Search
Close this search box.
پیر ,15 جون ,2026ء

شطرنج یاکربلا؟فیصلہ کن مرحلہ

(گزشتہ سے پیوستہ)
ایک بڑے معاہدے کی راہ اس ریگستان کی مانند ہے جہاں دورسے پانی نظرآتاہے مگرقریب جاکر وہ محض سراب ثابت ہوتاہے۔پہلاہدف جنگ بندی کوقائم رکھناہے،مگراعتمادکی کمی اورباہمی شکوک اس راہ کو کٹھن بنادیتے ہیں۔پہلاقدم جنگ بندی کوبرقرار رکھنا ہے،مگریہ بھی آسان نہیں۔اعتمادکافقدان،ماضی کے تجربات،اورباہمی بدگمانیاں اس راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں اورمفادات کاتصادم ہرکوشش کوناکام بنا دیتاہے۔معاہدہ صرف دستاویزنہیں ہوتا،بلکہ اعتمادکا مظہر ہوتاہے اورجب اعتمادمفقودہوجائے تومعاہدے محض کاغذی رہ جاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ایران کسی بھی معاہدے کوشک کی نگاہ سے دیکھتاہے،ایران کو خدشہ ہے کہ کوئی بھی معاہدہ وقتی ہوگااورامریکا اسے کسی بھی وقت توڑسکتا ہے،جیساکہ ماضی میں ہواجبکہ امریکاایران کے عزائم پریقین نہیں کرتا۔امریکاکویقین نہیں کہ ایران اپنے وعدوں پرقائم رہے گا۔یہ صورتحال ایک ایسے شطرنجی کھیل کی مانندہے جہاں دونوں فریق اگلی چال سے خوفزدہ ہیں۔
لبنان اس پورے بحران میں ایک ایسامیدان بن چکاہے جہاں بڑی طاقتیں بالواسطہ طورپرآمنے سامنے ہیں۔بیروت پرحملوں کی بازگشت نے اس بحران میں ایک نیازاویہ پیداکر دیاہے۔یہ جدید جنگوں کاایک نیاانداز ہے،جہاں ریاستیں خودلڑنے کی بجائے اپنے اتحادیوں کے ذریعے جنگ لڑتی ہیں۔اگرچہ وقتی طورپراسرائیل نے کچھ نرمی دکھائی، مگرجنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھ کراس نے واضح کردیاکہ اس کی پالیسی تضاد سے بھرپورہے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھ کراس نے واضح کردیاکہ اس کی حکمت عملی ’’دباؤ برقرار رکھو‘‘ ہے۔ایک ہاتھ سے امن کااشارہ اوردوسرے سے جنگ کی ضرب،گویا اسرائیل اس وقت خطے میں منافقانہ دوہری پالیسی پرعمل کررہاہے۔
نیتن یاہو کانقطہ نظرانتہائی واضح ہے،ایران کوکمزورکرو،چاہے اس کے لئے سفارتی عمل کونقصان ہی کیوں نہ پہنچے۔اس کے نزدیک سفارت کاری ایک کمزوری ہے اورطاقت ہی واحد زبان ہے اوروہ کسی بھی سفارتی پیش رفت کواپنے مفادات کے خلاف سمجھتے ہیں۔ ایران اورامریکاکے درمیان کسی بھی معاہدے کو وہ اسرائیل کے لئے خطرہ سمجھتے ہیں،گویاامن ان کے لئے ایک ایساسایہ ہے جس میں انہیں اندھیرا نظر آتا ہے۔ ایران کی حزب اللہ کے ساتھ وابستگی محض سیاسی نہیں بلکہ نظریاتی ہے۔یہ تعلق اس تصورپرمبنی ہے کہ ظلم کے خلاف مزاحمت ایک دینی فریضہ ہے۔تہران بارہایہ واضح کر چکا ہے کہ جب تک اسرائیلی حملے جاری رہیں گے،کسی وسیع معاہدے کی امیدعبث ہے۔یہ شرط سفارتی عمل کومزید پیچیدہ اورایک بندگلی میں لے آتی ہے۔
آبنائے ہرمزدنیاکی توانائی کی شہ رگ اور ترسیل کامرکزی دروازہ ہے۔اس کی بندش گویاعالمی معیشت کے لئے ایک دھچکا ہے جواقوام عالم کی نبض کوتھام لینے کے مترادف ہے جس نے عالمی معیشت کوہلاکررکھ دیا ہے۔ اس کی بندش نے دنیاکویہ احساس دلایاہے کہ جغرافیہ بھی ایک ہتھیارہوسکتاہے۔ایران نے اس حقیقت کا بخوبی استعمال کرکے اسے ایک تزویراتی ہتھیارکے طورپراستعمال کرتے ہوئے دنیا کو یہ پیغام دیاہے کہ وہ صرف دفاعی نہیں بلکہ اقتصادی محاذ پر بھی جواب دینے کی صلاحیت رکھتاہے۔تیل اورگیس کی رسد میں بیس فیصد کمی نے عالمی منڈیوں کوہلاکررکھ دیاہے جس نے دنیابھرکی معیشتوں کولرزادیاہے۔مہنگائی کا طوفان،صنعتی سست روی اوراقتصادی بے یقینی نے دنیاکوایک نئے بحران کے دہانے پرلاکھڑاکیا ہے۔ اگریہ صورتحال برقراررہی تو خوفناک عالمی کساد بازاری کاخطرہ بڑھ سکتاہے جس کے اثرات دہائیوں تک محسوس کئے جاسکتے ہیں۔
