن کریم میں بطریق احسن سمایا ہوا ہے۔اس پر مستزاد یہ کہ قرآن کریم فکری حقائق کو سمجھانے کے لئے تمثیلات استعمال کرتا ہے،روشنی اور اندھیرا (ہدایت اور گمراہی)بارش اور زمین (ایمان کی نشوونما) اور اہم تصورات کو ذہن نشین کرانے کے لئے تکرار کا پیرایہ،مختلف انداز میں اختیار کرتا،ہے۔ قرآن کریم میں خالق کائنات نے اپنے اور انسان کے درمیان خطاب،انبیاء اور اقوم کے مکالمے اورسوال و جواب کا اسلوب زینت قرآن ہے جو قرآنی فکر کو زندہ اور متحرک بناتا ہے۔قرآنی اسلوب کی سب سے بڑی خصوصیت اس کا اثر ہے یعنی یہدل کو جھنجھوڑتا ہے،عقل کو بیدار کرتا ہے اور روح پر اثر انداز ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ عربی زبان کے بڑے بڑے ادباء بھی اس کی نظیر پیش نہ کر سکے۔قرآن کریم کا ادبی اور فکری اسلوب ایک ایسا منفرد امتزاج ہے جس میں لسانی جمالیات ،فکر کی گہرائی اور بیان کی تاثیر سب یکجا ہو جاتے ہیں۔ یہی اسے انسانی ادب کی تمام اصناف سے ممتاز اور اعلی و ممیز بناتا ہے۔ قرآن کریم کے اسلوب میں ایک فطری کشش پائی جاتی ہے جو انسان کے تمام تر عقلی تقاضوں کے معیار پر پوری اترتی ہے ۔اسی کشش کا معجزہ ہے کہ چودہ سو سال گزر جانے کے باوجود قرآ ن ایک زندہ کتاب کے طور پر دنیا میں محفوظ و موجود ہے اس کے کسی لفظ تو کیاحرکت میں بھی تبدیلی رونما نہیں ہوسکتی۔اس کا دیا ہوا فکری نظام آج بھی انسان کے لئے امکانات کے وہ در کھلے رکھے ہوئے ہے جو امن و امان اور انسانی خوشحالی کی ضمانت ہیں ۔
قرآن کریم کی ایک اور نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ انسان کو محض ماضی کے قصوں میں الجھانے کے بجائے تاریخ سے سبق حاصل کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ انبیائے کرام اور گزشتہ اقوام کے واقعات کو بیان کرتے ہوئے اس کا مقصد محض داستان گوئی نہیں بلکہ انسانی فکر کی رہنمائی اور کردار سازی ہے۔ قرآن بار بار یہ باور کراتا ہے کہ قوموں کے عروج و زوال کے اسباب ایک جیسے ہوتے ہیں اور جو معاشرے عدل، دیانت اور اخلاقی اقدار کو اپناتے ہیں وہ ترقی کی منازل طے کرتے ہیں جبکہ ظلم، تکبر اور ناانصافی کو شعار بنانے والی اقوم تاریخ کی بھول بھلیوں میں گم ہو جاتی ہیں۔قرآن کریم انسان کو علم کے حصول، تحقیق اور تدبر کی ترغیب دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی تہذیب کے سنہری ادوار میں سائنس، فلسفہ، طب، فلکیات اور ریاضی کے میدانوں میں غیر معمولی ترقی دیکھنے میں آئی۔ قرآن نے انسان کے اندر سوال کرنے، غور و فکر کرنے اور کائنات کے اسرار جاننے کا جذبہ پیدا کیا۔ اس کی متعدد آیات انسان کو زمین و آسمان، سمندروں، پہاڑوں اور انسانی تخلیق کے مراحل پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہیں۔مزید برآں قرآن کریم انسان کے ظاہر اور باطن دونوں کی اصلاح کا اہتمام کرتا ہے۔ یہ صرف قوانین اور احکامات کا مجموعہ نہیں بلکہ دلوں کی تطہیر، نیتوں کی اصلاح اور روحانی ارتقا کا ایک مکمل دستور العمل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی تعلیمات فرد کی شخصیت کو سنوارنے کے ساتھ ساتھ ایک متوازن اور مہذب معاشرے کی تشکیل میں بھی بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔عصر حاضر میں جب انسان فکری انتشار، اخلاقی بحران اور روحانی بے چینی کا شکار ہے، قرآن کریم کا پیغام پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ یہ انسان کو اعتدال، برداشت، انصاف، محبت اور انسانی احترام کا درس دیتا ہے۔ قرآن کا مطالعہ اگر محض ثواب کی نیت سے آگے بڑھ کر فہم و تدبر کے ساتھ کیا جائے تو یہ نہ صرف فرد کی فکری دنیا کو بدل سکتا ہے بلکہ اجتماعی سطح پر ایک بہتر، منصفانہ اور پرامن معاشرے کی بنیاد بھی بن سکتا ہے۔درحقیقت قرآن کریم ایک ایسی ابدی کتاب ہے جو ہر دور کے انسان سے مخاطب ہوتی ہے۔ اس کا ادبی حسن، فکری وسعت، علمی گہرائی اور روحانی تاثیر آج بھی اسی طرح زندہ ہے جیسے نزولِ قرآن کے وقت تھی۔ یہی وہ عالمگیر خصوصیات ہیں جنہوں نے قرآن کریم کو زمان و مکان کی حدود سے ماورا ایک دائمی سرچشم ہدایت بنا یا۔ اس کے پیغام کو سمجھنا، اس پر غور کرنا اور اسے اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی کا حصہ بنانا ہی حقیقی کامیابی اور فلاح کا راستہ ہے۔