یہ بحران صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدودنہیں رہابلکہ اس نے پوری دنیاکومتاثرکیاہے۔تیل کی قیمتوں میں اضافہ،مہنگائی اوراقتصادی بے یقینی نے عالمی نظام کوہلاکر رکھ دیاہے۔تیل کی قیمتوں میں اضافہ،سپلائی چین میں خلل اورسرمایہ کاروں کاعدم اعتمادیہ سب عالمی معیشت کومتاثرکررہے ہیں۔یہ بحران اگرطول پکڑتاہے تواس کے اثرات دہائیوں تک محسوس کیے جاسکتے ہیں۔
ٹرمپ نے اس جنگ کوایک آسان فتح اور ایک سیاسی موقع سمجھاتھا،مگراب یہ ایک بوجھ بن چکی ہے۔ان کے فیصلوں نے نہ صرف خطے کوبلکہ ان کی اپنی سیاسی حیثیت کوبھی خطرے میں ڈال دیاہے۔اب وہ خوداس کے پیچیدہ نتائج میں الجھ چکے ہیں۔یہ ایک ایساجال ہے جس میں شکاری خودشکاربن گیاہے۔گویاٹرمپ اس وقت ایک ایسے دوراہے پرکھڑے ہیں جہاں ہرراستہ مشکل ہے۔ اگروہ پیچھے ہٹتے ہیں توکمزوری کاتاثر پیدا ہو گا، اوراگر آگے بڑھتے ہیں توجنگ شدت اختیارکرسکتی ہے۔ ٹرمپ ایک ایسے جال میں پھنس چکے ہیں جسے انہوں نے خودبناتھا۔
امریکاکے اندراس جنگ کی مخالفت بڑھ رہی ہے اورحالیہ اامریکی اسرائیلی جارحیت کے خلاف آوازیں بلندہورہی ہیں۔عوامی رائے، میڈیاکی تنقید، سیاسی دبائو اورپارٹی کے اندر اختلافات نے صورتحال کومزیدپیچیدہ بنادیاہے جوٹرمپ کے لئے ایک نئی آزمائش بن چکے ہیں جواس بات کاثبوت ہے کہ جمہوریت میں طاقت کا استعمال ہمیشہ سوالات کوجنم دیتاہے ،ٹرمپ اوباماکے معاہدے سے خودکوالگ دکھاناچاہتے ہیں،وہ ہرگزنہیں چاہتے کہ ان کی پالیسی کاموازنہ اوباماکے2015ء کے معاہدے سے کیاجائے،جسے اوبامانے تسلیم کیاتھا کہ ایران کومکمل طورپردباناممکن نہیں۔ٹرمپ کی پالیسی چاہے جتنی مختلف ہو،مگرحقیقت یہ ہے کہ وہ اسی دائرے میں گھوم رہے ہیں فرق صرف اندازکاہے،انجام کا نہیں۔ ایران کے لئے یہ جنگ محض جغرافیہ کانہیں بلکہ نظریہ کا مسئلہ ہے۔نصف صدی کی پابندیوں اورجنگوں نے اسے ایک سخت جان قوم بنادیاہے،جوآسانی سے جھکنے والی نہیں۔اس کی تاریخ مزاحمت سے بھری ہوئی ہے، اور یہی مزاحمت اس کی سب سے بڑی طاقت اورصبرواستقا مت کی ایک مثال بن چکاہے۔قرآن کہتا ہے:بے شک اللہ صبرکرنے والوں کے ساتھ ہے۔
عرب ممالک اس بحران سے شدیدمتاثر ہوئے ہیں۔ان کی معیشتیں استحکام کی متقاضی اورامن کی محتاج ہیں،اوروہ مزیدنقصان کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ ان کے ترقیاتی منصوبے امن کے مرہونِ منت ہیں۔ اس وقت ایک نازک توازن قائم رکھنے کی کوشش کررہے ہیں۔وہ نہ مکمل طور پرامریکاکے ساتھ جاسکتے ہیں،نہ ایران کے خلاف کھل کرمیدان میں آ سکتے ہیں۔دوسری طرف قطر اورپاکستان کی کوششیں قابلِ ذکر اورعالمی امن کے لئے ایک امیدکی کرن ہیں،جواس بات کاثبوت ہے کہ ابھی بھی دنیامیں ایسے عناصرموجودہیں جوجنگ کے بجائے امن کوترجیح دیتے ہیں مگریہ راستہ آسان نہیں۔ان دونوں ممالک کی ثالثی اس بحران میں ایک مثبت پیش رفت ہے۔مگ مختلف علاقائی طاقتوں کے مفادات اس عمل کو پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔قطراورپاکستان کی کوششیں قابلِ ذکرہیں،مگر یہ راستہ آسان نہیں۔
سعودی عرب کاکرداراس بحران میں ایک نیا موڑلے چکاہے،جومستقبل میں مزیدپیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔سعودی عرب کاایران پرحملہ ایک نئی پیش رفت ہے،جس نے اس تنازع کومزیدالجھادیاہے۔ان کا دعویٰ ہے کہ یہ ردعمل تھا،مگراس کے اثرات دوررس ہوں گے اوریہ تبدیلی مستقبل میں خطے کی سیاست پرگہرے اثرات ڈال سکتی ہے۔ٹرمپ اور نیتن یاہونے ایران کی طاقت کوکم سمجھا۔مگرتاریخ نے بارہا ثابت کیاہے کہ وہ قومیں جوآزمائشوں سے گزرتی ہیں،وہ فولادبن جاتی ہیں وہ آسانی سے شکست نہیں کھاتیں۔ایران بھی انہی میں سے ایک ہے۔ اگردانشمندی،تدبراورمکالمے کوترجیح دی گئی تو یہ آگ بجھ سکتی ہے ،ورنہ اس کی لپٹیں پوری دنیاکواپنی گرفت میں لے سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں